مکانات اور شہری غریبی کے خاتمے کی وزارت
حکومت دلّی کی غیرمجاز کالونیوں کے باشندگان کو حقوق ملکیت تفویض کرے گی
جلد ہی ماڈل کرایہ داری ایکٹ ریاستوں کو ارسال کیا جائے گا
مزید 50 شہروں کو موجودہ 377 اور167 کے مقابلے میں او ڈی ایف + اینڈ او ڈی ایف ++ بنایا جائے گا، مزید پچاس شہروں کو تھری اسٹار کوڑا کرکٹ سے مبرا شہروں کی شکل دی جائے گی ، فی الحال 53 شہر ایسے ہیں ۔ ایس بی ایم۔یو کیلئے 100 دنوں کا لائحہ عمل
پی ایم اے وائی (یو) استفادہ کنندگان کیلئے انگیکار مہم کا آغاز
جی ایچ ٹی سی۔ بھارت : چھ ریاستوں میں لائٹ ہاؤس پروجیکٹوں (ایل ایچ پی ایس) کی تعمیر کے لئے چھ شہروں میں نئی ٹیکنالوجی بروئے کار لائی جائیگی
’سوستھ ایس ایچ جی پریوار ‘ پہل قدمی کاآغاز تاکہ تمام مستحق ایس ایچ جی خواتین اراکین کو آیوشمان بھارت اور پوشن اسکیم سے مربوط کیاجاسکے
یو ایل بی سطح کی ادائیگیوں کو 100فیصد ڈیجیٹائزیشن کرنے کی غرض سے 100 اسمارٹ شہروں کیلئے ’ایٹ ماڈیول‘ شروع کیاجارہا ہے
ایک شہر ایک اثر: 100اسمارٹ شہروں میں اثرانگیزی پر مشتمل پہل قدمیوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ایس سی ایم کی حوصلہ افزائی کا 100 دنو ں کا پرگرام جلد ہی مکمل کیاجائیگا
کوچی، ناگپور ، دلّی میں
Posted On:
23 JUL 2019 2:09PM by PIB Delhi
مرکزی حکومت دلّی میں غیرمجاز کالونیوں کے باشندگان کو ملکیت کے حقوق تفویض کرنے کی غرض سے اقدامات کررہی ہے:اگرچہ ماسٹر پلان کے تحت از سر نو ترقی کی اجازت ہے تاہم یہ ماسٹر پلان ان غیرمجاز کالونیوں کے باشندگان کو حقوق ملکیت نہ حاصل ہونے کی وجہ سے عملی شکل نہیں لے سکا۔ اس مسئلے کا حل نکالنے کیلئے دلّی کے لیفٹیننٹ گورنر کی صدارت میں ایک کمیٹی 8 مارچ 2019 کو تشکیل دی گئی تھی ۔ یہ تشکیل مرکزی حکومت کی منظوری کے تحت عمل میں آئی تھی ، مقصد یہ تھا کہ دلّی کی غیرمجاز کالونیوں کے باشندگان کو ملکیت کےحقوق فراہم کرنے ، منتقلی کے حقوق فراہم کرنے کے لئے درکار عمل کی سفارشات فراہم ہوسکیں۔ اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ داخل کردی ہے جس کی بنیاد پر دلّی کی غیرمجاز کالونیوں کے باشندگان کو ملکیت کے حقوق دینے سے متعلق ایک تجویز کا مسودہ بشکل کابینہ نوٹ تمام متعلقہ افراد کو مشتہر کیا گیا ہے تاکہ وہ 11 جولائی 2019 تک اس سلسلے میں اپنی آراء دے سکیں۔ یہ تجویز دلّی کی غیرمجاز کالونیوں کے باشندگان کو ملکیت کے حقوق کو تسلیم کرنے ، ایسے حقوق کو رہن کرنے ، منتقل کرنے سے مملو ہے او راس کے نتیجے میں جلد ہی غیرمجاز کالونیوں کی ترقی /ازسر نو ترقی بڑے پیمانے پر شروع ہوسکے گی۔
مسودہ ماڈل ٹیننسی یعنی کرایہ داری ایکٹ
2011 کی مردم شماری کے مطابق شہری علاقوں میں تقریبا ایک کروڑ 10 لاکھ مکان خالی پڑے ہیں۔ زمین کے مالکان اور کرایہ داروں کے مفادات کا تحفظ کرنے اور توازن قائم کرنے کے علاوہ مؤثر ڈسپلن میں رہتے ہوئے عمارت کو کرایہ پر دینے کی خاطر جواب دہ اور شفاف ماحول قائم کرنے کی غرض سے ماڈل کرایہ داری ایکٹ کا مسود ہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ارسال کیا گیا ہے اور ان سے 26 جولائی 2019 تک اور عوام کے علاوہ دیگر تمام فریقین سے یکم اگست 2019 تک اپنی اپنی رائے دینے کو کہا گیا ہے۔ اب تک عوام کی طرف سے 56 مشورے ؍ رائے موصول ہوئی ہیں۔ موصول ہونے والی زیادہ آراء میں نئے ماڈل کرایہ داری ایکٹ کا خیر مقدم کیا گیا ہے اور حکومت کے اس اقدام کی ستائش کی گئی ہے۔ عوام کی طرف سے دیئے گئے مختلف مشوروں میں سکیورٹی کی رقم جمع کرنے، عمارت خالی کرنے کے لئے نوٹس کی مخصوص مدت ، بزرگ شہریوں اور غیر مقیم ہندوستانی مالکان کے لئے خصوصی ضابطے کرایہ داروں اور مالک مکانوں کے ذریعے دستاویزات داخل کرنے کے لئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم ، پگڑی کے نظام سے متعلق معاملات وغیرہ شامل ہیں۔ باقی تمام فریقوں کی جانب سے ان کی رائے، خیالات اور مشورے ملنے کے بعد ان کا تجزیہ کیا جائے گا اور مزید کارروائی کی جائے گی۔ ماڈل کرایہ داری ایکٹ کے قطعی مسودے کو مرکزی کابینہ کی منظوری کے بعد جلد ہی ریاستوں کو ارسال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ریاستوں پر زور دیا جائے گا کہ وہ کرایہ داری کے نئے قانون کے بارے میں اپنا قانون تیار کریں یا ماڈل ایکٹ کے حساب سے اپنے موجودہ قوانین کو درست کریں، جیسا کہ انہوں نے پی ایم اے وائی – یو کے ساتھ ایک مفاہمت نامے پر دستخط کئے تھے۔
ایس بی ایم- شہری- پیش رفت:
صفائی ستھرائی میں؛
- 24 ریاستوں ؍ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے شہری علاقے او ڈی ایف (کھلے میں رفع حاجت سے پاک) بن چکے ہیں۔ کل 4265 شہروں نے خود کو او ڈی ایف قرار دیا ہے جن میں سے 3737 شہروں کی تصدیق تیسرے فریق کے ذریعے کی جاچکی ہے۔ انفرادی گھروں میں 64.5 لاکھ بیت الخلاء (مشن کے ہدف 66 لاکھ کے مقابلے) ، اور 5.5 لاکھ سماجی ؍ عوامی بیت الخلاء (مشن کے ہدف 5.08 لاکھ کے مقابلے) تعمیر کئے جاچکے ہیں ؍ زیر تعمیر ہیں: 377 شہروں کو او ڈی ایف + کا سرٹیفکٹ دیا گیا ہے ، اور 167 شہروں کو او ڈی ایف + + کا سرٹیفکٹ دیا گیا ہے۔ 45000 سے زیادہ عوامی بیت الخلاء 1700 شہروں میں گوگل میپ پر دستیاب ہیں جس میں بھارت کی 55 فیصد آبادی کا احاطہ کیا گیا ہے۔
ٹھوس کچرے کے بندوبست میں؛
- 91 فیصد سے زیادہ وارڈوں میں گھر گھر جاکر کچرا اکٹھا کیا جاتا ہے ، 65 فیصد وارڈ کچرا اکٹھا کرنے کے مقام پر ہی الگ الگ کرنے کے عمل میں مصروف ہیں اور کل ٹھوس کچرے کا تقریبا 56 فیصد کچرا پروسس کیا جارہا ہے۔ تین شہروں کو کچرے سے پاک 5 اسٹار اور 53 شہروں کو کچرے سے پاک 3 اسٹار کا سرٹیفکٹ دیا گیا ہے۔
سوچھ سرویکشن:
سوچھ سرویکشن 2016 ،ہندوستان کی ریاستوں ؍ یو ٹی کی راجدھانیوں کے 10 لاکھ یا اس سے زیادہ آبادی والے 73 شہروں کے درمیان کیا گیا۔ 2017 میں یہ سرویکشن 434 شہروں میں کیا گیا تھا۔ سوچھ سرویکشن 2018 میں 4203 یو ایل بیز کا احاطہ کیا گیا جبکہ سوچھ سرویکشن 2019 میں 4237 شہروں کا احاطہ کیا گیا۔
ایس بی ایم (یو) کے لئے 100 دن کا ایکشن پلان؛
موجودہ 377 سے 50 زیادہ شہروں کو او ڈی ایف + اور او ڈی ایف ++ بنانا
او ڈی ایف ++ کے موجودہ 167 شہروں میں مزید 50 کو او ڈی ایف ++ بنانا
3 اسٹار کچرے سے پاک 53 موجودہ شہروں میں مزید 50 شہروں کا اضافہ کرنا
اسمارٹ سٹی مشن؛
12 جولائی 2019 کو 5000 سے زیادہ پروجیکٹ ، جن پر 2 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت آئے گی ، نفاذ کے مختلف مراحل میں ہیں۔ فی الحال 135000 کروڑ روپے کے 3500 پروجیکٹوں کی بولی طلب کی گئی ہے ، 90000 کروڑ روپے سے زیادہ کے 2800 پروجیکٹوں کو تعمیر کے لئے اجازت دی گئی ہے جبکہ 15000 کروڑ روپے کے 900 سے زیادہ پروجیکٹ مکمل کرلئے گئے ہیں۔ مشن شہروں نے کلیدی پروجیکٹوں والے کام میں تیزی لانے میں کامیابی حاصل کی ہے جن میں، 73 شہروں میں مربوط کمان اور کنٹرول سینٹر (آئی سی سی سی) (16 شہروں میں چالو) ، 72 شہروں میں اسمارٹ سڑک پروجیکٹ (25 میں مکمل) ، 47 شہروں میں اسمارٹ شمسی پروجیکٹ (15 میں مکمل) ، 67 شہروں میں اسمارٹ واٹر پروجیکٹ (24 میں مکمل) ، 58 شہروں میں اسمارٹ ویسٹ واٹر پروجیکٹ ( 10 میں مکمل) اور 62 شہروں میں سرکاری پرائیویٹ ساجھیداری پروجیکٹ (26 شہروں میں مکمل) شامل ہیں۔ اس سلسلے میں یہ مشن مکمل تبدیلی لانے والا ثابت ہورہا ہے۔ یہ نہ صرف براہ راست شہریوں کے معیار زندگی کو بہتر بنارہا ہے بلکہ یہ ملک کو ڈیجیٹل طور پر بااختیار سماج اور علم پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنے میں بھی تعاو ن کررہا ہے۔
اسمارٹ سٹی مشن (ایس سی ایم) کے لئے 100 کا ایکشن پلان؛
ایک شہر ایک اثر، مشن کے 100 دن کا پروگرام ہے جس میں 100 اسمارٹ شہروں کو کم از کم ایک ایسے پر اثر اقدام کرنے کی ہمت افزائی کی جائے گی، جسے 100 دن میں مکمل کیا جاسکے اور اس کے نتیجے میں بامعنی قابل شمار اثر سامنے آسکے۔ اس پروگرام سے تقریبا 2.7 کروڑ شہریوں کو براہ راست فائدہ پہنچنے کی امید ہے ۔ مقررہ اہم نتائج میں ایک لاکھ سے زیادہ پیڑوں کی شجر کاری ، 100 سے زیادہ عوامی مقامات کی بحالی ؍ ترقی ، 80 اسمارٹ کلاس روم کا فروغ ، 100 سے زیادہ سرکاری ؍ عوامی بیت الخلاء کی تیاری ، دو لاکھ سے زیادہ کوڑے دانوں کو لگانا ، 1.25 لاکھ ایل ای ڈی اسٹریٹ لائٹ نصب کرنا اور 200 سے زیادہ ٹی پی ڈی کی صلاحیت والے ٹھوس کچرے کے بندوبست کے لئے میونسپل اثاثوں کی تعمیر شامل ہیں۔ اسمارٹ سٹی مشن میں اگلے 100 دنوں میں مزید 3000 کروڑ روپے کے پروجیکٹ کرلئے جائیں گے۔
ڈے- این یو ایل ایم؛
2014 سے 2019 کے دوران 5 لاکھ سے زیادہ ہنر مند امیدواروں کو مشن کے تحت ملازمت فراہم کی گئی ( 2004 سے 2014 کے درمیان 2.73 لاکھ کے مقابلے) جبکہ 4.24 لاکھ افراد کو انفرادی ؍ گروپ مائیکرو صنعت قائم کرنے میں مدد دی گئی۔ تقریبا 4 لاکھ خود امدادی گروپ بھی تشکیل دئے گئے جبکہ 5 لاکھ سے زیادہ بینک کے لنک ایس جی ایچ کو فراہم کئے گئے۔
ڈے – ائن یو ایل ایم کے لئے 100 دن کا ایکشن پلان۔
ڈے – این یو ایل ایم – ایس ایچ جی پریوار 38 لاکھ شہری غریب کنبوں پر مشتمل ہے، چونکہ بیماری کے علاج کے لئے آمدنی سے زیادہ اخراجات شہری غریبی کے لئے ایک اہم معاملہ ہے ،سوستھ ایس ایچ جی پریوار نامی ایک مؤثر اقدام شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد تمام اہل ایس ایچ جی خواتین ممبروں کو آیوشمان بھارت - پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا ( اے بی – پی ایم جے اے وائی) اور پوشن اسکیم سے جوڑنے کے علاوہ تمام ایس ایچ جی ارکان کا 2 اکتوبر 2019 تک صحت چیک اپ کرانا شامل ہیں ، جس کا مقصد پینل میں شامل اسپتالوں میں معیاری حفظان صحت کے لئے ان کی رسائی کو بہتر بنانا اور پائیدار بنیاد پر ان کے معیار زندگی کو مجموعی طور پر بہتر بنانا ہے۔ امید ہے کہ اے بی- پی این جے اے وائی اسکیم کے تحت 11 لاکھ خواتین کو فائدہ حاصل ہوگا۔
سرسبز شادابی اور شہری کایاپلٹ کے لئے اٹل مشن(امُرت)
139لاکھ کنکشنز کے نشانے کے برخلاف کل 59لاکھ گھروں میں نل سے پانی کے کنکشن فراہم کئے گئے۔145 لاکھ کنکشن کے نشانے کے برخلاف 37 لاکھ نئے سیور کنکشنز فراہم کئے گئے۔نشان زد 58 لاکھ لائٹس میں سے 63 لاکھ اسٹریٹ لائٹوں کی جگہ پر ایل ای ڈی لائٹ لگائی جاچکی ہے اور 468 شہروں میں کریڈٹ ریٹنگ سے جڑا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔163 شہروں کو سرمایہ کاری کے قابل گریڈ ریٹنگ اےیا اس سے اوپر حاصل ہوئی ہے۔ان میں 36 شہر بھی شامل ہیں۔
پچھلے سال 3390کروڑ روپے کے میونسپل کارپوریشن بانڈ جاری کرکے فنڈز اکٹھا کرنے کے پیش نظر 8 شہروں، احمد آباد، امراؤتی ، بھوپال، حیدرآباد، اندور، پونے ،سورت اور وشاکھا پٹنم کوترغیب کے طورپر181کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں۔
439اَمرُت شہروں سمیت 1705، قصبوں ،شہروں میں آن لائن بلڈنگ پرمیشن نظام (او بی پی ایس)نافذ کیا گیا ہے۔ مختلف اندرونی اور بیرونی ایجنسیوں کے بلا رُکاوٹ انضمام کے ساتھ دہلی اور ممبئی میں آن لائن بلڈنگ پرمیشن سسٹم قائم کیا گیا ہے۔بہت سی اصلاحات کے نفاذ کے نتیجے میں تعمیر کی اجازت کے عندیے میں ہندوستان کی رینکنگ ڈوئنگ بزنس رپورٹ(ڈی بی آر)2018ء کے 181ویں پائیدان سے اوپر چڑھ کر ڈی بی آر 2019ء میں 52ویں پائیدان پر پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ او بی پی ایس کو اب ملک کے سبھی شہروں میں نافذ کیا جارہاہے۔11 ریاستوں ، آندھرا پردیش، دہلی، گجرات، ہریانہ، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، پنجاب، تلنگانہ اور تری پورہ نے اپنے یہاں کے سبھی شہری اکائیوں(یو ایل بیز) میں او بی پی ایس پر باقاعدہ عمل شروع کردیا ہے۔
77640کروڑ روپے کا کل ریاستی سالانہ ایکشن پلان ایس اے اے پی میں سے 39011کروڑ روپے (50 فیصد)پانی کی سپلائی کے سیکٹر کے لئے 32456کروڑ روپے (42 فیصد) سیویج اور سیپٹیج مینجمنٹ سیکٹر کے لئے 2969کروڑ روپے (4 فیصد)طوفانی پانی کی نکاسی کے پروجیکٹوں کے لئے 1436کرو روپے(2 فیصد) غیر موٹر شہری ٹرانسپور ٹ کے لئے اور 1768کرو ڑ روپے (2 فیصد) گرین مقامات اور پارکوں کے لئے مخصوص کئے گئے ہیں۔ 80428کروڑ روپے کی لاگت والے پروجیکٹوں کے لئے تفصیلی پروجیکٹس رپورٹ(ڈی پی آر ایس) کو منظوری دی گئی، ہے، جن میں سے 65811کرو ڑ روپے کی لاگت والے پروجیکٹوں کے لئے کئی ٹھیکے دیئے گئے ہیں اور مختلف کاموں کی بنیاد ڈالی گئی ہے۔ان میں 4271کروڑ روپے کی لاگت والے پونے پروجیکٹ بھی شامل ہے۔ کل ملاکر 20971کروڑ روپے مرکزی امداد کے طورپر جاری کئے گئے ہیں۔
اَمرُت کے لئے 100 دن کا ایکشن پلان
جل شکتی ابھیان
جل شکتی ابھیان(جے ایس اے)کے تحت 754 شہروں میں بڑے پیمانے پر پانی کے تحفظ سے جڑے کاموں کو فروغ دیا جارہا ہے، جن میں بارش کے پانی کا جمع کیا جانا ،صاف کئے گئے پانی کا دوبارہ استعمال ، پانی سے متعلق اداروں کا احیاء، درختوں کا لگایا جانا وغیرہ شامل ہیں۔یکم جولائی 2019ء کو جل شکتی کی وزارت کی جانب سے پانی کو بچانے کی ایک مہم کا آغاز کیا گیا تھا اور یہ مہم دو مرحلوں میں چلائی جائے گی۔پہلے مرحلے کی مہم یکم جولائی 2019 ء سے 15 ستمبر 2019ء تک اور دوسرے مرحلے کی مہم 2 اکتوبر2019ء سے30 نومبر 2019ء تک چلائی جائے گی۔
مکانات اور شہری امو رکی وزارت نے پانی کو بچانے کے مختلف اقدامات کے سلسلے میں ملک بھر میں 754پانی کی کمی کے یو ایل بیز کی نشان دہی کی ہے۔ پانی کو بچانے کے مختلف اقدامات میں بارش کے پانی کو جمع کرنا ، صاف کیا ہوا پانی کا دوبارہ استعمال ، آبی اداروں کا احیاء اور شجر کاری وغیرہ شامل ہیں۔ وزارت کی طرف سے 29 جون 2019ء کو تفصیلی رہنما خطوط جاری کئے گئے تھے۔
تمام نشان زد یو ایل بیز نے مختلف سرگرمیاں شروع کردی ہیں ، تاکہ پانی بچانے کو فروغ دیا جاسکے، جس سے جن شکتی کو جل شکتی مہم سے جوڑا جاسکے۔
پردھان منتری آواس یوجنا(شہری)
تقریباً ایک کروڑ مکانوں کی مانگ میں سے لگ بھگ 84 لاکھ مکانوں کو اب تک منظوری دی جاچکی ہے۔ تعمیر کے مقصد سے 50 لاکھ سے زیادہ مکانوں کی بنیاد ڈالی جاچکی ہے، جن میں سے 27 لاکھ مکانوں کی تعمیر کا کام پورا ہوچکا ہے اور انہیں متعلقہ لوگوں کو سونپا بھی جا چکا ہے۔ان منظور شدہ مکانوں کی تعمیر کے لئے 1.3لاکھ کروڑ روپے کی مرکزی امداد سمیت 5 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو منظوری دی گئی ہے۔ اب تک 51.500کروڑ روپے کی مرکزی امداد جاری کی گئی ہے۔ کل ملاکر 6.5 لاکھ مستفیدین نے تقریباً15ہزار کروڑ روپے کی سود سبسڈی کا فائدہ اٹھایا ہے، جن میں ایم آئی جی کے دو لاکھ مستفیدین بھی شامل ہے۔
پردھان منتری آواس یوجنا( شہری) کے تحت 300کروڑ سے زیادہ یومیہ مزدوری کے مواقع پیدا کئے گئے ہیں، جس میں براہ راست روزگار کے 100 کروڑیومیہ مزدوری کے دن شامل ہیں اور بالواسطہ روزگار کے 200کروڑ یومیہ مزدوری کے دن شامل ہیں۔16نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کے لئے شیڈیول آف ریٹ (ایس او آر ایس)جاری کی گئی ہے، تاکہ مکانوں کی تعمیر میں تیزی لائی جاسکے۔نئی ٹیکنالوجیوں کا استعمال کرتے ہوئے پورے ہندوستان میں تقریباً 13 لاکھ مکانات تعمیر کئے جارہے ہیں۔ سی آئی ٹی آئی2019ء کے تحت چیلنج کے ذریعے 72مستقبل کی امکانی ٹیکنالوجیوں (گھریلو) کی نشان دہی کی گئی ہے۔جن کا انتخاب تیز رفتار فراہم کرنے اور انکیوبیشن سے متعلق تعاون دینے کے لئے کیا جائے گا۔مزید یہ کہ اکتوبر 2019ء کے شروع میں راجکوٹ، رانچی، اندور، چنئی، اگرتلہ اور لکھنؤ میں چھ لائٹ ہاؤس پروجیکٹس کی بنیاد رکھی جائے گی، تاکہ مختلف اختراعی ٹیکنالوجیوں کا استعمال کرکے تعمیر کی جاسکے۔
پردھان منتری آواس یوجنا کے لئے 100 دن کا ایکشن پلان
پردھان منتری آواس یوجنا(شہری) کے مستفیدین کے لئے آنگیکار نام کی مہم شروع کی گئی ہے، تاکہ انہیں تبدیلی کو قبول کرنے اور نئے ماحول کو اپنانے کی ضرورت سے آگاہ کرایا جاسکے، اس مہم میں یہ شامل ہوں گے۔ ایک طبقے کی شکل میں آپس میں مل جل کر رہنے سے جڑے معاملے، پانی اورتوانائی کا تحفظ ، ٹکاؤ، طور طریقے، بارش کے پانی کو جمع کرنا، شجر کاری اور مختلف سرکاری پروگرام ؍پروجیکٹوں میں تال میل قائم کرنا ، جس سے کہ رہن سہن کے لئے صاف ستھرا، ہرا بھرا اور محفوظ ماحول کو یقینی بنایا جاسکے۔اگست 2019ء کے پہلے ہفتے میں مجوزہ آغاز کے مقصد سے مہم کے لئے آئی ای سی سے جڑی مختلف سرگرمیاں تیار کی جارہی ہیں۔ مستفیدین کے لئے 3 لاکھ مکانوں کو پورا کرنےکی اسکیم بنائی گئی ہے۔ اب تک ایک لاکھ سے زیادہ مکانات مکمل کئے جاچکے ہیں اور تقریباً سبھی مکانوں کو متعلقہ لوگوں کو سپردکردیا گیاہے۔
دو اور تین مارچ 2019ء کو منعقدہ کنسٹرکشن ٹیکنالوجی انڈیا(سی ٹی آئی) 2019ء کے دوران نشان زد بہترین عالمی ہاؤسنگ تعمیراتی ٹیکنالوجیوں کو نمایا کرنے کے لئے گلوبل ہاؤسنگ ٹیکنالوجی چیلنج 2019ء کے تحت لائٹ ہاؤس پروجیکٹ کی بنیاد ڈالی گئی۔تعمیرات ٹیکنالوجی سال کے حصوں کے طورپر 6 ریاستوں، مدھیہ پردیش، اترپردیش، تمل ناڈو، جھارکھنڈ، تری پورہ اور گجرات میں 6 مخصوص متبادل ٹیکنالوجیوں کا استعمال کرکے 6 ہزار سے زیادہ مکانات کے یونٹس کی تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایاگیا ہے۔
گورنمنٹ یا سرکاری کالونیوں کے لئے 100 دن کا ایکشن پلان
ملک بھر میں 100 سرکاری کالونیوں میں صفائی ستھرائی کے ٹکاؤ طور طریقوں کو اپنانے، خالی پڑے علاقوں کو ہرا بھرا بنانے، بارش کے پانی کو جمع کرنے کے ڈھانچے کو بنانے اور آگ سے بچانے کے اقدامات پر عمل کی شروع کی گئی ہے۔
مکانات اور شہری امور کی وزارت میں ڈیجی ٹائزیشن
وزارت میں ادائیگی اور وصولیابی(رسیٹس)سرکاری لین دین کا تقریباً 100 فیصد ڈیجی ٹائیزیشن ہو چکا ہے۔ اس وزارت کے ذریعے سیدھے طورپر جاری تقریباً 63ہزار کروڑ روپے کی سالانہ ادائیگی کا ڈیجی ٹائزیشن پہلے ہی ویب پر مبنی پبلک فائننشل مینجمنٹ سسٹم پی ایف ایم ایس کے ذریعے ہو چکا ہے۔ وزارت اور اس کے سبھی فیلڈ دفاتر(400 سو سے زیادہ)میں سرکاری لین دین کے پورے ڈیجی ٹائزیشن سے لین دین بڑھانے کے ساتھ ساتھ وقت پر ادائیگی کرنا بھی ممکن ہو پارہا ہے۔صحیح وقت پر رقم کے استعمال کی نگرانی کرنا آسان ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی سرکاری خرچ میں شفافیت اور جواب دہی بڑھ گئی ہے۔
100 دن کا ایکشن پلان
100 اسمارٹ سیٹی کے لئے پی ایف ایم ایس کا ایکسپینڈیچر ایڈوانس ٹرانسفر (ای اے ٹی) ماڈیول شروع کیا جارہا ہے، تاکہ اسمارٹ سیٹی مشن کے دائرے میں آ چکے سبھی شہروں میں ادائیگی کا 100 فیصد ڈیجی ٹائزیشن کو یقینی بنایاجاسکے۔اسمارٹ سیٹیز کے ڈیجی ٹائزیشن سے نہ صر ف ادائیگی کے لین دین کا ڈیجی ٹائیزیشن ہوگا، بلکہ عمل درآمد کے آخری سطح تک رقم کے استعمال پر صحیح وقت پر نظر رکھنا ممکن ہوپائے گا۔
میٹرو ریل
میٹرو ریل کا فروغ:
مئی 2014ء تک ملک بھر میں سات شہروں ، کولکاتہ، دہلی، غازی آباد، نوئیڈا، گروگرام، بنگلورو اور ممبئی میں تقریباً 247 کلو میٹر لمبی میٹرو ریل چلائی گئی تھیں۔ اب18 شہروں یعنی، دہلی، نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا۔ غازی آباد، گروگرام، فرید آباد، بلبھ گڑھ، بہادر گڑھ، جے پورے، لکھنؤ، کولکاتہ، احمد آباد، ممبئی، ناگپور، حیدرآباد، بنگلورو، چنئی اور کوچی میں 657کلو میٹر لمبی میٹرو ریل چلنی شروع ہو گئی ہے۔ 27 شہروں میں تقریباً 900 کلو میٹر لمبی نئی میٹرو ریل ریجنل ریپیڈ ٹرانزٹ سسٹم زیر تعمیر ہے۔
100 دن کا ایکشن پلان
وزارت کے ذریعے 15 جولائی 2019ء کو میٹرولائٹ نامی ہلکی شہری ریل راہداری نظام کے لئے معیارات جاری کئے گئے۔ یہ فی گھنٹے، فی سمت زیادہ سے زیادہ 15ہزار مسافروں کے آنے جانے والے شہروں کے لئے مناسب ہے، جو بہت سے شہروں کو راس آتی ہے۔ریاستی سرکاروں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ چھوٹے شہروں میں ماس ٹرانزٹ کے پرائم موڈ کے طوپرموٹر لائٹ اپنائیں۔ اس کی تعمیر کی لاگت زیادہ صلاحیت والے میٹرو نظام سے بہت کم ہے۔ یہ نظام زیادہ پائیدار اور ٹھوس ہے۔ اس نظام کی تعمیر میں انتہائی کم لاگت آنے کے ساتھ ساتھ اس کے رکھ رکھاؤ کی لاگت بھی کم ہونے کی وجہ یہ انتہائی سود مند اور ٹکاؤ ہے۔
اگلے 100 دنوں میں چالو کرنے کے لئے 3 میٹرو لائنوں (21 کلو میٹر) کو ہدف کیا گیا ہے، جو مندرجہ ذیل ہیں:
5.6 کلو میٹر لمبی مہاراجہ کالج سے تھائی کوڈم ،کوچی میٹرو
4.3 کلو میٹر لمبی دوارکا سے نجف گڑھ ، دہلی میٹرو۔
11 کلو میٹر لمبی لوک مانیہ نگر سے سیتا بُلڈی، ناگپور میٹرو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
م ن۔و ا، ح ا۔ع ن، ق ر،ن ع
U-3370
(Release ID: 1580157)
Visitor Counter : 121