وزارت خزانہ

2032 تک 10 ٹریلین امریکی ڈالر کی مالیت کی معیشت کے لئے ایک مضبوط اور بھروسے مند بنیادی ڈھانچہ کی ازحد ضروری ہے


اقتصادی جائزے میں بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں سرمایہ کاری کے خلاء کو پر کرنے کے لئےپبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ( پی پی پی )کے تحت جدت طراز طریقے اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے

بنیادی ڈھانچے کے شعبے  میں اختلافات کے حل کے لئے ادارہ جاتی نظام کی ضرورت پر زور

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 04 JUL 2019 12:13PM by PIB Delhi

نئی دہلی، 04 جولائی 2019،   مرکزی وزیر مالیات و کارپوریٹ امور محترمہ نرملا سیتا رمن  نے پارلیمنٹ میں قومی اقتصادی جائزہ برائے 2018۔19 پیش کیا۔ ملک کی صنعتوں اور بنیادی ڈھانچوں کا تجزیہ کرتے ہوئے اس اقتصادی جائزے میں کہا ہے کہ ملک کو ایک مضبوط اور ایک بھروسے مند بنیادی ڈھانچے کے نظام کی سخت ضرورت ہے۔ سال 2018 کے صنعتی پیداوار کے اشاریے (آئی آئی پی) میں صنعتی نمو کی شرح سال 2017۔18 کے 4.4 فیصد کے مقابلے  3.6 فیصد رہی ہے۔ سال 2018۔19 کے دوران تیسری اور چوتھی سہ ماہی میں اعتدال ماتحت نقدی کی کمی اور قرض کے سست بہاؤ جیسے اسباب کے سبب مینوفیکچرنگ کی سرگرمیوں کے نتیجے میں رہا ہے۔

جائزے میں مزید کہا گیا ہے کہ سرکار نے اعلیٰ مینوفیکچرنگ کی نمو میں اضافے کے لئے کلیدی شعبوں میں اسٹارٹ اپ انڈیا، ایز آف ڈوئنگ بزنس، میک ان انڈیا اور  فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ پالیسی ریفارم جیسے اہم اقدامات کیے ہیں۔  بھارت نے کاروبار کرنا آسا ن بنانے کی 2018 کی رپورٹ میں 190 ممالک کی فہرست میں 100 ویں مقام سے 77ویں مقام پر چھلانگ لگائی   ہے۔ سرکار نرم راست غیر ملکی سرمایہ کاری پالیسی کے فروغ کے ذریعہ سرمایہ کاری کے میدان میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ سال 2018۔ 19 میں راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے بہاؤ کی مالیت 44.36 ملین ڈالر رہی جبکہ سال 2018 میں یہ مالیت 44.85 ملین ڈالر تھی۔ پائیدار اور مضبوط بنیادی ڈھانچہ میں سوبھاگیہ اور پی ایم اے وائی جیسی اہم اسکیموں کو انتہائی اہمیت دی گئی ہے۔ سال 2018۔19 سڑکوں کی یومیہ تعمیر کی شرح 30 کلو میٹر یومیہ رہی ہے۔ جبکہ سال 2014۔15 میں سڑکوں کی تعمیر کی شرح 12 کلو میٹر یومیہ تھی۔ 2017۔18 کے مقابلے میں 2018۔19 میں ریلوے بھاڑے اور مسافروں کی تعداد میں بالترتیب  5.33 اور 0.64 فیصد کا اضافہ رونما ہوا ہے۔ دوسری طرف ملک میں سال 2018۔19 میں 118.34 کروڑ ٹیلی فون کنکشن دستیاب کرائے گئے۔ اس کے ساتھ ہی بجلی کی مقررہ پیداوار بڑھ کر سال 2018 کے 344002 میگاواٹ کے مقابلے میں سال 2019 میں 356100 میگاواٹ  ہوگئی ۔

 

ہندوستانی صنعت : ایک جائزہ

جائزے میں یہ دیکھا گیا ہے کہ سال 2018۔19 میں صنعتی میدان کی کارکردگی سال 2017۔18 کے مقابلے میں بہتر رہی ہے۔ سال 2018۔19 میں صنعتی نمو اور رئیل گراس ویلیو 6.4 فیصد تھی جبکہ 2017۔18 میں یہ 5.9 فیصد تھی۔2017۔ 18 میں  صنعتی پیداوار کے اشاریے (آئی آئی پی) کے تحت صنعتی نمو کی شرح 4.4 جو 2018۔19 میں 3.6 فیصد رہی۔ سال 2018۔19 کے دوران کانکنی، مینوفیکچرنگ  اور بجلی کے شعبوں میں بالترتیب 2.9 فیصد ، 3.6 فیصد اور 5.2 کی مثبت شرح نمو درج کی گئی۔

حکومت ہند نے 2014 سے صنعتوں پر مرتکز ایسے اقدامات کیے ہیں جن سے کاروبار کے مجموعی ماحول میں اضافہ ہوا ہے۔ نوجوانوں میں جدت طرازی اور کاروباریت کے فروغ کے لئے وزیر اعظم نے اسٹارٹ اپ انڈیا اور اسٹینڈ اپ انڈیا جیسے اہم پروگراموں کا اعلان 15 اگست 2015 کو کیا تھا۔ مارچ 2019 تک ، ملک کے 499 اضلاع کا احاطہ کرتے ہوئے 16578 نئے اسٹارٹ اپ اداروں کو منظوری دی جا چکی تھی۔ اس سلسلے میں اسٹارٹ اپ وغیرہ کی پیداوار پر انکم ٹیکس کی چھوٹ جیسے نرم اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔

بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتیں:

سرکار نے بہت چھوٹی ، چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتوں کی تیز رفتار نمو کے لئے مختلف کلیدی اعلانات کیے ہیں جن کا مقصد آن لائن پورٹل کے ذریعہ 59 منٹ کے وقت میں ہی ایک کروڑ روپئے تک کے قرض کی اصولی منظوری سمیت کاروبار کی آسانی کو فروغ دینا ہے۔ایم ایس ایم ای اداروں کو دیے جانے والے ایک کروڑ روپئے تک کے قرض کی شرح سود میں 2 فیصد کی کمی کی گئی ہے، یہ رعایت جی ایس ٹی میں رجسٹرڈ سبھی ایم ایس ایم ای اداروں کو دی گئی ہے، یہ رعایت سال 2018۔19 اور 2019۔20 تک دو سال کی مدت کے لئے 975 کروڑ روپئے کے قرض کی تخصیص پر دستیاب رہے گی۔ سرکار نے نئے کاروباری اداروں کے قیام اور موجودہ اداروں کی ترقی و فروغ کے لئے پرائم منسٹر کریڈٹ گارنٹی ٹرسٹ فنڈ فار مائکرو اینڈ اسمال انٹرپرائزز ، کریڈٹ لنکڈ کیپٹل سبسڈی اسکیم برائے تکنیکی تازہ کاری، ٹریڈشنل انڈسٹریز اینڈ مائکرو اینڈ اسمال اینٹرپرائزز کلسٹر ڈیولپمنٹ پروگرام  جیسی اسکیموں کا اعلان کیا ہے۔

سڑک کا شعبہ :

مذکورہ اقتصادی جائزے میں کہا گیا ہے کہ ملک میں سال 2018۔19 میں سڑکوں کی تعمیر 30 کلو میٹر یومیہ کی زبردست رفتار سے کی گئی۔ جبکہ سال 2014۔15 میں سڑکوں کی یومیہ تعمیر کی شرح 12 کلو میٹر یومیہ تھی۔ یہ کامیابی ان فعال پالیسیوں کی بدولت ہی ممکن ہو سکی ہے جن میں طریقہ کار کی آسانی، بہتر بین وزارتی تال میل، زیر التوا پڑے پروجیکٹوں کے تدارک کے اقدامات، جدت طراز پروجیکٹ فائننسنگ اور پبلک فنڈس، تحویل آراضی کے طریقہ کار میں آسانی جیسے اقدامات شامل ہیں۔

شہری ہوابازی:

جائزے میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان میں سال 2018۔19 کے دوران گھریلو فضائی مسافرت اور فضائی مال برداری میں بالترتیب 14 اور 12 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔ مالیہ مسافر کلومیٹر کے معاملے میں گھریلو مسافر نقل و حمل میں دنیا میں ماہ دسمبر 2018 تک دنیا میں بھر میں لگاتار 50 مہینوں تک 20 فیصد کی سب سے اعلیٰ شرح نمو درج کی گئی۔علاقائی رابطہ کاری کے لئے اُڑان (اُڑے دیش کا عام ناگرک) کی اسکیم کے تحت 719 فضائی راستوں کی منظوری دے دی ہے جن میں سے 142 فضائی راستوں پر پروازیں جاری ہیں۔ اس اسکیم سے ان 23 کم استعمال شدہ ہوائی اڈوں کو رابطہ کاری سی سہولت حاصل ہوئی ہے۔

سال 2018 کے دوران گھریلو فضائی مال برداری میں  12.1 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا جس کے تحت 3.6 ملین میٹرک ٹن سامان کی فضائی مال برداری کی گئی۔ پہلی قومی فضائی ایئر کارگو پالیسی کی آؤٹ لائن جنوری 2019 میں جاری کی گئی تھی جس کا مقصد سال 2026۔27 تک فضائی مال برداری کی مقدار 10 ملین میٹرک ٹن تک پہنچانا تھا۔

جہاز رانی (شپنگ):

31 جنوری 2019 کو ہندوستان کے بحری جہازوں کے بیڑے میں 1405 جہاز شامل تھے جن کا ڈیڈ ویٹ ٹنیج (ڈی ڈبلیو ٹی) 19.22 ملین (12.74 ملین جی ٹی) تھا۔ بندرگاہوں کے ذریعہ 90 فیصد مقدار کی مالبرداری اور 70 فیصد مالیت کی مالبرداری کی جاتی ہے۔ بندرگاہوں کی توسیع کو اولین ترجیح دی گئی ہے، یہ ترجیح ساگرمالا اور پروجیکٹ انتی جیسے پروجیکٹ کے تحت دی گئی ہے۔ جہاز رانی کی وزارت نے ایز آف ڈوئنگ بزنس کی سہولت کے لئے متعدد اقدامات کیے ہیں جن میں مال برداری کی مدت میں کمی اور لاگت میں کمی جیسے اہم فیصلے شامل ہیں۔

اندرون ملک آبی شاہراہوں کے محاذ پر ہندوستان کا پہلے اِن لینڈ واٹر وے ملٹی  ماڈل ٹرمنل کا وارانسی میں نومبر 2018 میں وزیر اعظم مودی نے افتتاح کیا تھا جہاں دریائے گنگا میں کولکاتا سے سفر کرتے ہوئے پہلا مال بردار جہاز وارانسی ٹرمنل پہنچا تھا۔

ٹیلی کام سیکٹر:

جائزے میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں سال 2018۔19 کے دوران ٹیلی فون کنکشنوں کی کل تعداد 2013۔14 کے 93.3 کروڑ سے بڑھ کر سال 2018۔19 میں 118.34  کروڑ ہوگئی جو 26.84 فیصد اضافے کے بقدر  ہے۔ان میں سے 51.42 کروڑ کنکشن ملک کے دیہی علاقوں میں ہیں جبکہ وائرلیس ٹیلی فون کنکشن کے صارفین کی تعداد 98.17 فیصد ہے۔ ہندوستان میں مارچ 2019 کے آخر تک مجموعی ٹیلی فون رابطہ کاری 90.10 فیصد کے بقدر ہے جن میں سے دیہی فون رابطہ کاری 57.50 اور شہری فون رابطہ کاری 159.66 فیصد رہی ہے۔

اس کے ساتھ ہی ہندوستان میں گذشتہ کچھ برسوں کے دوران موبائل کی صنعت میں بھی زبردست فروغ ہوا ہے۔ جی ایس ایم اے ایک رپورٹ کے مطابق موبائل کی صنعت کا حصہ ہندوستان کی مجموعی گھریلو شرح نمو میں تقریبا 6.5 فیصد ہے اور امید ہے کہ 2020 تک ملک کی مجموعی گھریلو شرح نمو میں موبائل کی صنعت کی حصہ داری 8.2 فیصد ہو جائے گی۔

مزید برآں، اگلے 15 برسوں کے دوران عالمی معیشت میں 5جی تکنالوجی کی مالیت 2.2 ٹریلین امریکی ڈالر ہو جائے گی جس میں مینوفیکچرنگ، یوٹیلٹیز اور پیشہ ورانہ سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔ 5جی کا تصور نیٹ ورک سے آراستہ سماج کے امکانات میں اضافے کی بنیاد کے طور پر کیا گیا ہے اور سرکار نے اعلیٰ سطحی 5 جی انڈیا 220 فورم کی تشکیل کر دی ہے جس کا مقصد ہندوستان میں 5جی کے تصور کو فعال بنانا تھا۔ اس فورم نے اپنی رپورٹ ’میک ان انڈیا 5جی ریڈی‘ کے عنوان سے اگست 2018 میں پیش کر دی تھی۔

پیٹرولیم اور قدرتی گیس:

اقتصادی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ سرکار کا مقصد خودکفالتی کے ذریعہ پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے شعبے میں اصلاحات کرنا، اس کی کارکردگی میں اضافہ کرنا اور اس میں تبدیلیاں پیدا کرنا ہے۔ پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے اس سلسلے میں کچھ نئی اصلاحات اور نئے اقدامات کیے ہیں جن میں ہائیڈرو کاربن ایکسپلوریشن لائنسنسنگ پالیسی (ایچ ای ایل پی) / اوپن اکرئیج لائسنسنگ پالیسی (او اے ایل پی)، ڈسکورڈ اسمال فیلڈ (ڈی ایس ایف) پالیسی اور پالیسی ٹو پروموٹ اینڈ انسینٹی وائز انہیسڈ ریکوری میتھڈس فار آئل اینڈ گیس جیسے اقدامات شامل ہیں۔

پردھان منتری اجوولا یوجنا ملک کے خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والے پانچ کروڑ کنبوں کو ایل پی جی کنکشن دستیاب کرائے جانے کے مقصد سے شروع کی گئی تھی۔اس اسکیم کے تحت 31 مارچ 2019 تک 7.189 کروڑ ایل پی کنکشن دستیاب کرائے جا چکے ہیں۔

بجلی کا شعبہ:

ملک میں بجلی کی پیداوار اور ٹرانسمشن میں زبردست اضافہ درج ہوا ہے۔ بجلی کی مقررہ پیداوار سال 2018 میں 344002 میگا واٹ تھی جو سال 2019 میں بڑھ کر 356100.19 میگا واٹ ہوگئی۔ سال 2019 کے دوران بجلی کی کل پیداوار درآمد شدہ اور قابل تجدید توانائی کے وسائل سمیت 1376 بی یو رہی ہے۔

مارچ 2019 تک سوبھاگیہ اسکیم (پردھان منتری سہج بجلی ہر گھر یوجنا) کے آغاز سے اب تک 2.62 کروڑ کنبوں کو بجلی کے کنکشن فراہم کرائے جا چکے ہیں۔

ہاؤسنگ:

دی ریئل اسٹیٹ ریگولیشن اینڈ ڈیولپمنٹ ایک، 2016 (آر ای آر اے) کا نفاذ تعمیرات کے شعبے کے فروغ اور اس کی کارکردگی میں شفافیت اور مؤثریت پیدا کرنے کی غرض سے اور مکانات کے خریداروں کے مفادات کے تحفظ کے لئے کیا گیا تھا۔

پردھان منتری آواس یوجنا (شہری ) کا آغاز 25 جون 2015 کو کیا گیا تھا۔ اس یوجنا کا مقصد 2022 تک سبھی اہل اور مستحق کنبوں کو مکان دستیاب کرانا تھا۔ اب تک 4427 شہروں/قصبوں کو پی ایم اے وائی (یو) میں شامل کیا جا چکا ہے۔

اس کے ساتھ ہی جون 2015 میں اسمارٹ سٹی مشن پانچ سال کی مدت کار کے لئے شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد بنیادی سہولیات فراہم کرانے والے شہروں کو فروغ دینا  اور شہریو ں کو معیاری زندگی فراہم کرانا تھا۔ ایس سی ایم کے تحت 100 شہروں کو اسپیشل پرپز وہیکلز، سٹی لیول ایڈوائزری فورم میں شامل کیا جا چکا ہے اور ان کے لئے پروجیکٹ مینجمنٹ کنسلٹنٹ کا تقرر بھی کیا جا چکا ہے۔

شہروں کے لئے زندگی بسر کرنا آسان بنانے سے متعلق عدد اشاریہ کا پہلا فریم ورک جون 2017 میں اس مقصد سے جاری کیا گیا تھاکہ ایک ایسا عدد اشاریہ تیار کیا جائے جو شہری منصوبہ بندی میں اعدادو شمار اور انتظام کے معاملے میں اعداد و شمار پر مبنی طریقہ کار فراہم کرسکے اور شہروں کے مابین صحت مند مسابقت کو فروغ دے۔ ایز آف لونگ انڈیکس 2019 نتائج پر زیادہ مرتکز بناکر متعارف کرایا گیا تھا۔

سروے میں خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ ایک مضبوط اور لچکدار بنیادی ڈھانچہ ابھرتی ہوئی صنعتوں کے لئے لازمی تقاضہ ہے۔ ایک طرف جہاں بھارت میں گذشتہ برسوں کے دوران بنیادی دھانچے میں سرمایہ کاری کی ہے وہیں دوسری جانب چنوتی ہے کہ بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں کس طریقے سے وافر سرمایہ کاری بہم پہنچائی جائے اور یہ سرمایہ کاری کھربوں ڈالروں میں ہوگی۔ بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں سرمایہ کاری میں جو سقوم واقع ہیں انیہں مختلف النوع اختراعی طریقہ کار اپنا کر ختم کرنا ہوگا اور ا س کام میں سرکاری و نجی دونوں شعبوں کا اشتراک درکار ہوگا۔ بنیادی ڈھانچہ میں نجی سرمایہ کاری خاص طور سے پی پی پی کی شکل میں سامنے آئی ہے۔

اس شعبے کو درپیش چنوتیوں میں سے ایک چنوتی یہ ہے کہ ایسے پروجیکٹوں کے لئے جو یا تو درمیان میں لٹکے ہوئے ہیں یا جن میں پنچارٹ پر مبنی تنازعات/ دعووں کی وجہ سے ان کو عملی شکل نہیں دی جا سکی ہے اور اس کے لئے کس طریقے سے ایک جامع حل نکالا جائے۔ بنیادی ڈھانچہ کے شعبوں میں تنازعات کا معینہ مدت کے اندر حل نکالنے کے لئے ایک ادارہ جاتی میکنزم کا قیام درکار ہے۔

2023 تک 10 کھرب ڈالر کی معیشت کھڑی کرنے کے لئے بھارت کو ایک لچکدار بنیادی ڈھانچہ درکار ہے ۔ عوامی سرمایہ کار کلی طور پر بنیادی ڈھانچہ سرمایہ کی ضروریات کے لئے سرمایہ فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ لہذا اصل چنوتی یہ ہے کہ  ملک بھر میں کس طریقے سے وافر نجی سرمایہ کاری سرکاری دائرہ کار کے شعبے سے تال میل بناکر بہم پنچائی جائے۔

۔۔۔۔۔۔

 

 U. No. 2816

 


(ریلیز آئی ڈی: 1577111) وزیٹر کاؤنٹر : 152
یہ ریلیز پڑھیں: Marathi , Bengali , English , Urdu