وزارت اطلاعات ونشریات
تفریح، معنی خیزی اور سحر، محسن مخمل باف کی فلموں کے تین اہم اجزاء ہیں؛پروڈیوسر، ایڈیٹر اور ڈی او پی میسم مخمل باف
نئی دہلی،28؍نومبر:‘‘مارگھے اینڈ ہر مدر’’حقیقت پر مبنی ایک فلم ہے، جس میں اطالوی نو حقیقت پسندی اور ایران کی نئی لہر کے نئی نسل کے عناصر کو پیش کیا گیا ہے، کیونکہ اس میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ مالی پریشانیوں کے سبب کس طرح کلاؤڈیا اور اس کی بیٹی مارگھے کی زندگی بدل جاتی ہے۔یہ بات ‘‘مارگھے اینڈ ہر مدر’’فلم کے پروڈیوسر ، ایڈیٹر اور ڈی او پی میسم مخمل باف نے کہی۔جناب میسم مخمل باف انٹر نیشنل فلم فیسٹول آف انڈیا(اِفّی) گوا کے آخری دن ایک پریس کانفرنس کے دوران اظہار خیال کررہے تھے۔ اس موقع پر ‘مارگھے اینڈ ہر مدر’’ اس فلم فیسٹول کی آخری فلم ہوگی۔اس فلم کے اداکار ڈانیلو گلوسپے یاؤلو اور کارمائن سینٹے رامو بھی موجود تھے۔

اس فلم کی ہدایت کاری دنیا کے مشہور و معروف ایرانی ہدایت کار محسن مخمل باف نے کی ہے۔انہوں نے الگ الگ ملکوں میں دس فلمیں بنائی ہیں۔ ان کی سبھی فلموں میں اس ملک کی روح کو پردے پر اتارنے کی کوشش کی گئی ہے، جس ملک میں وہ فلم بنائی گئی ہے۔ اٹلی میں بنائی گئی ان کی یہ پہلی فلم ہے، جس میں اٹلی کے اندر زندگی کی حقیقت کو اجاگر کیا گیا ہے۔میسم نے بتایا کہ اٹلی میں اقتدار کے تین مراکز ہیں، جن کے نام ہیں-مرکزی حکومت، چرچ اور مافیا۔
میسم نے مزید نے کہا کہ ‘‘مغرب اور مشرق میں سینسر شپ میں کافی فرق ہے۔ مشرق میں سینسر شپ آئڈیالوجی پر مبنی ہے، جبکہ مغرب میں سینسر شپ دولت سے متاثر ہے۔’’
محسن مخمل باف حقیقی فلمیں بنانے میں یقین رکھتے ہیں۔ ان کی فلم میں سب سے اہم جزو اداکار ہیں جو کیمرے کے سامنے اداکاری کرتا ہے، اسے ہی سب سے اہم تصور کیا جاتا ہے۔‘‘مارگھے اینڈ ہر مدر’’ میں پہلی بار اداکاری کرنے والے اداکاروں کا استعمال کرکے حقیقی زندگی کو پیش کیا گیا ہے۔فلم میں ہدایت کار نے اپنے مکالمے کوزبردستی نہیں تھوپا ہے، بلکہ یہ اداکاروں کے دل سے نکلتے ہیں۔
محسن کی فلم سازی کے طریقہ کار کے بارے میں مزید جانکاری دیتے ہوئے میسم نے کہا کہ ‘‘ان کی فلموں میں تین اہم اجزاء ہوتے ہیں-پہلا تفریح دوسرا سماجی، نفسیاتی ،فلسفیانہ معنی اور تیسرا فلم کاسحر ہے۔فلم کا سحر ناظرین کے رویے میں ہے، ناظرین اس بات کو کہنے کے بالکل قابل نہیں ہے کہ انہوں نے فلم کے بارے میں کیا چیز پسند کی۔محسن کے لئے فلم کا موضوع اپنی طرز کو طے کرتا ہے، جبکہ اصل دھارے کی فلموں میں اس کے برعکس ہوتاہے۔
فلم میں موسیقی کا بہت کم استعمال کیا گیا ہے۔ پوری فلم کو ہاتھک کے کیمرے سے شوٹ کیا گیا ہے۔ اداکار ڈانیلو گلوسپے پاؤلو اور کارمائن سینٹے رامو جو اپنی پہلی فلم میں کام کررہے ہیں۔ انہوں نے اس فلم میں جس طرح کام کیا ہے، وہ محسن مخمل باف کی تربیت کے سبب ہے ممکن ہوسکا ہے۔
********
م ن۔م ع۔ن ع
U: 5427
(ریلیز آئی ڈی: 1594121)
وزیٹر کاؤنٹر : 201