وزارت خزانہ
صنعت سازی ہمیشہ ہندوستان کی طاقت رہی ہے:محترمہ نرملا سیتارمن
صنعت سازی کے خواہشمند نوجوانوں کو مکمل سہولت اور تعاون دینے کے لیے
سرمایہ کاری کلیئرنس سیل کے قیام کا اعلان
پی پی پی کی طرز پر ریاستوں کے اشتراک سے پانچ نئے اسمارٹ سٹی کے فروغ کی تجویز
موبائل فون کی مینوفیکچرنگ، الیکٹرانک سازوسامان اور سیمی کنڈکٹر پیکیجنگ کی حوصلہ افزائی کی
ٹیکنیکل ٹیکسٹائلس کے شعبے میں ہندوستان کو عالمی قائد کے طور پر جگہ دلانے کے لیے
نیشنل ٹیکنیکل ٹیکسٹائلس مشن کے آغاز کی تجویز
اعلی تر ایکسپورٹ کریڈٹ ڈسبرسمنٹ کے حصول کے لیے نرویک نامی ایک نئی اسکیم کا اعلان
اشیا، خدمات اور کاموں کی خرید کے لیے ایک مربوط خریداری نظام کے قیام کے لیے
گورنمنٹ ای-مارکیٹ پلیس (جی ای ایم) کی تجویز
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 FEB 2020 2:13PM by PIB Delhi
خزانہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتارمن نے کہا ہے کہ صنعت سازی ہمیشہ ہندوستان کی طاقت رہی ہے اور ہمارے نوجوان مرد اور خواتین اپنی صنعت سازی سے متعلق صلاحیتوں کے ذریعے ہندوستان کی ترقی میں تعاون دیتے رہے ہیں۔وہ آج پارلیمنٹ میں 2020-21 کا مرکزی بجٹ پیش کررہی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم علم، صلاحیتوں اور ہمارے نوجوانوں کی جوکھم اٹھانے کی اہلیتوں کا اعتراف کرتے ہیں اور وہ اب ملازمت کے متلاشی نہیں، بلکہ ملازمت کے مواقع پیدا کرنے والے ہیں۔
وزیرخزانہ نے ایک سرمایہ کاری کلیئرنس سیل قائم کرنے کی تجویز پیش کی، جو‘‘انڈ- ٹو-انڈ’’ یعنی سبھی طرح کی سہولت دستیاب کرائے گا اور نوجوانوں کے لیےمزید مواقع پیداکرنے نیزرکاوٹوں کودورکرنے کے کام میں مدد کرے گا۔ انہوں نے پی پی پی کی طرز پر ریاستوں کے اشتراک سے پانچ نئے اسمارٹ سٹیز کے فروغ کی تجویز پیش کی۔ایسی جگہوں کا انتخاب کیا جائے گا، جو اس کے لیے طے شدہ اصولوں کے حوالے سے بہترین متبادل دستیاب کرائے گا۔
محترمہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ انڈسٹری میں بہت مسابقت ہے اور اس میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے زبردست امکانات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستان گھریلو مینوفیکچرنگ کو تقویت دے اور الیکٹرانکس ویلیو چین میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کوراغب کرے۔انہوں نے موبائل فون کی مینوفیکچرنگ، الیکٹرانک سازوسامان اور سیمی –کنڈکٹر پیکیجنگ کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک اسکیم کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے ایک نیشنل ٹیکنکل ٹیکسٹائلس مشن کی تجویز پیش کی، جس کا نفاذ 2020-21 سے 2023-24 کے دوران چار سال کی مدت میں تقریبا 1480 کروڑروپے بجٹ سے ہوگا۔اس کا مقصد ہندوستان کو ٹیکنکل ٹیکسٹائلس کے شعبے میں ایک عالمی رہنما کے طور پر قائم کرنا ہے۔
انہوں نے کوالٹی اور معیارات کے سلسلے میں لال قلعے کی فصیل سے کی گئی وزیراعظم کی اپیل کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے ‘زیرو ڈیفکٹ-زیرو ایفکٹ’ مینوفیکچرنگ کی بات کہی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ سبھی وزارتیں اس سال کے دوران کوالٹی اسٹینڈرڈ سے متعلق احکامات جاری کریں گی۔
وزیراعظم نے اعلی تر ایکسپورٹ کریڈٹ ڈسبرسمنٹ کے حصول کے لیے نرویک نامی ایک نئی اسکیم کا اعلان کیا۔ اس اسکیم میں اعلی تر انشورنس کوریج، چھوٹےایکسپورٹروں کے لیے پریمیم میں کمی اور دعوؤں کے نپٹارے کے لیے آسان تر طریقہ کار کی سہولت ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پانچویں سال کے اختتام تک توقع ہے کہ اس اسکیم سے تقریبا 30لاکھ کروڑ روپے کی ایکسپورٹ کو مدد ملے گی۔انہوں نے مرکزی ،ریاستی اور مقامی سطحوں پر لگائی جانے والی ڈیوٹیز اور ٹیکسوں کے معاملے میں ایکسپورٹروں کو ڈیجیٹل ری-فنڈ کی تجویز پیش کی۔ایسی ڈیوٹیز میں بجلی پر لگنے والی ڈیوٹی اور نقل وحمل کے لیے استعمال میں آنے والے ایندھن پر لگنے والا ویٹ شامل ہے، جس پر چھوٹ نہیں مل پاتی، یا موجودہ کسی بھی دوسرے میکانزم کے تحت اس پر ری-فنڈ نہیں مل پاتا۔
محترمہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ گورنمنٹ ای-مارکیٹ پیلس (جی ای ایم) آگے بڑھ رہا ہے، تاکہ ملک میں ایک یونیفائیڈ پروکیورمنٹ سسٹم یعنی مربوط خریداری نظام قائم ہوسکے، جو اشیا، خدمات اور کاموں کی خرید کے لیے ایک واحد پلیٹ فارم کا کام کرسکے۔انہوں نے جی ای ایم کے ٹرن اوور کو تین لاکھ کروڑ روپے تک لے جانے کی تجویز رکھی۔انہوں نے مالی سال 2020-21 کے لیے صنعت وتجارت کی ترقی اور فروغ کی خاطر 27300 کروڑ روپے دستیاب کرانے کی تجویز بھی پیش کی۔
********
(م ن۔ ۔ م م۔۔ت ع)
U-473
(ریلیز آئی ڈی: 1601500)
وزیٹر کاؤنٹر : 125