نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ

تین طلاق پر پابندی عائد کرنے کے بل کا مقصد خواتین کو انصاف دلانا ہے: نائب صدر جمہوریہ ہند


اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لئے خواتین کی صلاحیتوں  کو فروغ دینے  کے لئے سرمایہ کاری بہت اہم ہے؛


نائب صدر نے جانکی دیوی میموریل کالج کی ڈائمنڈ  جوبلی تقریبات سے خطاب کیا

प्रविष्टि तिथि: 01 AUG 2019 11:54AM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،1 اگست  2019/نائب صد ر جمہوریہ ہند جناب ایم ونکیانائیڈو نے  گزشتہ روز راجیہ سبھا میں پاس ہونے والے مسلم خواتین (شادی سے متعلق حقوق کا تحفظ) بل  2019  کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ   ا  س کا مقصد  خواتین  کے  صنفی حقوق کا تحفظ کرنا اور انہیں انصاف دلانا ہے۔  

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ  اس بل کا پاس ہونا   ہندستان کی   قانون سازی کی تاریخ میں  ایک بہت اہم لمحہ  تھا ۔ انہوں نے کہا‘‘یہ  معاشرتی اصلاح کا  ایک اہم بل ہے  اور مسلم خواتین کو    انصاف دلائے جانے کو یقینی بنانے کے لئے   اس کے دوررس  نتائج مرتب ہوں گے۔  

نئی دہلی میں  جانکی دیوی میموریل کالج کی   ڈائمنڈ جوبلی تقریبات میں خطاب کرتے ہوئے جناب ونکیانائیڈو نے کہا کہ   ایک ایسے ملک میں  یہ کام بہت پہلے ہوجانا چاہئے تھا  جہاں   جمہوریت سیکولرزم اور مساوات  کے  اصولوں کی جڑیں بہت گہری ہیں اور جسے اس بات پر فخر ہے  ۔

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ   اقتصادی ترقی    کے فروغ اور مجموعی ترقی کے لئے خواتین کی صلاحیتوں   میں اضافے اور انہیں بااختیار بنانے کے لئے   سرمایہ کاری بہت اہم ہے۔  انہوں نے کہا کہ ایسا دیکھا گیا ہے کہ  خواتین کی تعلیم   کا غریبی کم کرنے اور  پائیدار ترقی کے فروغ پر   بہت ہی   نمایاں اثر  پڑتا ہے۔

اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ خواتین کی خواندگی  کا مقصد  محض  اقتصادی مواقع   میں اضافے سے بہت زیاد  ہ ہے۔ نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ    خواتین       میں علم اور بیداری   کے اضافے   کا معاشرہ  پر بہت زیادہ مثبت اثر پڑتا ہے۔  

جناب وینکیانائیڈو نے کہا کہ ہندستان جیسا ملک   تعلیم اور خواتین کو بااختیار بنائے جانے کی اہمیت کو    خصوصی طور پر  ایسے وقت میں نظر انداز نہیں کرسکتا جب کہ    و ہ   پانچ ٹریلین  ڈالر کی معیشت  بننے کی خواہش   اور دنیا  میں   ایک قائدانہ مقام حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہو۔

 بین الاقوامی  مالیاتی فنڈ  (این ایم ایف) کی رپورٹ کا حوالہ دیتےہوئے جناب وینکیانائیڈو نے کہا کہ     محنت کش مردوں کے ساتھ   خواتین   کی تعداد میں اضافے سے   ہندستان کی جی ڈی پی میں 27 فی صد تک کا اضافہ ہوسکتا ہے۔  انہوں نےکہا‘‘اگر ہندستان میں  کام کرنے والوں کی    نفری  میں  50 فی صد ہنر مند خواتین کا اضافہ ہوجائے  تو  ہندستان  کی  شرح ترقی   1.5 فی صد  سے  بڑھ کر  9 فی صد سالانہ ہوسکتی ہے۔ ہندستان کی افرادی قوت میں   خواتین کے تعاون کی ضرورت ہے’’۔

اس رائے کا اظہار کرتے ہوئے  کہ خواتین کو تفویض اختیارات سے وہ   چیلنجوں کا سامنا   کرنے   کی صلاحیت حاصل کرلیں گی خاندان کے اندر   اپنی حیثیت کو بہتر بناسکیں گی اور فیصلہ  لینے کے عمل میں شرکت کرسکیں گی،  نائب صدر  نے کہا کہ  خواتین کی سرگرم شراکت داری کے بغیر   ایک  خوش و خرم خاندان اور  ایک  صحت مند   اور مضبوط معاشرہ  برقرار نہیں رہ سکتا۔  

 تعلیم ایک ایسی بنیاد ہے جس پر  ملک  کی ترقی کا انحصار ہوتا ہے۔   اس خیال کا اظہار کرتے ہوئے   نائب صدر جمہوریہ نے  ملک  کے نوجوانوں کو   اعلی معیار والی اور سستی تعلیم فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ تعلیم     کی مددسے ہی ہندستان    ہر طرح کی   اور شمولیت والی ترقی    حاصل کرنے کے لئے اپنی آبادی   کا فائدہ حاصل کرسکتا ہے۔ 

جناب وینکیانائیڈو نے یونیورسٹیوں اور اسکولوں سے کہا کہ      مہارت کے ایسے مراکز بننے کی کوشش کریں جہاں   تعلیم  دی جاتی ہو ، ہنر مندی سکھائی جاتی ہو ، کردار سازی کی جاتی ہو، تجسس بڑھایا جاتا ہو اور اخلاق کو مستحکم کیا جاتا ہو۔  

نائب صدر جمہوریہ نے کہا  کہ اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے   نظام تعلیم کی   تشریق  نو کی فوری ضرورت ہے۔   انہوں نے کہا کہ    سیدھی سی بات ہے  کہ ہندستان  اب مزید   ایک بوسیدہ اورایسے نظام تعلیم کو جاری نہیں رکھ سکتا  جو   اوسط درجے کی صلاحیت  ، رٹ کر سیکھنے    کو فروغ دیتا ہے  ، تخلیقی   صلاحیتوں کا گلا گھونٹتا ہے اور  ہمیں مستقبل   میں آگے بڑھانے کی بجائے پیچھے کی طرف دھکیل رہا ہو ۔

جناب وینکیانائیڈو  نے   اس خواہش کا اظہار کیا کہ تعلیمی   ادارے  جمود کو قائم رکھنے   سے بچیں   اور   بدلتے ہوئے وقت   کے  مطابق  تبدیلیوں کو اختیار کریں  اور  ا پنے نصاب   تعلیم کے  طریقوں  کا جائزہ لیں    تحقیقی  سہولیات   کو بہتر بنائیں۔

 اس رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہ  محض  تعلیم  حاصل کرنے سے کوئی شخص    روزگار حاصل  کرنے لائق   نہیں ہوجاتا ،نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو    اپنے طلبا کو     21ویں صدی کی  علم سے چلنے والے   باہمی طور پر   مربوط دنیا     میں  زندگی گزارنےکے لئے اہم  ہنر مندی  سمیت  ضروری ہنر مندی  بھی  سکھانی بھی چاہئے۔

جناب ویکنیانائیڈو نے    اقتصادی طور پر  کمزور   طلبا  کی مدد کے لئے    مساوی مواقع  کے سیل   اور  بارش کا پانی جمع کرنے کے  نظام    جیسے   ادارے کی پہل کی ستائش کی۔

 اس موقع پر   دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر یوگیش تیاگی   ، جانکی دیوی میموریل کالج   کے گورننگ ادارے کے چیرمین   پروفیسر برجیش چودھری   ، جانکی دیوی   میموریل کالج کی پرنسپل  ڈاکٹر سواتی پال  ، فیکلٹی کے ارکان اور کالج کے طلبا بھی موجود تھے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 م ن۔ ا گ ۔ ج۔

U- 3553

 


(रिलीज़ आईडी: 1581091) आगंतुक पटल : 96
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Bengali