وزیراعظم کا دفتر
وارانسی میں پنڈت دین دیال اپادھیائے میموریل سینٹرکو قوم کے نام وقف کرنے کی تقریب میں وزیراعظم کے خطاب کا متن
प्रविष्टि तिथि:
16 FEB 2020 4:00PM by PIB Delhi
ہرہر مہادیو !!!
مہاشوراتری ، رنگ بھری ایکادشی اَوُر ہولی کا آپ سب کے بہت بدھائی ہَو!
یہاں بڑی تعداد میں آنے والے میرے بھائیو اور بہنو!
ماں گنگا کے کنارے پر آج ایک عجیب اتفاق دیکھنے میں آرہا ہے ۔اودھوت بابا بھگوان رام کی تپو ستھلی اس پار ہے اور اب دین دیال اپادھیائے جی کی یادگار کا مقام بھی گنگا پار علاقے میں فروغ پاگیا ہے ۔
ساتھیو!
ماں گنگا جب کاشی میں داخل ہوتی ہے تو وہ آزاد ہوکر اپنی دونوں بانہیں پھیلادیتی ہے ۔ ایک بانھ پرمذہب ، فلسفہ اور روحانیت کی عظیم الشان ثقافت کی نشوونما ہوئی اور دوسری بانھ یعنی اس پار خدمت ،ایثار ،سپردگی اور ریاِِضت مجسم سامنے آئی ہے ۔ اسی کنارے پر سدھ یوگی اودھوت بابا بھگوان رام نے ریاضت اور سادھنا کی روایتی شکل بدل کر خدمت کی ایک نئی تپو ستھلی تیار کی ۔ آج اس علاقے سے دین دیال جی کی یادگار کے مقام کا منسلک ہونا اپنے نام ’پڑاؤ‘ کے بامعنی ہونے کو مستحکم کررہا ہے ۔ایسا پڑاؤ جہاں خدمت ،ایثار ، بےنیازی اور عوامی مفاد سب ایک ساتھ جُڑ کر ایک قابل دید مقام کی شکل میں فروغ پائیں گے ۔ مجھے یقین ہے کہ یہ علاقہ زندگی کے سچے مقصدکو جاننے ،سمجھنے اورانہیں حاصل کرنے کے عز م کا مقام بنے گا۔
ساتھیو!
آج کا یہ دن ان کروڑوں ہندوستانیوں کے لئے خواب پورے ہونے جیسا ہے ، جن کو پنڈت دین دیال اپادھیائے جی ہمیشہ سے تحریک دیتے آئے ہیں۔آج جو ملک کے سب سے بڑے بڑے ریل جنکشنوں میں سے ایک ہے ، وہ ان کی یادگار کے لئے پہلے ہی وقف ہوچکا ہے ۔ اب یہاں جو یہ یادگار کا مقام بنا ہے ، باغیچہ بنا ہے ، ان کا شاندار مجسمہ قائم کیا گیا ہے ،اس سے آنے والی نسلوں کو بھی دیا دیال جی کے کاموں اور خیالات سے تحریک ملتی رہے گی۔
بھائیو اور بہنو!
جن کے دل میں دلت ،مظلوم ،استحصال کا شکار ،محروم ،دبے کچلے معاشرے کے کسی بھی شخص کے لئے درد ہے ، مہربانی ہے ،ایسے سبھی کے لئے یہ مقام تحریک حاصل کرنے کا مقام ہے،ترغیب حاصل کرنے کا مقام ہے ،جو حب الوطنی کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں، جن کی زندگی میں پارٹی سے اوپر ملک ہے ۔اپنے مفاد کے بدلے سبھی کی فکرہے ۔ایسے حب الوطنی کے رنگ میں رنگے ہوئے ملک کے کروڑوں لوگوں کے لئے یہ تیرتھ کا مقام ہے ۔یہاں سے ملک کے لئے جینے کی ، ملک کے لئے جدوجہد کرنے کی اور ملک کے لئے زندگی کھپانے کی تحریک ملتی رہے گی۔ میں آج اس سرزمین کو نمن کرتا ہوں ۔اس پاکیزہ روح کو نمن کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ دین دیال جی کی روح جہاں بھی ہوگی وہاں مسلسل آشیرواد دیتی رہتی ہے ، ہمیں مسلسل تحریک دیتی رہتی ہے ، کیونکہ ہم سماج کے آخری کنارے کے شخص کے لئے سماج کے دبے کچلے شخص کے لئے ،دلت ،مظلوم ،استحصال کا شکار محروم لوگوں کے لئے ہم اپنی زندگی کھپائیں ، ان کی خدمت کے لئے ہمیں جو بھی ذمہ داری ملی ہے ،اس کو پورا کریں ۔
ساتھیو!
دین دیال اپادھیائے جی نے ہمیں انتیودیہ کی راہ دکھائی ہے یعنی جو معاشرے کی آخری لائن میں ہے ، اس کا اودے 21ویں صدی کا بھارت ، اسی خیال سے تحریک لیتے ہوئے انتیودیہ کے لئے کام کررہا ہے ، جو ترقی کی آخری پائیدان پر ہے ،اسے ترقی کی پہلی پائیدان پر لانے کے لئے کام ہورہا ہے ۔چاہے وہ پوروانچل ہو ، مشرقی ہندوستان ہو ،شمال مشرق ہو،ملک کے 100سے زیادہ خواہشمنداضلاع ہوں ، تمام علاقوں میں ترقی کے بے مثال کام ہورہے ہیں ۔اسی کڑی میں آج اس مبارک موقع پر وارانسی سمیت پورے پوروانچل کو فائدہ پہنچانے والے تقریباََ 1200 کروڑروپے سے بھی زیادہ کے پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کیا جائے گا اور ان کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ اس میں بڑے اسپتال بھی ہیں ،اسکول اورتعلیمی ادارے بھی ہیں ،سڑکیں بھی ہیں ،فلائی اوور بھی ہیں ، پانی کی اسکیمیں بھی ہیں ، پارک بھی ہیں ،شہر کو مزید خوبصورت بنانے والے پروجیکٹ بھی ہیں ، عام لوگوں کے لئے صحت ،تعلیم ،سہولت ،عقیدت اور روزگار سے جڑے ان تمام پروجیکٹوں کے لئے میں آپ سبھی کو وارانسی اور پوروانچل کے لوگوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔
یہ تمام پروجیکٹ گزشتہ پانچ برسوں سے کاشی سمیت پروے پوروانچل میں چل رہے کایا پلٹ کے عزم کا ایک اٹوٹ حصہ ہیں۔ ان برسوں میں وارانسی ضلع میں تقریباََ 25000 کروڑروپے کے ترقیاتی کام یا تو پورے ہوچکے ہیں یا کام تیز رفتارسے چل رہا ہے ۔ دیوی اہلّیابائی ہولکر کے بعد اتنے بڑے پیمانے پر کاشی نگری میں ترقی کے کام ہورہے ہیں تو اس کے پیچھے مہادیو کی مرضی ہے ۔ بابابھولے کا ہی آشیرواد ہے ۔ یہ ہم سبھی کی خوش قسمتی ہے کہ بابا نے ان کاموں کے لئے ہم سب کو ذمہ داری دی ہے ۔ذمہ داری سونپی ہے۔ان کاموں کا بہت بڑا فائدہ بنارس سمیت پورے پوروانچل کو مل رہا ہے ۔ خاص طور سے بنیادی ڈھانچے کو لے کر سڑک ،شاہراہ ،واٹر وے ،ریلوے کو سرکار نے اولین ترجیح دی ہے ۔ پوروانچل ایکسپریس وے پر یوگی جی کی ٹیم تیزی سےکام کررہی ہے ۔ بہت جلد اس کا فائدہ پورے علاقے کو ملنے والا ہے ۔
آج یہاں چوکا گھاٹ لہر تارا مارگ پر بنے پُل کو قوم کے نام وقف کیا گیا ہے ۔ پہلے کی صورتحال آپ کو معلوم ہے ۔ چھاونی ریلوے اسٹیشن ہو ، بی ایچ یو ہو ، بس اسٹیشن ہو ، ہوائی اڈہ ہو ، ان تمام مقامات پر آنے جانے میں کتنی پریشانی ہوتی تھی ،کتنا جام لگتا تھا ، اب اس جام سے نجات مل جائے گی۔ یہ چار لین کا پل بننے سے اب لہر تارا- الہ آباد اور چوکا گھاٹ -دین دیال اپادھیائے نگر کا راستہ بھی جُڑ گیا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ الگ الگ گاوؤں کو جوڑنے والی 16سڑکوں کو بھی آج قوم کے نام وقف کیا گیا ہے ۔اس سے پریاگ راج ،مرزا پور ،جونپور ،غازی پور ، اعظم گڑھ ،گورکھپور ، بلیاسے لے کر بہار آنے جانے والوں کو بہت فائدہ ہوگا ،جس کو سارناتھ سمیت تمام دیگر سیاحتی مقامات میں جانا ہے ،ان کو بھی ان راستوں سے سہولت ملے گی۔
ساتھیو!
کاشی سمیت اس پورے علاقے میں ہونے والے کنکٹوٹی کے یہ کام آپ کی سہولت کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع تیار کرنے کے بھی بڑے ذرائع تیار کررہے ہیں ۔ خاص طور سے سیاحت پر مبنی روزگار ،جس کو لے کر کاشی اور آس پاس کے علاقوں میں بہت زیادہ امکان ہے ، ان کو تقویت مل رہی ہے ۔سیاحت ایک ایسا شعبہ ہے ،جس میں ہر درجے ،ہر طبقے کا شخص کم سے کم سرمایہ کاری میں زیادہ سے زیادہ کماتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب بھارت میں پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت کی بات ہورہی ہے ، تو سیاحت اس کا اہم حصہ ہے ۔ بھارت کے پاس تو قدرت کے ساتھ ساتھ وراثتی سیاحت کی بھی بہت بڑی طاقت ہے ، جس کو 21ویں صدی کی شکل دی جارہی ہے ۔خاص طور پر کاشی سمیت ہماری عقیدت سے جڑے تمام مقامات کو نئی ضرورتوں کے مطابق نئی تکنیک کا استعمال کرکے فروغ دیا جارہا ہے ۔سارناتھ کو خوبصورت بنانا ہو ، گنگا جی کے گھاٹوں کو خوبصورت بنانا ہو، آج کاشی آنے والا ہر عقیدت مند ، آنے والا ہر عقدیت مند ، ہر سیاح خوش کن تجربہ لے کر یہاں سے جاتا ہے ۔ کچھ دن پہلے سری لنکا کے وزیراعظم بھی یہاں آئے تھے تو یہاں کے بہترین ماحول ، روحانی احساس سے بہت خوش تھے۔ آپ نے بھی دیکھا ہوگا کہ سوشل میڈیا میں انہوں نے کاشی کے ساتھیوں کی بہت تعریف کی ہے ۔
ساتھیو!
کاشی وشو ناتھ دھام سے جُڑے پروجیکٹوں پر چل رہے کام سے آپ سبھی بخوبی واقف ہیں ، آج بھی یہاں مندر کے احاطے میں بن چکے انّ چھیتر بھون کو قوم کے نام وقف کیا گیا ہے ۔اس بھون کے بننے سے یہاں پرساد کی تقسیم اور عقیدت مندوں کو کھانے کے سلسلے میں ہونے والی پریشانی اب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دور ہوجائے گی۔کاشی وشو ناتھ دھام میں ایسے تمام کام تیزی سے پورے کئے جارہے ہیں ۔ بہت ہی جلد بابا کا روحانی آنگن ایک خوبصورت اور شاندار شکل میں ہم سبھی کے سامنے آئے گا۔اسی طرح ایودھیا میں شری رام جنم بھومی میں بھی عالیشان مندر کی تعمیر کے لئے ٹرسٹ قائم ہوچکا ہے ۔ یہ ٹرسٹ اب شری رام دھام کی تعمیر پر تیزی سے کام شروع کردے گا۔
بھائیو اور بہنو!
ملک بھر میں عقیدت اور روحانیت سے جڑے تمام بڑے مراکز کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ عقیدت مندوں اور سیاحوں کے لئے بھی وہاں آسانیاں فراہم کرائی جارہی ہیں۔ خاص طور پر ان مقامات میں مسلسل کنکٹوٹی عقیدت مندوں کو ملے ، اس کے لئے کام کیا جارہا ہے اور اسی سلسلے میں آج باباوشو ناتھ کی نگری کو اومکاریشور اور مہاکالیشور سے جوڑنے والی کاشی - مہاکال ایکسپریس کو بھی ہری جھنڈی دکھائی گئی ہے۔ اب کاشی میں بابا کے درشن کرنے کے بعد اجین میں مہاکال کے درشن کرپائیں گے اور اسی ٹرین میں آگے بڑھتے ہوئے اندور میں اومکالیشور میں بھی گلہائے عقیدت پیش کرپائیں گے ۔یہی نہیں یہ ریل سروس پریاگ راج ،لکھنؤ ، کانپور ،جھانسی ، بینا ،سنت ہردا رام جیسے مذہبی اور تاریخی اہمیت والے مقامات کو بھی جوڑے گی ۔ یہ مہاشوراتری کے موقع پر بابا کے بھگتوں کو ایک خاص تحفے کی طرح ہے۔
بھائیو اور بہنو !
کاشی ،عقیدت اورروحانیت کے ساتھ ساتھ علم کا بھی اہم مرکز رہا ہے ۔گزشتہ پانچ برسوں میں بی ایچ یو جیسے علم اورسائنس کے بڑے مرکز کی توسیع کی گئی ہے ، آج بھی یہاں ویدک گیان وگیان سے لے کر جدید علم طب سے جڑی متعدد سہولتوں کو قوم کے نام وقف کیا گیا ہے۔ آج وارانسی پوروانچل کا بہت بڑ ا میڈیکل ہب بن کر ابھررہا ہے ۔ یہاں کینسر جیسے سنگین امراض کے جدید علاج کے لئے کئی اسپتال تیار ہوچکے ہیں۔ پہلے جن امراض کے علاج کے لئے دلی اور ممبئی جیسے بڑے شہروں میں جانا پڑتا تھا ، ان کا علاج اب یہیں پر مل رہا ہے۔اس کا بہت بڑافائدہ اترپردیش کے ساتھ ساتھ مشرقی بھارت کے بہت بڑے حصے کو ہورہا ہے ۔ بی ایچ یو میں آج جس سپراسپیشلٹی اسپتال کو قوم کے نام وقف کیا گیا ہے ،اس کا سنگ بنیاد تو 2016 کے آخر میں ، میں نے ہی رکھا تھا۔ صرف 21 مہینے میں 430 بستروں کا یہ اسپتال بن کر کاشی اور پوروانچل کے لوگوں کی خدمت کے لئے تیار ہوا ہے ۔ کبیر چورا میں ضلع مہیلا چکتسالیہ میں 100بستروں کے میٹرنٹی ونگ سے شہر کی خواتین کو بہت مدد ملے گی۔ میں ، یوگی جی اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دوں گا کہ پورے اترپردیش میں میڈیکل کالج اور آیوشمان اسکیم کے تحت ہیلتھ اینڈ ویلنیس سینٹر بنانے کو فوکس کیا جارہا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ پینے کے صاف پانی اور صفائی ستھرائی کو لے کر بھی جو کوششیں گزشتہ دو تین برسوں میں یہاں ہوئی ہیں، اس سے این سیفیلائٹس جیسے امراض سے نمٹنے میں بہت مدد ملی ہے ۔
ساتھیو !
یہ جو کچھ بھی گزشتہ پانچ ساڑھے پانچ برسوں میں ہم نے حاصل کیا ہے ، اب اسے اور تیزرفتار سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ صفائی ستھرائی کو لے کر جو یہ مہم چھیڑی گئی ہے ،اس کو ہمیں جاری رکھنا ہے ، وہیں جل جیون مشن کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں ہر گھرتک پانی پہنچانے کے لئے بھی ہمیں پوری طاقت سے کام کرنا ہے۔ میں آپ کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ اس کام کے لئے نہ تو بجٹ آڑے آئے گا نہ سرکار کے ارادے کمزور ہوں گے ۔ بنارس کے کایا پلٹ کی مہادیو کی مرضی کو ہم سبھی مل کر پورا کریں گے ۔
بھائیو اور بہنو!
بدلتے ہوئے بھارت میں ملک کی ترقی کی کہانی میں نئے باب جوڑنے کا کام بڑے بڑے میٹرو شہروں سے زیادہ بنارس جیسے ٹئیر -2 ، ٹئیر -3 شہر ہی کریں گے ۔دین دیال جی جس طرح انتیودیہ کی بات کرتے تھے ،ویسے ہی ملک کے چھوٹے شہروں کا اودے ملک کی ترقی کو نئی اونچائیوں پر لے جائے گا۔ مرکزی حکومت کی اسکیموں کا بہت زیادہ فائدہ ان چھوٹے شہروں اور ان میں رہنے والے لوگوں کو ہی ہوا ہے۔ ابھی حال میں جو بجٹ آیا ہے ،اس میں حکومت نے اعلان کیا ہے کہ بنیادی ڈھانچے پر 100 لاکھ کروڑروپے سے زیادہ خرچ کیا جائے گا۔ اس کا بہت بڑا حصہ ملک کے چھوٹے چھوٹے شہروں کے ہی کھاتے میں آئے گا۔
ساتھیو !
دین دیال جی کہتے تھے کہ خود انحصاری اور اپنی مدد آپ تمام اسکیموں کے مرکز میں ہونی چاہئے ۔ ان کے ان خیالات کو حکومت کی اسکیموں اور حکومت کے کام کے کلچر میں مسلسل لانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ آپ دیکھئے ، میک ان انڈیا کے مرکز میں خودکفیلی ہے ۔ آج ریل کے ڈبوں سے لے کر موبائل فون اور فوج کے لئے جدید اسلحہ تک بھارت میں بننے لگے ہیں ۔ پوروانچل سمیت پورے اترپردیش میں بھی کئی نئی فیکٹریا ں گزشتہ پانچ برسوں میں قائم ہوئی ہیں۔
اسی طرح اسٹارٹ اپ انڈیا کے مرکز میں بھی خودکفیلی ہے ۔ گزشتہ پانچ برسوں میں تقریباََ 26000 نئے اسٹارٹ اپ رجسٹر ہوئے ہیں ،جس سے بھارت کے نوجوانوں نے ہی بھارت کے لاکھوں نوجوانوں کو روزگار دینے کا کام کیا ہے ۔مدرا اسکیم کے مرکز میں بھی خودکفیلی اور اپنی مدد آپ ہے ۔اس اسکیم نے پورے ملک میں تقریباََ ساڑھے پانچ کروڑنئے صنعت کار تیار کئے ہیں۔تقریباََ تین ہزار کروڑروپے کا مدرا قرض وارانسی کے ہی لگ بھگ 6لاکھ ساتھیوں کو ملا ہے ۔پردھان منتری کسان سمان ندھی کی جڑ میں بھی اپنی مدد آپ ہی ہے ۔ اس کے تحت اترپردیش کے تقریباََدو کروڑ کسانوں کو تقریباََ 12 ہزار کروڑ روپے ان کے کھاتے میں منتقل کئے جاچکے ہیں ۔
بھائیو اور بہنو!
ہماری حکومت معاشرے کی آخری لائن میں کھڑے شخص تک پہنچنے کے لئے ، اس تک ترقی کا فائدہ پہنچانے کے لئے مسلسل کام کررہی ہے۔آپ بتائیے وہ 50 کروڑ سے زیادہ ملک کے باشندے ، جن کو آج آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت پانچ لاکھ روپے کا مفت علاج ممکن ہوا ہے، وہ کون ہیں ؟ یہ 70 برسوں میں ترقی کے آخری پائیدان پر ہی رہے ہیں ۔ آج ملک میں لگ بھگ 90 لاکھ غریب مریضوں کو علاج مل چکا ہے ، جس میں سے اترپردیش کے تین لاکھ اور وارانسی کے تقریباََ 16 ہزار ساتھی ہیں ۔ ملک کے وہ 11 کروڑ ساتھی بھی آخری پائیدان پر ہی تھے ، جن کے گھر میں پہلی بار ٹوائیلٹ پہنچا ہے ، ملک کے وہ آٹھ کرٰوڑ سے زیادہ خاندان بھی آخری پائیدان پر ہی تھے ، جن کو پہلی بار اجولا کا گیس کنکشن ملا ہے ،اس میں بھی یوپی کے قریب ڈیڑھ کروڑ اور وارانسی کے لگ بھگ پونے دو لاکھ خاندانوں کو فائدہ ہوا ، ان میں بھی قریب 50 لاکھ میرے دلت بھائی بہن کے خاندان ہیں، جن کو اجولا کا گیس کنکشن ملا ہے۔
ملک کے قریب دو کروڑ ساتھی ، جن کو پکا مکان ملا ہے ،وہ بھی آخری پائیدان پر کھڑے ہوئے لوگ تھے ، آج ملک کے جن 24 کروڑ باشندوں کو چار لاکھ روپے تک کا حادثے اور زندگی کا بیمہ مل رہا ہے ،وہ بھی آخری پائیدان پر تھے ، جن کروڑوں کسانوں ،مزدوروں ،چھوٹے تاجروں کو 60سال کی عمر کے بعد 3000 روپے کی ماہانہ پنشن کی سہولت مقرر ہوئی ہے ۔ وہ بھی ترقی کے آخری پائیدا ن پر رہے ہیں ۔
ساتھیو !
آزادی کے طویل دور تک اس آخری پائیدان کو برقرار رکھا گیا کیونکہ اس کے مسائل کو سلجھانے میں نہیں الجھانے میں ہی سیاسی مقاصد پورے ہوتے تھے۔لیکن اب حالات بد ل گئے ہیں ، ملک بدل رہا ہے ،جو آخری پائیدان پر رہا ہے ،اسے اب اولین ترجیح دی جارہی ہے۔ مہادیو کے آشیر واد سے ملک آج وہ فیصلے بھی کررہا ہے ، جو ہمیشہ پیچھے چھوڑ دئے جاتے تھے ۔جموں وکشمیر سے دفعہ 370 ہٹانے کا فیصلہ ہو یا پھر سٹی زن شپ امنڈ منٹ ایکٹ برسوں سے ملک کو ان فیصلوں کا انتظار تھا ۔ ملک کے مفاد میں یہ فیصلے ضروری تھے اور دنیا بھر کے سارے دباؤ کے باوجود ہم ان فیصلوں پر قائم ہیں اورقائم رہیں گے ۔آج بابا بھولے ناتھ کی نگری میں اودھوت بابا بھگوان رام کی قربت میں دین دیال کی یادگار میں ، میں کاشی کے لوگوں کو ، ملک کے لوگوں کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ ملک کے لئے یہ کام مسلسل جاری رہیں گے ۔
ایک بار پھر آپ سبھی کو اتنی بڑی تعداد میں یہاں آنے کے لئے ، مجھے آشیر واد دینے کے لئے بہت بہت شکریہ !!!
بھارت ماتا کی جے!!!
بھارت ماتا کی جے!!!
بھارت ماتا کی جے!!!
۰۰۰۰۰
م ن ۔اگ۔رم
U-799
(रिलीज़ आईडी: 1603515)
आगंतुक पटल : 135