وزارت خزانہ

آفات ارض و سماں کے اثرات جھیلنے والے بنیادی ڈھانچے پر توجہ کے ساتھ قدرتی آفات کےاثرات برداشت کرنے والے بنیادی ڈھانچوں کے اتحاد سے آب و ہوا کی تبدیلی کے حالات میں بہتری آئے: وزیر خزانہ


کاربن ڈائی آکسائڈ گیس کے اخراج کی اونچی سطح سے نمٹنے کے لئے حکومت کا ارادہ پرانے حرارتی بجلی گھروں کو بند کرنے کا ہے

دس لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل آبادی والے شہروں میں صاف ستھری ہوا کو یقینی بنانے کیلئے ریاستوں کی منصوبہ سازی اور ان پر عمل درآمد کے لئے حوصلہ افزائی کی جائے گی

ریاستوں کے ذریعہ صاف ستھری ہوا کے اقدامات کی تیاری کیلئے 4400کروڑ روپے مختص کئے گئے

Posted On: 01 FEB 2020 2:11PM by PIB Delhi

نئی دہلی، یکم فروری 2020،  آفات ارض و سماں کے اثرات جھیلنے والے بنیادی ڈھانچے پر توجہ کے ساتھ آب و ہوا کی تبدیلی کے ماحول کو بہتر بنانے کے حکومت کے ارادوں پر زور دیتے ہوئے خزانہ اور کارپوریٹ امور کی وزیر نے آج عام بجٹ 21-2020 میں  ماحولیات کے شعبےسے  متعلق متعدد تجاویز پیش کیں۔

خزانہ اور کارپوریٹ امور کی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن نے آج پارلیمنٹ میں عام  بجٹ 21-2020 پیش کرتے ہوئے کہا کہ  ستمبر 2019 میں کوالیشن فار ڈیزاسٹر ریزیلیئنٹ انفراسٹرکچر (سی ڈی آر آئی)شروع کیا گیا تھا۔اس کا سکریٹریٹ دہلی میں ہے۔ انہوں نے مزید کہ ‘‘ اس عالمی شراکت داری سے  پائیدار ترقی کے متعدد اہداف (ایس ڈی جی)کے حصول  کے علاوہ سینڈائی فریم ورک کے حصول میں مدد ملے گی۔اس سے  آفات ارض و سماں کے اثرات جھیلنے والے بنیادی ڈھانچے پر توجہ کے ساتھ آب و ہوا کی تبدیلی کی حالت بہتر ہوگی۔

وزیر خزانہ نے ملک کے ترقیاتی نکات کو ذہن میں رکھتے ہوئے پیرس معاہدہ 2015 کے تحت  نیشنلی ڈیٹرمائنڈ کنٹری بیوشنسد (این ڈی سی) کے حصول کے تئیں حکومت کی کوششوں کے بارے میں بھی  بتایا۔انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ  ہندوستان بجٹ کے عام ضابطوں کے ذریعہ متعلقہ محکموں اور وزارتوں کے ذریعہ مختلف شعبوں میں کارروائی کرنے کا پابند عہد ہے۔

محترمہ نرملا سیتارمن نے پرانے حرارتی بجلی گھروں کے ذریعہ کاربن ڈائی آکسائڈ گیس کے اخراج کی انچی سطح کے مسئلے پر روشنی ڈالی۔ وزیر خزانہ نے ایسے بجلی گھروں کو بند کرنے کی حکومت کی تجویز اور  متبادل مقصد کے لئے خالی زمین کے استعمال میں لانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

وزیر خزانہ نے  دس لاکھ نفوس سےزائد آبادی  والے شہروں  میں  صاف ستھری ہواکی دستیابی کے فقدان پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے صاف ستھری ہوا کو یقینی بنانے کی غرض سے ریاستوں کو منصوبے، وضع کرنے اور ان کی عمل درآمد کی حوصلہ افزائی کے حکومت کے ارادوں کا بھی اظہار کیا۔ سال 21-2020 کی مدت کے لئے اس پہل کے مقصد سے 4400کروڑروپے مختص کئے گئے ہیں۔ ماحولیات ، جنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی کی وزارت کے ذریعہ  جلد ہی اس سلسلے میں ترغیبات کے لئے پیمانوں کو مشتہر کیا جائے گا۔

 

********

م ن۔ش س  ۔ ک ا

U-475



(Release ID: 1601499) Visitor Counter : 158


Read this release in: Hindi , English , Tamil , Malayalam