زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
دوہزار اٹھارہ اُنیس (19-2018) کے دوران بھارت سے درآمدشدہ نامیاتی مصنوعات کی کل مالیت 5150.99کروڑروپے تھی : جناب نریندر سنگھ تومر
Posted On:
03 DEC 2019 1:35PM by PIB Delhi
نئی دہلی 03 دسمبر۔بھارت سرکارکی 16-2015سے متعدد مخصوص اسکیموں مثلاََ پرم پراگت کرشی وکاس یوجنا (پی کے وی وائی ) اور مشن آرگینک ویلیو چین ڈیولپمنٹ نارتھ ایسٹرن ریجن ( ایم او وی سی ڈی این ای آر ) کے ذریعہ ملک میں نامیاتی زراعت کو فروغ دے رہی ہے ۔ ان دونوں اسکیموں کا مقصد کلسٹر /کسانوں کی پیداواری تنظیموں ( ایف پی او ) کو فروغ دینا ہے ، جو کیمیاوی کھاد سے آزاد کم لاگت والی دیرپا نامیاتی کھیتی باڑی اور بیج وغیر ہ کی حصولی سے لے کر مارکیٹ تک رسائی کے سلسلے میں کسانوں کی امدا د پر مبنی ہیں۔
پارٹی سپیٹری گارنٹی سسٹم ( پی جی ایس ) ، انڈیا اینڈ نیشنل پروگرام آن آرگینک پروڈکشن (این پی او پی ) نیز ایگری کلچر پروسس فوڈ اینڈ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (اے پی ای ڈی اے ) کے تحت 19-2018 کے دوران پیداشدہ نامیاتی مصنوعات کی مقدار جدول نمبر ایک میں دی گئی ہے ۔ بھارت سے درآمدشدہ نامیاتی مصنوعات کی کل مالیت 5150.99 کروڑروپے ہے ۔ (614089.614 میٹرک ٹن کے لئے )
پی کے وی وائی اسکیم کے تحت فی ہیکٹئر 50 ہزارروپے کی رقم تین سال کے لئے فراہم کی جاتی ہے ، جس میں سے 31 ہزارروپے ( 62فیصد) کسانوںکو ڈی بی ٹی کے ذریعہ براہ راست فراہم کئے جاتے ہیں ۔
25 ہزاررپے فی ہیکٹئر کے حساب سے امداد تین سال کے لئے نامیاتی کھاد وغیرہ کے لئے دی جاتی ہے۔
نامیاتی کھیتی باڑی کی امداد دوسری اسکیموں کے تحت بھی کی جاتی ہے مثلاََ راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا (پی کے وی وائی ) اور مشن فار انٹگریٹڈ ڈیولپمنٹ آف ہارٹی کلچر ( ایم آئی ڈی ایچ ) نیز آئی سی اے آر کے تحت نامیاتی زراعت کے لئے نیٹ ورک پروجیکٹ حکومت کی زیادہ توجہ پیداوار سے بڑھ کر مارکیٹ سے وابستہ پیداوار کی طرف ہوگئی ہے تاکہ کسانوں کو اپنی مصنوعات کے لئے ،جس میں نامیاتی مصنوعات بھی شامل ہیں ، بہتر قیمت مل سکے ۔نامیاتی مصنوعات کی پیداوار کو بڑھاوا دینے کے لئے ایک خصوصی ویب پورٹل : https://jaivikkheti.in تشکیل دیا گیا ہےتاکہ نامیاتی کھیتی باڑی سے وابستہ کسانوں کا سلسلہ براہ راست صارفین کے ساتھ جوڑدیا جائے اور انہیں اپنی مصنوعات کی بہتر قیمت مل سکے۔
جدول 1
پی جی ایس- انڈیا اور این پی او پی کے تحت 19-2018 کےدوران پیداکی گئیں نامیاتی مصنوعات کی ریاست وار تفصیل
(میٹرک ٹن میں )
نمبرشمار
|
ریاست
|
پیداوار
|
پی کے وی وائی /پی جی ایس سرٹیفکیشن کوئنٹل میں
|
این او پی /تیسرے فریق کا سرٹیفکیشن میٹرک ٹن میں
|
1
|
آندھرا پردیش
|
81061.53
|
11503.328
|
2
|
اروناچل پردیش
|
24688
|
590.548
|
3
|
آسام
|
614953.5
|
38475.600
|
4
|
بہار
|
462362.38
|
5.655
|
5
|
چھتیس گڑھ
|
1330025
|
14364.670
|
6
|
دمن اوردیو
|
50834.77
|
-
|
7
|
دہلی
|
1501.25
|
-
|
8
|
گوا
|
127
|
2454.552
|
9
|
گجرات
|
190025.69
|
66106.204
|
10
|
ہریانہ
|
57718.3
|
1362.480
|
11
|
ہماچل پردیش
|
268387.84
|
6958.207
|
12
|
جموں وکشمیر
|
50324.5
|
33878.950
|
13
|
جھارکھنڈ
|
874674
|
0.990
|
14
|
کرناٹکا
|
1064238.58
|
370576.984
|
15
|
کیرالہ
|
133427.54
|
25434.583
|
16
|
مدھیہ پردیش
|
1916196.85
|
738885.703
|
17
|
مہاراشٹر
|
12474318.83
|
860976.013
|
18
|
منی پور
|
74169.85
|
-
|
19
|
میگھالیہ
|
26481.05
|
699.340
|
20
|
میزورم
|
33011.7
|
-
|
21
|
اوڈیشہ
|
337345.97
|
88948.607
|
22
|
پنجاب
|
66227.77
|
744.270
|
23
|
راجستھان
|
125340.75
|
134612.734
|
24
|
تمل ناڈو
|
884137.27
|
15739.578
|
25
|
تیلنگانہ
|
243832.02
|
2138.287
|
26
|
تریپورہ
|
74253.05
|
326.023
|
27
|
اترپردیش
|
2233147.29
|
142511.574
|
28
|
اتراکھنڈ
|
1235849.1
|
29601.807
|
29
|
مغربی بنگال
|
158667.27
|
19872.382
|
30
|
ناگالینڈ
|
-
|
189.529
|
31
|
پونڈیچری
|
-
|
2.500
|
32
|
سکّم
|
-
|
423.811
|
|
کل میزان
|
25087328.65
|
|
یہ اطلاع زراعت اور کسانو ں کی فلاح وبہبود کے مرکزی وزیر جناب نریندرسنگھ تومر نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں دی ۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
U-5522
(Release ID: 1594664)
Visitor Counter : 113