زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
جناب نریندر سنگھ تومر نے پوسا کرشی وگیان میلہ-2020 کا افتتاح کیا
جناب تومر نے زراعت میں صلاحیت برقرار رکھنے کو کہا
Posted On:
01 MAR 2020 7:03PM by PIB Delhi
زراعت اور کسانوں کے بہبود، دیہی ترقی اور پنچایتی راج کے مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ تومر نے زراعت میں صلاحیت برقرار رکھنے کو کہا۔ پوسا کرشی وگیان میلہ-2020 کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت میں زرعی سائنسدانوں اور ان ماہرین کا ایک بڑا اجتماع موجودہے جن کا تعلق یونیورسٹیوں سے گریجویشن کرنے والوں سے ہے۔ انہوں نےیہ بھی کہا ‘کہ حکومت فنڈز، سبسڈیز اور ترغیبات فراہم کرسکتی ہے، لیکن زراعت میں دلچسپی ضروری ہے، اس کے لیے زراعت کو ایک منافع کے قابل پروجیکٹ بنانا ہوگا، جس سے قوم کی ضرورتیں پوری ہوں اور جس سے جی ڈی پی میں تعاون ملے۔ نیز برآمدات میں اضافہ ہو۔
جناب تومر نے کہا ‘پیشہ وارانہ زندگی کا مقصد روزگار حاصل کرنے یا تعلیم و تحقیق میں مصروف رہنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ آپ کو اپنے علاقے میں ایک کامیاب کسان بننا چاہیے۔ بلکہ وہ ماہرین زراعت جو ہرسال ریٹائر ہوتے ہیں، انہیں زراعت میں مصروف رہنا چاہیے اور دیگر لوگوں کے لیے جذبے کا وسیلہ بننا چاہیے۔ آپ کے اندر ایک کسان برقرار رہنا چاہیے۔ آپ کو اپنے خالی وقت میں اپنے کچن گارڈن میں کام کرنا چاہیے۔ اس سے آپ زراعت سے ایک پیشے کے طور پر وابستہ رہیں گے۔


جناب تومر نے کہا کہ وزیراعظم جناب نریندر مودی نے زراعت کو ترجیح دی ہے اور 2022 تک کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کا نشانہ طے کیا ہے۔ جناب تومر نے کہا کہ وزیراعظم نے کل معاون زراعت کو فروغ دینے کی خاطر 10 ہزار نئی فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز کے اندراج کا آغاز کیا ہے۔ ہر ایف پی او کو زراعت سے متعلق سبھی سرگرمیوں کے لیے 15-15 لاکھ روپے کی رقم فراہم کرنے کے لیے 6 ہزار 600 کروڑ روپے کا بجٹ مقرر کیا ہے۔ان زرعی سرگرمیوں میں بیج بونا، فصل کاٹنا، فصل کی تقسیم کرنا اور اس کی مارکیٹنگ کرنا شامل ہے۔
جناب تومر نے کہا کہ جغرافیائی تنوع اور آب و ہوا میں تبدیلی ہماری زرعی برادری کے لیے ایک چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت 8 زونوں میں سے ہر ایک میں ایک بڑی کانفرنس کے انعقاد کے عمل میں ہے۔ وزیرموصوف نے کہا کہ پوسا کرشی وگیان میلے کی طرز پر فیڈ نمائشوں کا اہتمام بھی کیا جانا چاہیے۔ وزیراعظم نے ہدایت دی کہ جراثیم کش دواؤوں کا مطالعہ بھی زرعی نصاب میں شامل کیا جائے۔


اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر مملکت جناب پروشوتم روپالا نے اس طرح کے کسان میلے ہر ریاست میں منعقد کرنے کے لیے کہا۔ انہوں نے زرعی اداروں اور سائنسدانوں سے زور دے کر کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عمدہ قسم کے بیج کسانوں کو مناسب قیمتوں پر فراہم کرائے جائیں۔

یہ اشارہ دیتے ہوئے کہ حکومت زور زرعی ادار ے زراعت کو فروغ دینے کے تئیں عہدبند ہے، زراعت اور کسانوں کے بہبود کے وزیر مملکت جناب کیلاش چودھری نے امید ظاہر کی کہ ایک دن آئے گاکہ جب کسان قرض دار نہیں رہیں گے، بلکہ وہ قرض دینے والے بن جائیں گے۔

زرعی تحقیق و تعلیم کے محکمے کے سکریٹری اور آئی سی اے آر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ترلوچن مہاپاترا نےاپنے خطاب میں کہا کہ کسان وگیان میلے میں بڑی تعداد میں کسانوں نے حصہ لیا اور آئی سی اے آر اداروں کے تیار کردہ عمدہ کوالٹی والے بیج خریدے۔
اس موقع پر جناب تومر اور دیگر شخصیتوں نے آئی سی اے آر پبلی کیشن بھی جاری کیا۔


ایک الگ تقریب میں آئی سی اے آر اور پتنجلی بائیوریسرچ انسٹی ٹیوٹ ( پی بی آر آئی) کے درمیان تین وزیروں کی موجودگی میں ہری دوار میں دستخط کیے گئے۔ اس مفاہمت نامے پر دستخط آئی سی اے آر کی طرف سے ڈاکٹر ترلوچن مہاپاترا اور پتنجلی کے چیف ایگزیکیٹیو آفیسر ( سی ای او) اور پی بی آئی آر کے منیجنگ ڈائریکٹر شری آچاریہ بال کرشن نے کیے۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے جناب تومر نے کہا کہ اس مفاہمت نامے سے آئی سی اے آر کے تحقیق و ترقی کے ماہرین کے ساتھ نامیاتی زراعت اورپتنجلی کی ملک میں ہی مصنوعات تیار کرنے کی کوششوں کو فروغ حاصل ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
م ن ۔اس۔ ت ع۔
U-977
(Release ID: 1604811)
Visitor Counter : 126