وزارتِ تعلیم
فروغ انسانی وسائل کے مرکزی وزیر نے ملک بھر میں 42 لاکھ سرکاری اساتذہ کی تربیت سے متعلق پہل ‘نشٹھا’ کا آغاز کیا
‘نشٹھا ’دنیا میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا اساتذہ تربیتی پروگرام ہے: رمیش پوکھریال ‘نشنک’
Posted On:
21 AUG 2019 6:34PM by PIB Delhi
نئی دہلی۔22؍اگست
فروغ انسانی وسائل کے مرکزی وزیر جناب رمیش پوکھریال ‘نشنک’ نے آج نئی دہلی میں واقع ڈاکٹر امبیڈکر بین الاقوامی مرکز میں پرائمری تعلیم کا معیار بہتر کرنے کے لئے ایک قومی مشن ‘نشٹھا’ یعنی اسکولوں کے ہیڈماسٹر اور ٹیچروں کے جامع فروغ کے لئے قومی پہل کا افتتاح کیا۔ وزیر موصوف نے اس پروگرام کے دوران ‘نشٹھا’ کی ویب سائٹ، ٹریننگ ماڈیولز (تربیتی لوازمات)، پرائمر بک لیٹ اور موبائل ایپ کو بھی لانچ کیا۔
اس موقع پر فروغ انسانی وسائل کے وزیر نے کہا کہ یہ دنیا میں اپنی نوعیت کا اساتذہ کی تربیت سے متعلق سب سے بڑا پروگرام ہے۔ وزیر موصوف نے اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس وسیع تربیتی پروگرام ‘نشٹھا’ کا اصل مقصد طلبا میں گہرے فکری عمل کو فروغ دینے کے لئے اساتذہ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے اندر بیداری بڑھانے کے ساتھ ساتھ مختلف پہلوؤں سے متعلق ان کی ہنرمندی میں اضافہ کیا جائے گا۔ درس وتدریس کے بہتر نتائج کو یقینی بنانا، صلاحیت پر مبنی تربیت اور جانچ، طلبا پر مرکوز تدریسی علم، اسکولوں میں تحفظ، نجی –سماجی کوالٹی، شمولیت پر مبنی تعلیم اور مصنوعی ذہانت سمیت اساتذہ کی ٹریننگ میں آئی سی ٹی، صحت اور یوگ سمیت تندرستی، لائبریری، ایکو کلب، یوتھ کلب، کچن گارڈن سمیت اسکولی تعلیم میں پہل، اسکولوں میں قیادت کی خوبیوں کا فروغ وغیرہ اس کے مختلف پہلو ہیں۔
جناب پوکھریال نے کہا کہ اساتذہ ہی ملک کی طاقت ہیں، لہٰذا ان کی کوالٹی لازماً بہترین ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وزیر اعظم کا خواب ہے کہ ہمارے اساتذہ کی کوالٹی اتنی بہتر ہو، جس سے کہ انہیں دنیا بھر میں احترام حاصل ہو۔
جناب پوکھریال نے کہا کہ یہ تربیتی پروگرام بھی حکومت کے 100 روزہ پروگرام کے ضمن میں اس محکمہ کے 2 بڑے یکسر تبدیلی لانے والے تصورات میں سے ایک ہے۔ اس سے مربوط پروگرام کا مقصد تقریباً 42 لاکھ شرکا کی درس وتدریس کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے، جس کے تحت سبھی سرکاری اسکولوں میں پرائمری سطح کے سبھی اسکولی اساتذہ اور ہیڈماسٹروں، ریاستی تعلیمی تحقیق اور تربیتی کونسلوں اور ضلع تعلیمی وتربیتی اداروں کے اراکین اور سبھی ریاستوں ومرکز کے زیر انتظام علاقوں کے بلاک ریسورس کوآرڈینیٹروں اور کلسٹر ریسورس کوآرڈینیٹروں کا احاطہ کیا جائے گا۔
جناب پوکھریال نے اس بات کو نمایاں کیا کہ یہ اپنی نوعیت کی پہلی ایسی پہل ہے کہ جس کے تحت سبھی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لئے قومی سطح پر معیاری ٹریننگ ماڈیول تیار کئے گئے ہیں۔تاہم ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے اپنا خود کا ٹریننگ ماڈیول ترتیب دے سکتے ہیں اور اپنے خود کے مواد اور ریسورس افراد کا استعمال کرسکتے ہیں۔ البتہ ایسا کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ بنیادی موضوعات ‘نشٹھا’ کے مطابق ہی ہوں ۔
فروغ انسانی وسائل کے وزیر نے بتایا کہ ٹریننگ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعہ نشان زد کئے گئے 33120 کی ریسورس پرسنس (کے آر پی) اور اسٹیٹ ریسورس پرسنس (ایس آر پی) کے ذریعہ راست طور پر دی جائے گی۔ یہ ٹریننگ تعلیمی تحقیق و ترقی کی قومی کونسل (این سی ای آر ٹی)، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن (این آئی ای پی اے)، کیندریہ ودیالیہ سنگٹھن (کے وی ایس)، نوودیہ ودیالیہ سمیتی (این وی ایس)، سینٹر بورڈ آف سکینڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) اور غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعہ نشان زد کئے گئے 120 نیشنل ریسورس پرسنس (این آر پی ) کے ذریعہ دی جائے گی۔
یہ دیکھا گیا ہے کہ حال میں اساتذہ سے الگ طرح کی توقعات ہیں اور اس میں متعدد جدید خصوصیات شامل ہیں۔ آج اساتذہ سے اس بات کی توقع کی جاتی ہے کہ وہ صنف، معذور افراد کے حقوق سے متعلق قانون اور بچوں کے جنسی جرائم سے تحفظ (پی او سی ایس او-پوکسو) قانون کے التزامات کے تئیں بیدار ہوں، لہٰذا مربوط پروگرام سبھی اسکول سربراہوں اور اساتذہ کو پہلی سطح کے کونسلر کے طور پر تربیت دینا چاہتا ہے، تاکہ وہ حوصلے کے ساتھ تعلیم کے فروغ اور دوسری طرح سے اہل بچوں (اسپیشل چلڈرن) کی ضرورتوں کا خاص طور پر دھیان رکھنے کے علاوہ طلبا کی ضرورتوں کے تئیں بیدار اور ذمہ دار بن سکیں۔
اس سے مربوط پروگرام کی اہم خصوصیات تعلیمی کھیل اور کوئز، سماجی –جذباتی تعلیم، رغبت دلانے والی بات چیت، ٹیم سازی، اسکول پر مبنی جائزہ کے لئے تیاری، داخلی مسلسل فیڈ بیک نظام، آن لائن نگرانی اور امدادی نظام، ٹریننگ کی ضرورت اور اثرات کا تجزیہ (ٹریننگ سے قبل اور ٹریننگ کے بعد) جیسی سرگرمیوں پر مبنی ماڈیول ہیں۔
اساتذہ کی پیشہ وارانہ ترقی کو فروغ دینے کے لئے ٹریننگ ماڈیول کے ڈیزائن اور فروغ پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ ‘نشٹھا’ کے لئے ٹریننگ ماڈیول ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں، سی بی ایس ای، کے وی ایس، این وی ایس، اسکولوں کے پرنسپلوں اورغیر سرکاری تنظیموں جیسے کیولیہ فاؤنڈیشن، ٹاٹاٹرسٹ، عظیم پریم جی فاؤنڈیشن اور بندو سوسائٹی کے مشوروں کو شامل کرتے ہوئے ایک مشاورتی عمل کے توسط سے تیار کئے گئے ہیں۔
بہتر سہولتوں، اساتذہ کی مدد کے لئے ڈیجیٹل مواد اور ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیمی طریقہ کار کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے اِس عظیم صلاحیت سازی پروگرام کو ٹیکنالوجی کے ساتھ مربوط کیاگیا ہے۔ ایم او او ڈی ایل ای (ماڈیولر آبجیکٹ-اورینٹیڈ ڈائنیمک لرننگ انوائرنمنٹ) پر مبنی ایک موبائل ایپ اور لرننگ مینجمنٹ سسٹم (ایل ایم ایس) این سی ای آر ٹی (https://nishtha.ncert.gov.in/) کے ذریعہ تیار کیاگیا ہے۔ایل ایم ایس کا استعمال ریسورس پرسنس اور اساتذہ کے رجسٹریشن، وسائل کی اشاعت، ٹریننگ گیپ اور اثرات کے جائزے، نگرانی، صلاح اور پیش رفت کا آن لائن تجزیہ کرنے کے لئے کیا جائے گا۔
کلاس روم ٹرانزیکشنس پر دیرپا اثرات کو یقینی بنانے کے لئے اس مربوط تربیتی پروگرام میں مشیر کار کے التزام سمیت ٹریننگ کے بعد کی کارروائیاں شامل ہیں۔کے آر پی ٹریننگ مکمل ہونے کے بعد، نیشنل ریسورس پرسنس وائٹس ایپ؍ فیس بک گروپ وغیرہ کے توسط سے مسلسل کے آر پی کے رابطے میں رہیں گے اور معیاری سرکل بنائیں گے، جو افکار، چینلجوں اور ان کے حل اور بہترین طریقہ کار کو مشترک کرنے کے کام آئیں گے۔
اس پروگرام کا افتتاح اسکولی تعلیم اور خواندگی محکمہ کی سکریٹری محترمہ رینا رے اور فروغ انسانی وسائل کی وزارت ، سبھی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کے سینئر افسروں، پالیسی سازوں اور اداروں کے سربراہوں کی موجودگی میں کیاگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
م ن۔ م م۔ع ر
U-3822
(Release ID: 1582656)
Visitor Counter : 132