صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
حفظان صحت کے پیشہ وروں سے متعلق سروے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 JUL 2019 4:01PM by PIB Delhi
نئی دہلی، 9 جولائی 2019/صحت اور کنبہ بہبود کے وزیر مملک جناب اشونی کمار چوبے نے اپنے ایک تحریر ی جواب میں آج راجیہ سبھا کو بتایا کہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ ، گروگرام کےمحققین کے ذریعہ حال ہی میں ‘‘ہندستان میں انسانی وسائل کی سائز ، اجزائے ترکیبی اور تقسیم : نیشنل سمپل سروے آف رجسٹری ڈاٹا کا استعمال کرکے نئے تخمینے ’’ کے موضوع پر کئے گئے مطالعہ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ رجسٹری اداروں کے حاصل کیے گئے اعدادوشمار کی بنیاد پر صحت سے متعلق پیشہ وروں کی معقول تعداد موجود ہے اور اس میں اعدادوشمار یکم جنوری 2016 کے مطابق پیش کردہ آبادی سے متعلق این ایس ایس او 2012-2011 کے اعدادوشمار کے تخمینہ بھی شامل ہیں ۔ مطالعہ میں ملک میں صحت سے متعلق انسانی وسائل (ایچ آر ایچ ) کی تقسیم کے مسئلے پر بھی غور کیا گیا ہے۔ ہندستان کے دیہی علاقوں میں تقریباً 71 فی صد افراد رہتے ہیں جبکہ دیہی علاقے میں تقریباً 36 فی صد صحت کارکنان تعینات ہیں ۔ اس مطالعہ تک https://bmjopen.bmj.com/content/bmjopen/9/4/e025979.full.pdf کے ذریعہ رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔
این ایس ایس او کے تخمینوں کی بنیاد پر ہر دس ہزار افراد کی آبادی پر کل 29 صحت کارکن ہیں اور رجسٹریشن انڈیا کے اعدادوشمار کی بنیاد پر ہر دس ہزار افراد کی آبادی پر ان کی تعداد 38 ہے جو کہ عالمی ادارہ صحت کے دس ہزار افراد کی آبادی پر 22.8 صحت کارکنوں کے کم از کم نشانے کے قریب قریب ہے ۔مطالعے میں پورے ملک میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی تعداد میں بھی نابرابری کی بات کہی گئی ہے۔ کیرالہ اور مرکز کے زیرانتطام علاقوں (یو ٹی ) میں راجستھان ، جھارکھنڈ اور بہار جیسی بڑی ریاستوں کے مقابلے میں ڈاکٹروں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔
نیشنل سیمپل سروے 12-2011 کے اعدادوشمار اور صحت سے متعلق انسانی وسائل کی تفصیلات کواستعمال میں لاکر 2016 میں صحت کارکنوں کی شرکت کی شرح پیش کی گئی تھی۔ علاوہ ازیں سروے میں صحت پیشہ وروں سے متعلق 2017 کے رجسٹری اعدادوشمار (میڈیکل کونسل آف انڈیا، انڈیا نرسنگ کونسل ، ڈینٹل کونسل آف انڈیا اور دیگر متعلقہ پیشہ ور شامل ہیں)کو استعمال میں لایا گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
م ن۔ش س ۔ ج۔
U- 2972
(ریلیز آئی ڈی: 1578007)
وزیٹر کاؤنٹر : 88