صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

صحت اور خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت نے خواتین اور بچوں کی صحت اور تغذیہ میں اضافے کے لئے یکساں شعبوں کی نشان دہی کی

Posted On: 17 DEC 2019 3:34PM by PIB Delhi

نئی دہلی،17؍ دسمبر،  صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن اور  خواتین اور بچوں کی ترقی   اور ٹیکسٹائل کی مرکزی وزیر محترمہ اسمرتی زوبین ایرانی  نے  آج یہاں نرمان بھون میں منعقد ایک میٹنگ میں خواتین اور بچوں کے لئے تغذیہ اور صحت  سے متعلق  اہداف  کے حصول  میں اشتراک  کے شعبوں کی نشان دہی  کے علاوہ  صحت اور تغذیہ سے متعلق ، صحت اور تغذیہ کے عالمی ہدف  کے حصول کے لئے  یکساں  شعبوں اور اشتراک کی نشان دہی کی۔

میٹنگ کے بارے میں تفصیل بتاتے ہوئے  ڈاکٹر ہرش وردھن  نے کہا کہ ہم  سبھی کے لئے صحت  کا احاطہ کرنے کے تئیں عہد بستہ ہیں۔ ہماری پالیسیاں اور پروگرام  اس بات کو یقینی بنانے کے لئے ہیں کہ وہ ہر ایک ماں اور ہر بچے   کے پروگراموں کو  اس بات کو یقینی بنانے کے لئے استعمال کیا جائے  کہ ہر نابالغ کا وجود برقرار رہے اور وہ ترقی کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تغذیہ کی کمی اور دیگر سماجی  پیمانوں کا ماں ، بچے کی بقاء  اور ترقی  سے گہرا تعلق ہے اور  چونکہ یہ معاملے بھی ڈبلیو سی ڈی  کے لئے باعث تشویش ہیں، اس لئے یہ ایک ایسا شعبہ  ہے جس میں دونوں وزارتیں  اشتراک کرسکتی ہیں۔

ایک جامع میٹنگ کے بعد مرکزی وزیر  صحت  نے کہا کہ  دونوں وزارتوں  نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ دونوں وزارتوں کو  ایک یکساں اور معیاری  آئی ای سی  کا مواد  تیار کرنا چاہئے  اور  مختلف زبانوں سمیت  کئی  اسکیموں کے بارے میں  مشترکہ مہم چلانی چاہئے۔ اس کا مقصد  فیض حاصل کرنے والوں کو  اسکیم کی تفصیلات فراہم کرنا  اور یہ بتانا ہے کہ کس طرح وہ  انہیں حاصل کرسکتے ہیں۔ وزارت  صحت  میں  صحت سے متعلق ورکروں کے ذریعے  معلومات  کو عام کرنے  اور  ڈبلیو سی ڈی کے  آنگن واڑی ورکروں  پر قریبی نظر رکھنے کے  لئے بھی بات چیت ہوئی۔ ڈاکٹر ہر ش وردھن نے یہ بھی کہا کہ  نابالغ بچوں ، بچیوں  کی  صحت بھی  ایسا ہی شعبہ ہے جس میں  حیض سے متعلق  صفائی ستھرائی ، الکحل اور دیگر  مادے ، صنفی تشدد  ، ذہنی  صحت اور  جلد  شادی  سے نمٹنے جیسے معاملات  کے بارے میں بیداری پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ  صحت ورکروں اور آنگن  واڑی ورکروں  کی صلاحیتوں کو  ’راشٹریہ کشور سواستھ کاریہ کرم( آر کے ایس کے)‘  یعنی نابالغ بچوں سے متعلق  انصاف  کے بارے میں بیداری پیدا کرنے   اور بچوں کو  جنسی جرائم سے  تحفظ فراہم کرنے کے  قانون  (پوکسو )  کے بارے میں  پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  ان اسکیموں کو جلد شادی کے رواج کو ختم کرنے  اور  تغذیہ کی کمی اور خون کی کمی  کو کنٹرول کرنے کے لئے بھی  استعمال کیا جاسکتا ہے۔

 اس کے علاوہ  اشتراک کے شعبوں کی نشان دہی  کرنے والے ورکنگ گروپ  نے  اس بات کی تشریح کی کہ  کس طرح بنیادی سطح پر  معیاری مواصلاتی پیکج تیار کرنے  اور  دونوں  وزارتوں کے درمیان تحقیق  کے شعبوں کی  نشان دہی پر تبادلہ خیال  کرنے پر توجہ دی گئی ۔ انسانی وسائل کے فروغ کی وزارت  ، ہنر مندی  کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت  اور  کیمیکل اور فرٹیلائزر  کی وزارت کے تحت ادویہ سازی کے محکمے نے  ساجھیداری میں اضافہ  کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

خواتین اور بچوں کی ترقی  (ڈبلیو سی ڈی)  کی مرکزی  وزیر اسمرتی ایرانی نے  یہ بھی تجویز کیا کہ  ڈبلیو سی ڈی  سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت  کے بائیو ٹیکنالوجی کے محکمے  کی مدد کی جائے تاکہ  خواتین کو  سائنس ، ٹیکنالوجی ،  انجینئرنگ اور ریاضی ، ایس ٹی ای ایم   کے تحت  قومی سطح کے 10 اداروں  قائم کئے جاسکیں۔ اس کے علاوہ میٹنگ میں خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت  کی طرف سے  ایسی خواتین  کی ہمت افزائی  کے لئے مدد کرنا شامل  جن پر    میڈیکل تحقیق اور جدت طرازی  کے شعبوں میں تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

 اس میٹنگ میں  ایچ ایف ڈبلیو  کی سکریٹری  محتر مہ پریتی سدن ، ڈبلیو سی ڈی کی سکریٹری  محترمہ رابندرپنور ، ڈی بی ٹی  کے سکریٹری  ڈاکٹر رینو سوروپ  اور  دونوں وزارتوں کے سینئر عہدیدار  موجود تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

(م ن- و ا - ق ر)

U-5890


(Release ID: 1596756) Visitor Counter : 60


Read this release in: English , Marathi , Hindi