نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ

نائب صدرجمہوریہ نے ہندوستانی یونیورسٹیوں میں تدریس اور تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا


تعلیم محض روزگار کے لئے نہیں ہے یہ روشنی اور بااختیار بنانے کے لئے ہے: وینکیا نائیڈو

تعلیم میں سرمایہ کاری میں اضافے کی ضرورت پر زور

پرائیویٹ سیکٹر سے تحقیق اور ترقی پر زیادہ خرچ کرنے کی اپیل

نیلور میں وکرما سیمہا پوری یونیورسٹی کے تقسیم اسناد کی تقریب سے نائب صدر کاخطاب

تعلیمی پالیسی میں ہندوستانی کلچر وراثت اور مالا مال تاریخ کو پڑھانے پر توجہ دینے کی نائب صدرجمہوریہ کی اپیل

ہر یونیورسٹی کو ماحولیات کے تحفظ کی مہم میں طلبا ء کو شامل کرنا چاہئے: نائب صدرجمہوریہ کا بیان

Posted On: 21 JAN 2020 5:57PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی، 21  جنوری / نائب صدرجمہوریہ ہند جناب ایم وینکیا نائیڈو  نے آج تعلیمی نظام کو  دوبارہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اعلی تعلیم کے ہمارے اداروں میں تدریس  اور تحقیق کے معیار کو بہتر بنایا جائے۔

آج آندھرا پردیش کے نیلور میں ورکرما سیمہا پوری یونیورسٹی کی تقسیم اسناد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدرجمہوریہ نے اس حقیقت پر تشویش کااظہار کیا کہ ہماری کسی بھی  یونیورسٹی کا ٹائمس درجہ بندی میں دنیا کی چوٹی کی  دس یونیورسٹیوں میں نام شامل نہیں ہے۔طلباء سے خطاب کرتے ہوئے  جناب نائیڈو نے کہا کہ ہندوستان کسی زمانے میں وشو گورو سمجھا جاتا تھا اور پوری دنیا سے علم کے متلاشی یہاں آیا کرتے تھے اور نالندہ اور تکشیلا جیسی مشہور سیکھنے سکھانے والے مراکز میں پڑھتے تھے۔  ہمارے طلباء اپنے شاندار ماضی سے تحریک لیں تاکہ ایک روشن مستقبل قائم کیاجاسکے۔

 اس بات کو اجاگر کر تے ہوئے کہ  ہندوستان کو آبادی کے لحاظ سے تقسیم کا فائدہ  ہے۔ نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ نوجوانوں کی معلومات ، علم اور ہنر مندی کا فروغ ملک کی معاشی ترقی میں اضافے کے لئے کلیدی حکمت عملی ہونی چاہئے یہ تربیت یافتہ اور تعلیم یافتہ ، انسانی سرمایہ آنے والے سالوں میں پچاس کھرب ڈالر والی معیشت کے مقصد سے اصول میں ایک اہم رول ادا کرے گی۔

 اس سلسلے میں جناب نائیڈو نےتعلیم میں  سرمایہ کاری کو بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اسے جی ڈی پی کی موجودہ 4.6 فیصد سے بڑھا کر جی ڈی پی کا  6 فیصد کیاجائے۔ جس کی سفارش نیتی آیوگ نے کی ہے۔

 اس بات پر زور دیتے ہوئے ہماری یونیورسٹیوں کو تحقیق اختراع کے طور پر ابھرنے کی ضرورت ہے، نائب صدر نے اشتراک کثیر تادیبی تحقیقی اقدامات اور بین ڈسپلنری اقدامات کے ذریعہ ایک مضبوط تحقیقی ایکو سسٹم تعمیر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

نائب صدرنے پرائیویٹ سیکٹر سے کہا کہ وہ تحقیق اور ترقی پر مناسب حصہ خرچ کریں اور یونیورسٹیوں کے ساتھ مل کر کام کریں۔ انہوں نے کارپوریٹ سیکٹر سے بھی کہا کہ وہ اعلی تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں تحقیق کو فروغ دینے کے لئے ایک الگ کارپس قائم کریں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیاں صنعت کے ساتھ بھی قریبی ربط بنائے رکھیں اور تحقیق کے لئے ایک صحیح ایکو سسٹم قائم کریں۔

 جناب نائیڈو نے  پرائیویٹ  یونیورسٹیوں سے کہا کہ وہ تعلیم کو ایک مشن کے طور پر لیں اور ملک کے مستقبل   میں سرمایہ کاری   پر غور کریں اور اسے محض ایک کاروباری کے موقع کے طور پر نہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ یونیورسٹیوں کو مزید وسائل بر وئے کار لانے چاہئے تاکہ معاشرے کے محروم طبقوں کے بچوں کو تعلیم دی جاسکے۔

جناب نائیڈو نے کہا کہ تعلیمی پالیسی میں ہندوستان کے کلچر ، وراثت اور مالا مال تاریخ کو پڑھانے پر توجہ دی جانی چاہئے اور ایسے عظیم مرد وخواتین کی داستانوں پر توجہ دی جانی چاہئے جنہوں نے اس عظیم ملک کی شکل کو تبدیل کردیا۔

 نائب صدر نے کہاکہ تعلیم محض روزگار کے لئے نہیں بلکہ یہ روشنی اور بااختیار بنانے کے لئے ہونی چاہئے۔ نائب صدر نے طلبا سے یہ بھی کہا کہ وہ سماجی ذمہ داریوں کے لئے اپنا وقت دیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں وکرما سیمہا پوری یونیورسٹی کے  کالج ٹو ویلیج کی ستائش کی۔

عالمی تمازت اور آب وہوا کی تبدیلی پر تشویش  ظاہر کرتے ہوئے جناب نائیڈو نے ہر یونیورسٹی سے اپیل کی کہ وہ ماحولیات کے تحفظ کے لئے مہم میں طلبا کو شامل کریں۔ اس موقع پر آندھرا پردیش کی گورنر بسوا بھوشن ہری چندن بھی دیگر معزز شخصیتوں کے ساتھ اس تقریب میں موجود تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

U – 298

 



(Release ID: 1600065) Visitor Counter : 74


Read this release in: English , Hindi