ٹیکسٹائلز کی وزارت

وارانسی میں بھارتی قالینوں کی 38ویں برآمداتی نمائش

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 OCT 2019 1:52PM by PIB Delhi

 

نئیدہلی  10 اکتوبر۔قالینوں کی برآمدات کو فروغ دینے سے متعلق کونسل (سی ای پی سی) بھارتی قالینوں کی 38ویں برآمداتی نمائش کا اہتمام کررہی ہے جو  جمعہ   11سے 14 اکتوبر 2019 تک سمپورنا نند سنسکرت یونیورسٹی کے میدان میں  لگائی جائے گی۔ یہ وارانسی میں  منعقد کی جانے والی 15ویں نمائش ہوگی۔ اس کا مقصدبیرون ملک کے قالین کے خریداروں کے لئے بھارت کے ہاتھ سے بنُے ہوئے قالینو  ں   اور فرش وغیرہ  کے معاملے میں  ثقافتی ورثے کو فروغ دینا اور بنائی کی مہارت کا اظہار کرنا ہے۔ بھارت کی قالینو ں کی برآمدسے متعلق یہ نمائش  قالین خریدنے والے بین الاقوامی خریداروں  ، خریدار گھرانوں  ، خریدار ایجنٹوں  ، ٓرکیٹیکٹوں اور  بھارت  کے قالین سازوں  نیز برآمد کاروں کے لئے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گی تاکہ کاروباری تعلقات قائم کئے جاسکیں۔ یہ نمائش  سال میں دو بار لگائی جاتی ہے ۔ ایک مرتبہ وارانسی  میں  اور دوسری بار دہلی میں ۔

          یہ نمائش  ایشیا میں ہاتھ سے بنے ہوئے قالینوں  کی سب سے بڑی نمائشوںمیں سے ایک ہوگی۔ قالین کے خریداروں  کی ضروریات سے مطابق ڈیزائن تیار کرنے ، ڈیزائن میں رنگ بھرنے ، معیار اور سائز کے لحاظ سے قالین تیار کرنے کے معاملے میں  بھارت کی بے مثال صلاحیت نے اسے بین الاقوامی منڈی میں  ایک خاص  مقام  دلادیا ہے ۔

          قالین کی صنعت بھارت کے مختلف حصوں سے مختلف قسم  کا سامان  حاصل کرکے استعمال کرتی ہے مثلاََ اون  ،ریشم ، ہاتھ کے بنے وہئے فائبر ، پٹ سن ،  کپاس اور مختلف  قسم کے دھاگے  ،قالین کی صنعت میں  پیداوار اور برآمد کی ترقی کے زبردست امکانات  موجود ہیں۔ یہ صنعت  ماحول دوست ہے اور توانائی کے کمیاب  نیز خراب ہوجانے والے ذرائع استعمال نہیں کرتی ۔

          قالینوں  کی برآمدات کے فروغ سے متعلق کونسل میں  پورے ملک کے 2700  ممبران شامل ہیں اور اس کا اصل مقصد قالین تیار کرنے والی بڑی پٹی وارانسی میں  قالین کی برآمداتی نمائشیں  منعقد کرنا ہے۔  ان نمائشوں کا مقصد  قالین کے بین الاقوامی  خریداروںکو اپنی  پسند کے مطابق   قالین کا انتخاب کرنے اور انہیں  خریدنے کا موقع فراہم کرنا ہے ۔ کونسل  کی کوشش  ہے کہ  کارپیٹ کے درآمد کاروں نیز  قالین تیار کرنے والوں اور برآمد کاروں کو  خصوصی کاروباری ماحول  فراہم کیا جائے ۔پورے ملک سے تقریباََ  200  ممبر اس  نمائش  میں  حصہ لے رہے ہیں ۔

          بھارت میں  قالین تیار کرنے والے بڑے مراکز اتر پردیش  ، جموں  کشمیر ،راجستھان ، ہریانہ ، پنجاب  ، ہماچل  پردیش ، گجرات  ،تمل ناڈو  ،  بھارت کاشمال مشرقی خطہ ، آندھرا پردیش ،اوڈیشہ ،تلنگاہ ،چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ میں  واقع ہیں ۔

          ٹیکسٹائل کی وزار ت کے سکریٹری  جناب روی کپور 11  اکتوبر 2019  کو  38 ویں نمائش کا افتتاح  کریں  گے اور  دستکاری  کے ترقیاتی کمشنر   جناب  شانت منو مہمان خصوصی ہوں گے ۔

          امیدہے کہ قالینوں کی اس نمائش  میں بیرون ملک  کے 450سے زیادہ سرکردہ  خریدار شرکت کریں گے ۔ 

قیمت  اور حجم کے اعتبار سے ہاتھ سے  بُنے ہوئے قالینوں  کی بین الاقوامی منڈی میں بھارت کی ہاتھ سے بنے ہوئے قالینوں کی صنعت کا نمبر پہلا ہے۔بھارت  قالینوں کی کل پیداوار کا 85سے 90  فیصد برآمد کرتا ہے ۔

ہاتھ سے بنے ہوئے قالنیوں  اور دیگر فلور کورنگز  کی برآمدات :

 

 

سال

امریکی ملین ڈالر میں کل برآمدات

کل برآمدات بھارتی کرنسی میں

2013-14

1579.09

9557.24

2014-15

1819.69

11120.30

2015-16

1726.78

11299.73

2016-17

1773.98

11895.16

2017-18

1711.17

11028.05

2018-19

1765.96

12364.68

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

بھارت دنیا کے 70سے زیادہ ملکوںکو ہاتھ سے بنے ہوئے قالین برآمدکررہا ہے جس میں خاص طور سے امریکہ ، جرمنی ، کنیڈا ، برطانیہ ، آسٹریلیا ،  جنوبی افریقہ ،فرانس  ، اٹلی اور برازیل شامل ہیں۔ حال ہی میں  چین کے لئے بھی برآمدات کا سلسلہ شروع  کیا گیا ۔

          بھارت کی برآمدی اشیا کی روایتی منڈیوں میں  جرمنی  اور یور  پی  ممالک  شامل تھے جن کے بعد امریکہ   کا نمبر آتا ہے ۔یورپی منڈیاں  پوری طرح فروغ  پاچکی ہیں  اور اب نقطہ انجماد تک پہنچ  گئی ہیں۔ کونسل نے  جن ملکوں کو  اپنی توجہ کے لئے چنا ہے ، ان میں امریکہ ، ایل اے سی ممالک   یعنی برازیل ،چلی ،ارجنٹینا ،چین نیز اسکینڈی نیوین   ممالک یعنی ناروے، سویڈن اور جنوبی افریقہ اوراوشیانا کے ممالک یعنی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔

          اس سیکٹر میں  سرمایہ کاری کے زبردست امکانات  موجود ہیں ۔ اس کے ذریعہ درآمدات کی حوصلہ شکنی کی جاسکتی ہے اور اندرون ملک کی ضرورتوںکو پورا کیا جاسکتا ہے ۔

          ہاتھ سے بنے جانے والے قالینوں کی بھارت کی صنعت  دیہی علاقوںمیں  براہ راست یا بالواسطہ  طور پر 20  لاکھ سے زیادہ کارکنوںاوردستکاروں خاص طور پر خواتین کو روزگار فراہم کرتی ہے۔اس شعبے سے وابستہ زیادہ تر دستکار وںاوربنکروں کا تعلق  معاشرے کے کمزور طبقےسے ہے  اوریہ صنعت ان لوگوں کو ان کے گھروں پر فاضل اور متبادل  کام فراہم کرتی ہے ۔

۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

 

م ن ۔ج                             ۔رم

U-4534


(ریلیز آئی ڈی: 1587693) وزیٹر کاؤنٹر : 116
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Bengali