زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت

زرعی آراضی میں کمی  

Posted On: 03 MAR 2020 8:24PM by PIB Delhi

نئی  دہلی  04 مارچ 2020 ۔زراعت اورکسانوں کی فلاح وبہبودکے مرکزی وزیر جناب نریندرسنگھ تومر نے آج لوک سبھا میں  ایک سوال کے تحریری جواب میں مندرجہ ذیل اطلاع فراہم کی۔

          زراعت ،تعاون اور کسانوںکی فلاح وبہبود کا محکمہ ہر پانچ سال کے بعد زرعی جائزے کا کام انجام دیتا ہے ،جس کے تحت  زراعت کے شعبے میں ڈھانچہ جاتی خصوصیات کے بارے میں اعدادوشمار جمع کرنا ہوتا ہے،جس میں ملک میں زیر کاشت رقبے کا جائزہ بھی  شامل ہوتا ہے۔  زرعی  جائزے سے حاصل شدہ  تازہ ترین معلومات کے مطابق  زیر کاشت  رقبے کا سائز جو 71-1970  میں 2.28  ہیکٹئیر تھا۔81-1980  میں کم ہوکر 1.84  ہیکٹئیر رہ گیا اورجو96-1995 میں   1.41  ہیکٹئر تھا وہ 16-2015  میں  1.08  ہیکٹئیر رہ گیا۔

          ماضی  میں زرعی رقبے کے سائز میں  کمی کے رجحا ن کو دیکھتے ہوئے اور روز بہ روز بڑھتی ہوئی آبادی کو دیکھتے ہوئے رقبے میں کمی کا سلسلہ  جاری رہے گا اور اس میں  کیرالہ سمیت  ملک کے دوسرے حصوںمیں  بھی کمی آجائے گی۔

          چھوٹے رقبے کو زیادہ فائدہ مندبنانے وار زرعی آمدنی کو بڑھانے میں  مددکے مقصدسےحکومت نے بہت سے اقداما ت کئے ہیں،  جن میں جدید ٹکنالوجی  کو اپنانے اور زراعت کے نئے طریقوںکا استعمال شامل ہے۔ مثلاََ  کئی فصلیں  اگانا ،  دوفصلوں کے درمیان ایک ذیلی فصل اگانا اور مربوط  زرعی نظام وغیرہ ۔انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ  (آئی سی اے آر ) تحقیقی پروگرام چلا رہی ہے ،جس میں یہ دیکھا جاتاہےکہ کس مخصوص جگہ پرکون سی فصل زیادہ مفید رہے گی اور پیداوار نیز پیداواری زرعی رقبے کو بڑھانے کے لئے نئی ٹکنالوجیوں  کااستعمال ، کسانوں  کو ( جن میں چھوٹے اور برائے نام زمین رکھنے والے کسان  شامل ہیں)  حکومت کے اقدامات اور پروگراموں  کے ذریعہ مدد فراہم کی جاتی ہےمثلاََ  سود میں معاونت کی اسکیم  ، مشن فار انٹگریٹڈ ڈیولپمنٹ  آف ہارٹیکلچر ( ایم آئی ڈی ایچ )  نیشنل فوڈ سکیورٹی مشن ( این ایف  ایس ایم ) نیم کی پرت والا یوریا  ،  پردھان منتری کرشی سینچائی یوجنا ( پی ایم کے ایس وائی ) پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا ( پی ایم ایف  بی وائی ) نیشنل مشن فار سسٹین ایبل  ایگریکلچر                                      ( این ایم ایس  اے )وغیرہ ۔

          خراب موسم ،بارش ، موسمی حالات  اور قدرتی آفات وغیرہ والے برسوںکو  چھوڑ کر ملک میں زرعی فصلوںکی  پیداوار اور پیداواریت                                                                       ( فی ہیکٹئیر پیداوار ) میں  عام طور پر اضافہ ہورہا ہے، جیسا کہ نیچے کی فہرست سے ظاہر ہوتا ہے ۔

 

 

اناج کی کل ہند پیداوار

نمبرشمار

سال

پیداوار

(ملین ٹن)

1

2000-01

196.81

2

2005-06

208.60

3

2010-11

244.49

4

2015-16

251.54

5

2016-17

275.11

6

2017-18

285.01

7

2018-19

285.21

8

2019-20

291.95*

 

 

  • دوسرا پیشگی اندازہ ۔

اس طر ح سے اس  بات کا کوئی حتمی ثبوت موجودنہیں ہے ،جس سے پتہ چلے کہ زیر کاشت رقبے کے بکھراؤ سے زرعی  فصلوں /  پیداوار پر کوئی برا اثر پڑا ہے۔

U-1017



(Release ID: 1605087) Visitor Counter : 14


Read this release in: English