وزارت دفاع
دفاعی سیکٹر میں ایف ڈی آئی
Posted On:
16 MAR 2020 2:54PM by PIB Delhi
نئی دہلی،16؍مارچ،دفاعی صنعت کے سیکٹر کو مئی 2001 میں ، جو اُس وقت تک سرکاری سیکٹر کے لئے ہی مخصوص تھا، بھارت کے پرائیویٹ سیکٹر کی شراکت داری کے لئے 100 فیصد کھول دیا گیا، جس میں لائسنس کی شرط کے ساتھ 26 فیصد کی براہ راست بیرونی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی اجازت دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ کامرس اور صنعت کی وزارت کے صنعت اور اندورنی تجارت کے فروغ کے محکمے نے 2016 میں پریس نوٹ نمبر : 5 کے ذریعے خود کار طریقے سے 49 فیصد کی ایف ڈی آئی اور حکومت کی منظوری کے ذریعے 49 فیصد سے زیادہ کی ایف ڈی آئی کو منظوری دی گئی۔ یہ منظوری ایسے پروجیکٹوں کے لئے تھی جس میں جدید ٹیکنالوجی تک رسائی یا کسی دوسری وجہ سے اس کی اجازت دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ دفاعی صنعت کے سیکٹر میں ایف ڈی آئی کی اجازت صنعتی ترقی اور ریگولیشن قانون – 1951 اور ہتھیاروں سے متعلق قانون – 1959 کے تحت چھوٹے ہتھیار اور گولی بارود کی تیاری کے لئے لائسنس کے ذریعے اجازت دی گئی تھی۔ دفاع کے سیکٹر میں زیادہ ایف ڈی آئی کی اجازت دینے سے جدید ترین ٹیکنالوجی رکھنے والی عالمی کمپنیوں کو بھارتی کمپنیوں کے اشتراک سے بھارت میں اپنے مینوفیکچرنگ یونٹ قائم کرنے کی حوصلہ افزائی ہوسکتی ہے۔ جس کے نتیجے میں زر مبادلہ کی بچت اور ملک میں ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ روز گار کے مواقع میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ایف ڈی آئی دفاعی صنعت کے لئے دستیاب ایک ایسا وسیلہ ہے جس کے ذریعے ملک میں تیار کئے جانے والے ڈیزائن ، ترقی اور سازو سامان ، ہتھیاروں کے نظام ؍ پلیٹ فارم وغیر کی ضرورت کو پورا کیا جاسکتا ہے۔ دفاع اور ایرو اسپیس کے سیکٹر میں کام کرنے والی 37 کمپنیوں کے ذریعے پیش کئے گئے اعداد وشمار کے مطابق 2014 کے بعد سے اب تک دفاع اور ایرو اسپیس کے سیکٹر میں خود کار طریقے سے 1561 کروڑ روپے کی ایف ڈی آئی حاصل ہوئی ہے۔
حکومت دفاع سمیت سبھی سیکٹروں میں ایف ڈی آئی کی پالیسی پر مسلسل نظر ثانی کرتی ہے اور وقتا فوقتا اس میں تبدیلی کرتی ہے تاکہ بھارت کو ایک پسندیدہ اور سرمایہ کاروں کے لئے بہتر مقام کے طور پر بنائے رکھنے کو یقینی بنایا جاسکے۔ حکومت کی یہ کوشش رہی ہے کہ وہ ایک بہتر اور سرمایہ کار دوست ایف ڈی آئی پالیسی کو نافذ کرے۔ اس کا مقصد ایف ڈی آئی پالیسی کو زیادہ سرمایہ کار دوست بنانا اور پالیسی کی ایسی خامیوں کو دور کرنا ہے جن سے ملک میں سرمایہ کاری کی آمد میں رکاوٹ آتی ہو۔
وزارت دفاع میں وزیر مملکت جناب سری پد نائک نے آج راجیہ سبھا میں جناب دھیرج پرساد ساہو کے ایک تحریری سوال کا جواب دیتے ہوئے ایوان کو یہ معلومات فراہم کیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۰۰۰۰۰۰۰۰
(م ن-وا- ق ر)
U-1245
(Release ID: 1606562)
Visitor Counter : 141