خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت

خواتین اور اطفال ترقیات کی وزیر نے بھارتیہ پوشن کرشی کوش کا آغاز کیا

بھارت کو تغذیہ کے لحاظ سے محفوظ ملک بنانے کیلئے پانچ نکاتی منصوبہ عمل : ایم ایس سوامی ناتھن

Posted On: 18 NOV 2019 11:59AM by PIB Delhi

نئی دہلی  ،18 نومبر :خواتین اور اطفال وترقیات  اور کپڑے کی صنعت کی وزیر محترمہ زوبین ایرانی  نے بل گیٹس جو بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے سربراہ ہیں، کے ساتھ مشترکہ صدارت کرتے ہوئے بھارتیہ پوشن کرشی کوش (بی پی کے کے)  کاآج نئی دلّی میں آغاز کیا۔ بی پی کے کے ، بھارت میں 128 زرعی موسمیاتی زونوں کے تحت  متنوع فصلوں کو بہتر تغذیہ جاتی نتائج کیلئے حاصل کریگا ۔

آغاز کے مذکورہ پروگرام میں خواتین اور اطفال ترقیات کی وزارت کے سکریٹری رابندر پنور نے بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے  انڈیا کنٹری آفس کے ڈائرکٹر جناب ہری مینن کو اس سلسلے میں اجازت نامہ سونپا۔ اس موقع پر ممتاز زرعی سائنسداں ڈاکٹر ایم ایس سوامی ناتھن نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت کو تغذیہ کے لحاظ سے محفوظ ملک بنانے کیلئے پانچ نکاتی منصوبہ عمل پر مبنی پروگرام کو نافذ کیا جانا ہے۔

  • خواتین ، حاملہ ماؤں اور بچوں کیلئے  کیلوری سے بھرپور خوراک کا انتظام
  • اس امر کو یقینی بنانا کہ خواتین اور بچوں میں پروٹین کی کمی کو دور کرنے کیلئے انہیں دالوں کی شکل میں پروٹین بہم پہنچائی جائے۔
  • چھوٹے تغذیہ بخش عناصر مثلاً وٹامن اے، وٹامن بی، لوہا اور زنک کی کمی دور کرنے کیلئے مخفی کمیوں کو دور کیا جائے۔
  • صاف ستھرے پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا۔
  • ہر گاؤں خصوصاً  ماؤں تک تغدیہ خواندگی پہنچانا تاکہ 100 دن سے کم کے عمر والے بچوں کو اس کا فائدہ حاصل ہوسکے۔

ڈاکٹر سوامی ناتھن نے مزید کہا کہ بچوں میں معقول تغذیے کے فقدان کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ بڑھتے ہوئے بچے کی نشوونما متاثر ہوتی ہے بلکہ اس کے بلوغت تک پہنچنے میں بھی مسائل آتے ہیں اور ذہنی ترقی بھی رُک جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کی فلاح وبہبود کی وزارت کو ایک ایسا طائفہ  تربیت دینا چاہئے جو متعلقہ سماج سے ہی متعلق ہو اور جسے خواتین، حاملہ ماؤں اور بچوں میں مختلف تغذیہ جاتی عناصر کی کمی کی شناخت کی تربیت دی جائے اور اس سلسلے میں پانچ نکاتی منصوبہ عمل اپنایا جائے۔

خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزیر نے اس موقع پر کلیدی خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک منفرد موقع ہے جہاں تکنیکی دنیا کی ایک بہت بڑی ہستی اس پلیٹ فارم پر موجود ہے جہاں کاشتکار بھی ہیں اور مہذب سماج کے اراکین بھی موجود ہیں اور یہ سب وزیراعظم کے سدابہار اور سدا سرسبز بھارت میں تغذیہ کے لحاظ سے مضبوط بھارت کے پیغام کو فروغ دینے کیلئے یہاں جمع ہوئے ہیں جو شہریوں کی تغذیہ جاتی ضروریات کو بھارت میں فصلوں کی بوائی کے طور طریقوں اور زرعی پیداوار سے ہم آہنگ کریگا۔

خواتین و اطفال ترقیات کی وزیر نے اپنی تقریر میں مطلع کیا کہ  حکومت نے ایک علیحدہ جل شکتی کی وزارت تشکیل د ی ہے جو اب ملک کے ہر کنبے تک پینے کا صاف ستھرا پانی فراہم کرنے کیلئے کام کررہی ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ماہ ستمبر میں اس سال پوشن ماہ منایا گیا ہے اور ایک مہینے کے اندر ملک بھر میں پوشن سے متعلق چھتیس ملین سرگرمیاں انجام دی گئی ہیں۔ انہوں نےبتایا کہ پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا اسکیم (پی ایم ایم وی وائی) دس ملین استفادہ کنندگان تک رسائی حاصل کرچکی ہے اور اس کے تحت  اجرتوں میں ہونے والے خسارے کی بھرپائی کی گئی ہے اور 2013 سے زچگی کے دوران رونما ہونے والی اموات کی شرح میں 26.9 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ وزیر موصوفہ نے کہا کہ اس موقع پر وہ ان 1.3 ملین آنگن واڑی کارکنان کا شکریہ ادا کرنا چاہیں گی جنہوں نے تغذیہ جاتی نشانوں کو زندہ وہ پائندہ رکھا اور 1.2 ملین آنگن واڑی کارکنان نے ریاستی ایجنسیوں کی مدد کی جنہوں نے 85 ملین استفادہ کنندگان تک رسائی حاصل کی ہے اور انہیں ڈیجیٹل طور پر روزانہ کے اپ ڈیٹ  جو ڈیش بورڈ پر فراہم کیے جاتے ہیں ، کے ذریعے حکومت سے مربوط کیا۔ وزیر موصوفہ نے کہا کہ بھارت کو اپنے ہمہ گیر ترقیات کے نشانوں کے حصول کیلئے  ضروری ہے کہ نفاذ کی سائنس کو مواصلات کی سائنس سے ہم آہنگ کرے تاکہ تغذیہ ایک سیاسی اور انتظامی ایجنڈا بن جائے اور یہ حفظان صحت اور پینے کے صاف ستھرے پانی کے ساتھ ساتھ فراہم کرایا جائے۔

بل گیٹس نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر صرف ایک مسئلہ بھی ایسا ہے جسے بل اینڈ ملنڈا گیٹس بھارت میں حل کرسکے تو وہ ہے خواتین، حاملہ ماؤں اور بچوں میں سوئے تغذیہ۔ اس مسئلے کو حل کرنے سے بھارت کی ترقی میں ڈرامائی تبدیلی رونما ہوگی اور ملک ہمہ گیر ترقیات کے نشانے حاصل کرسکے گا۔ انہوں نے مطلع کیا کہ فاؤنڈیشن حکومت ہند ، خواتین اور اطفال ترقیات کی وزارت اور دیگر وزارتوں کے ساتھ اس کثیر رخی چنوتی سے نبردآزما ہونے میں تعاون کرکے مسرت کا احساس کریگا۔ مقصد یہ ہے کہ ایک ہمہ گیر تغذیہ جاتی پروگرام فراہم کرایا جاسکے جس کے ذریعے ملک میں سوئے تغذیہ کا خاتمہ ہوسکے۔

اس پروگرام میں خواتین اور اطفال ترقیات کی وزارت کی وزیر مملکت محترمہ دیباشری چودھری اور وزارت کے دیگر سینئر افسران شریک تھے۔ اس کے علاوہ زراعت ، انسانی وسائل کی ترقیات ، نیتی آیوگ ، وزیراعظم کے دفتر ، یونیسیف ، عالمی بینک سول سوسائٹی کے اراکین بھی شریک تھے۔

****

 ( م ن ۔  ۔ ع ن)

5145 U-

 



(Release ID: 1591932) Visitor Counter : 40