زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت

زراعت میں خواتین کی شراکت داری میں اضافہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 09 JUL 2019 3:34PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،09؍جولائی۔ زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ تومر نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں اطلاع فراہم کی کہ ہر 5 سال کے وقفے کےبعد زراعت، باہمی امداد اور کسانوں کی بہبود کے محکمے کے ذریعے کی گئی زرعی مردم شماری کے مطابق  11-2010 کے دوران ملک میں زراعت میں خواتین کی آپریشنل ہولڈنگ کا تناسب 12.78 فیصد تھا، جو 16-2015 کے دوران  بڑھ کر 13.78 فیصد ہو گیا ہے۔

 کسانوں کےلئے قومی پالیسی (این پی ایف) (2007) کی تجاویز کے مطابق    دیہی ترقیات کی وزارت کے تحت  دیہی ترقیات کا محکمہ، مہیلا کسان سشکتی کرن پریوجنا (ایم کے ایس پی) کے نام سے خواتین کسانوں کے لئے ایک خصوصی پروگرام پہلے سے ہی نافذ کر رہا ہے۔ایم کے ایس پی دین دیال انتودیا یوجنا-قومی دیہی زرعی معاش مشن (ڈی اے وائی-این آر ایل ایم)کا ایک ذیلی جزو ہے۔ ایم کے ایس پی کا بنیادی مقصد زراعت میں خواتین کی شراکت داری کو بڑھا کر انہیں با اختیاربنانا اور ان کے لئے ذریعہ معاش کے پائیدار مواقع پیدا کرنا ہے۔ اس طرح کے پروجیکٹوں کے لئے حکومت ہند کے ذریعے 60 فیصد (شمال مشرقی ریاستوں کے لئے 90 فیصد)فنڈ فراہم کیا جاتا ہے۔

زراعت، باہمی امداد اور کسانوں کی بہبود کا محکمہ زراعت کے اصل دھارے میں خواتین کو شامل کرنے کے عمل کو فروغ دے رہا ہے۔ اس کے لئے اپنےفلاحی اسکیموں اور پروگراموں کے تحت خواتین کسانوں کے لئے 30 فیصد فنڈس اور فوائد کو یقینی بنا رہاہے۔ علاوہ ازیں حکومت  چند منتخب اسکیموں کے تحت مرد کسانوں کے  مقابلے خواتین کسانوں کو اضافی امداد او ر مالی تعاون دے رہی ہے۔

۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

 

م ن ۔  م ع  ۔ک ا

U- 2963

 


(ریلیز آئی ڈی: 1578022) وزیٹر کاؤنٹر : 166
یہ ریلیز پڑھیں: English , Bengali