پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت

پی این جی/ سی این جی کی پیداوار

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 DEC 2019 3:56PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  2 دسمبر 2019،    پٹرولیم اور قدرتی گیس کے مرکزی وزیر جناب دھرمیندر پردھان نے ایک سوال کے تحریری جواب میں  آج لوک سبھا کو بتایا کہ پٹرولیم پلاننگ اینڈ انالائسز سیل (پی پی اے سی) کے ذریعہ مہکا کرائی گئی معلومات کے مطابق اپریل ۔ اکتوبر 2019 کی مدت کے دوران تقریباً 1846 ایم ایم ایس سی ایم قدرتی گیس کی گھریلو پیدوار اور 19031 ایم ایم ایس سی ایم ایل این جی درآمد ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا ک اس گیس سے پائپڈ نیچورل گیس (پی این جی) اور کمپریسڈ نیچورل گیس  (سی این جی) کی ضرورتیں بھی پوری ہوئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پٹرولیم اور قدری گیس ریگولیٹری بورڈ (پی این جی آر بی)نے  اپنے لازمی حصے کے طور پر گیل کو 2655 کلومیٹر طویل جگدیش پور ۔ ہلدیا۔ بوکارو۔ دھمرا پائپ لائن (جے ایچ بی ڈی پی ایل) پروجیکٹ اور تقریباً 750 کلومیٹر طویل برونی۔ گوہاٹی پائپ لائن بچھانے کا مجاز بنایا ہے جسے شمال مشرقی  خطہ نیشنل گیس گرڈ کے ساتھ جڑ جائے گا اور یہ  پروجیکٹ فی الحال  عمل درآمد کے مختلف مراحل میں ہے۔ایک  مشترکہ کمپنی (جے وی سی) اندر دھنش گیس گرڈ لمیٹیڈ  کو تمام شمال مشرقی ریاستوں مں پائپ لائن کنکٹی وٹی  کے لئے ملایا گیا ہے۔ پروجیکٹ سے قبل کی مختلف سرگرمیاں جیسے تفصیلی افادی رپورٹ (ڈی ایف آر) کی تیاری، روٹ سروے، زمین کی شناخت وغیرہ  جیسے سرگرمیاں جاری ہیں۔ پرادیپ۔ ہلدیا۔ برونی آئل پائپ لائن کے معاملے میں یکم نومبر 2019 کو اس پروجیکٹ میں ہئیتی پیش رفت 26.51 فیصد ہوچکی  تھی۔

پٹرولیم اینڈ نیچورل گیس ریگولیٹری اتھارٹی  بورڈ (پی این جی آر بی)، پی این جی آر بی ایکٹ 2006 کے مطابق جغرافیائی علاقوں (جی اے) میں سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) نیٹ ورک قائم کرنے کی غرض سے اداروں کو مجاز کرنے کا حق رکھتا ہے ۔ پی این جی آر بی نے سی جی ڈی نیٹ ورک قائم کرنے کے لئے جی اے کی شناخت کی ہے جس کا انحصار  قدرتی گیس پائپ لائن رابطہ / قدرتی گیس کی دسیتابی اور تکنیکی نیز کاروباری افادیت  پر ہے۔ پی این جی آر بی نے 229 جی اے کو مجاز بنایا ہے جو پورے ملک میں سی جی ڈی نیٹ ورک قائم کرنے کے لئے 407 اضلاع کا احاطہ کرتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

U- 5509


(ریلیز آئی ڈی: 1594578) وزیٹر کاؤنٹر : 98
یہ ریلیز پڑھیں: English , Urdu