خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
بچوں کے خلاف جرائم
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 DEC 2019 3:58PM by PIB Delhi
نئی دہلی،05 دسمبر ؍ خواتین اور بچوں کی ترقی کی مرکزی وزیر محترمہ اسمرتی زبین ایرانی نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ حکومت ہند نے بچوں پر مرکوز مختلف قوانین بنائے ہیں جن میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے قانون (سی پی سی آر )2005کے لئے کمیشنز،بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ فراہم کرنے کا قانون(پی سی ایس او ) 2012 اور بچوں کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کیلئے جیونایل جسٹس (بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ ) قانون 2015 (جے جے ایکٹ )وغیرہ شامل ہیں۔ جے جے قانون 2015 بچوں کی سلامتی، تحفظ ،وقار اور ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بناتا ہے جبکہ پی او سی ایس او قانون 2012 ایک جامع قانون ہے جس میں جنسی دست درازی ، جنسی حراساں کیا جانا اور عریانی کے جرائم سے بچوں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ یہ نامزد کی گئی خصوصی عدالتوں کے ذریعے جرائم کی تیزی سے سماعت اور تحقیق ،ثبوت کے ریکارڈ جمع کرنے، رپورٹنگ کے لئے بچوں کے لئے دوست ماحول میکانزم کو شامل کرکے عدالتی کارروائی کے عمل کے ہر مرحلے میں بچوں کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔
البتہ ہندوستان کے آئین کے ساتویں شیڈول کے تحت پولیس اور پبلک آرڈر ریاستی موضوعات ہیں۔ بچوں سمیت شہریوں کی جان و مال کے تحفظ امن و قانون برقراررکھنے ذمہ داری متعلقہ ریاستی سرکاروں اور مرکز کے انتظام والے علاقوں کی انتظامیہ کی ہے۔ ریاستی سرکاریں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ ،قوانین کی شقوں کے تحت اختراع کے جرائم سے نمٹنے کے لئے مجاز ہیں۔ حکومت نے بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لئے مختلف ایڈوائزریز جاری کئے ہیں۔
پی او سی ایس او قانون میں ترمیم کی گئی ہے کہا تاکہ ملک میں جنسی استحصال کے شکار بچوں کے معاملوں سے نمٹنے میں اسے زیادہ موثر بنایا جائے اور سے 6 اگست 2019 کو مشتہر کیا گیا تھا اور یہ 16 اگست 2019 سے نافذ ہے۔ یہ ایک طرف تو ملک میں بڑھتے ہوئے جنسی استحصال کے شکار بچوں کے معاملوں سے نمٹنے کے لئے سخت اقدامات کی ضرورت پر زور دیتا ہے تو دوسری جانب جرائم کی نئی نوعیت کی لعنت سے نمٹتا ہے۔ پی او سی ایس او ترمیمی قانون 2019 کے ذریعے پی او سی ایس او ایکٹ 2012 کے تحت حسب ذیل ترامیم کی گئی ہیں:
- بچوں کی پورنوگرافی کی تشریح کو شامل کرنے کے لئے سیکشن 2(تشریحات ) میں ترمیم کی گئی ہے۔
- کم سے کم سات سال سے کم سے کم دس سال کے لئے سزا کی نوعیت بڑھانے کے لئے سیکشن 4 ( جنسی دست درازی کو روکنے کے لئے سزا ) میں ترمیم کی گئی ہے۔
- قدرتی آفات اور اسی طرح کی صورتحال کے دوران جنسی دست درازی اور اس کے سبب بچوں کی موت کو شامل کرنے کے لئے سیکشن 5( زیادہ سنگین دست درازی میں ترمیم کی گئی ہے۔
- دس سال سے لے کر کم سے کم 20 سال کی کم از کم سزا کی نوعیت بڑھانے اور ایک متبادل کے طور پر موت کی پینالٹی (جرمانہ ) شروع کرنے کے لئے سیکشن 6 (زیادہ سنگین دست درازی کے لئے سزا میں ترمیم کی گئی ہے۔)
- قدرتی آفت اور اسی طرح کی صورتحال کے دوران دست درازی کو شامل کرنے کے لئے سیکشن 9 ( زیادہ سنگین جنسی دست درازی ) میں ترمیم کی گئی ہے۔
- کم سے کم 5 سال کی سزا بڑھانے کے لئے اور آئی ٹی ایکٹ 2000 کے ساتھ ہمہ وقت کے لئے سزا بڑھانے کے لئے سیکشن 14 (پورنو گرافک مقاصد کے لئے بچوں کو استعمال کرنے کی سزا ) میں ترمیم کی گئی ہے۔
- بچوں کی پورنو گرافی سے متعلق سامان کی رپورٹنگ نہ کرنےکے لئے جرمانہ شروع کرنے کے واسطے سیکشن 15 میں ترمیم کی گئی ہے۔ (پہلے موقع پر 5000 روپئے اور دوسرے موقع پر 10000 ہزار روپئے کا جرمانہ ) جو اس طرح کے سامان کے پھیلائے جانےکی صورت میں سزا کی نوعیت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔اگر کمرسیل مقاصد کے لئے میٹیریل استعمال کیا گیا ہے تو کم از کم سزا تین سال سے کم نہیں ہوگی۔جسے 5 سال تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
نیشنل کرائم س ریکارڈ بیورو(این سی آر بی ) کی رپورٹوں کے مطابق این سی آر بی کی گذشتہ چار سال کی رپورٹوں میں بچوں کے خلاف جرائم کے جو معاملے درج کئے گئے وہ حسب ذیل ہیں۔
|
نمبر شمار
|
ریاست ؍ مرکز کے زیر انتظام علاقے
|
2014
|
2015
|
2016
|
2017
|
|
1
|
آندھرا پردیش
|
2059
|
1992
|
1847
|
2397
|
|
2
|
اروناچل پردیش
|
134
|
181
|
133
|
138
|
|
3
|
آسام
|
1385
|
2835
|
3964
|
4951
|
|
4
|
بہار
|
2255
|
1917
|
3932
|
5386
|
|
5
|
چنڈی گڑھ
|
4358
|
4469
|
4746
|
6518
|
|
6
|
گوا
|
330
|
242
|
230
|
196
|
|
7
|
گجرات
|
3219
|
3623
|
3637
|
3955
|
|
8
|
ہریانہ
|
2540
|
3262
|
3099
|
4169
|
|
9
|
ہماچل پردیش
|
467
|
477
|
467
|
528
|
|
10
|
جموں و کشمیر
|
211
|
308
|
222
|
359
|
|
11
|
جھارکھنڈ
|
423
|
406
|
717
|
1247
|
|
12
|
کرناٹک
|
3416
|
3961
|
4455
|
5890
|
|
13
|
کیرلا
|
2391
|
2384
|
2879
|
3562
|
|
14
|
مدھیہ پردیش
|
15085
|
12859
|
13746
|
19038
|
|
15
|
مہاراشٹر
|
8115
|
13921
|
14559
|
16918
|
|
16
|
منی پور
|
137
|
110
|
134
|
109
|
|
17
|
میگھالیہ
|
213
|
257
|
240
|
379
|
|
18
|
میزورم
|
178
|
186
|
188
|
220
|
|
19
|
ناگالینڈ
|
25
|
61
|
78
|
93
|
|
20
|
اڈیشہ
|
2196
|
2562
|
3286
|
3185
|
|
21
|
پنجاب
|
1762
|
1836
|
1843
|
2133
|
|
22
|
راجستھان
|
3880
|
3689
|
4034
|
5180
|
|
23
|
سکم
|
93
|
64
|
110
|
190
|
|
24
|
تمل ناڈو
|
2354
|
2617
|
2856
|
3529
|
|
25
|
تلنگانہ
|
1930
|
2697
|
2909
|
3580
|
|
26
|
تریپورہ
|
369
|
255
|
274
|
276
|
|
27
|
اترپردیش
|
14835
|
11420
|
16079
|
19145
|
|
28
|
اتراکھنڈ
|
489
|
635
|
676
|
829
|
|
29
|
مغربی بنگال
|
4909
|
4963
|
7004
|
6551
|
|
|
کل ریاستیں (ایس )
|
79758
|
84189
|
98344
|
120651
|
|
30
|
انڈمان و نکوبار جزائر
|
50
|
102
|
86
|
119
|
|
31
|
چنڈی گڑھ
|
208
|
271
|
222
|
275
|
|
32
|
دادر اور نگر حویل
|
11
|
35
|
21
|
31
|
|
33
|
دمن اور دیو
|
7
|
28
|
31
|
24
|
|
34
|
دہلی
|
9350
|
9489
|
8178
|
7852
|
|
35
|
لکشدیپ
|
1
|
2
|
5
|
4
|
|
36
|
پڈوچیری
|
38
|
56
|
71
|
76
|
|
|
مرکز کے انتظام والے کل علاقے
|
9665
|
9983
|
8614
|
8381
|
|
|
کل ہند
|
89423
|
94172
|
106958
|
129032
|
|
وسیلہ : کرائم ان انڈیا
|
|
|
|
|
*************
( م ن ۔ ح ا ۔م ف (
U. No. 5590
(ریلیز آئی ڈی: 1595122)
وزیٹر کاؤنٹر : 86