کامرس اور صنعت کی وزارتہ

اِسٹارٹ اَپ انڈیااسکیم

Posted On: 28 JUN 2019 1:45PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی، 28  جون / تجارت و صنعت کے وزیر پیوش گوئل نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا ہے کہ  16 جنوری ، 2016 ء کو  شروع کی گئی اِسٹارٹ اَپ انڈیا پہل قدمی 19  ایکشن پوائنٹس یا عملی نکات پر مشتمل ہے  ، جو اس پہل قدمی کے رہنما دستاویز  کے طور پر کام کرتی ہے ۔  ان  عملی نکات  کی اہم خصوصیات  ضمیمہ نمبر  I میں دی گئی ہیں ۔

          اپنے آغاز کے بعد سے  ملک بھر کے 19351 اَسٹارٹ اَپس کو  صنعتی فروغ اور داخلی تجارت کے محکمے ( ڈی پی آئی آئی ٹی ) نے 24 جون ، 2019 ء تک تسلیم کیا ہے ۔ تسلیم شدہ اِسٹارٹ اَپس کی ریاست وار تعداد ضمیمہ نمبر II میں فراہم کی گئی ہے ۔

          حکومت ہند نے 10000 کرو ڑروپئے کے سرمائے سے اِسٹارٹ اَپس کے لئے فنڈ آف فنڈس قائم کیا ہے  تاکہ اسٹارٹ اَپس کے لئے درکار  سرمائے کی ضرورت کی تکمیل کی جا سکے ۔ ڈی پی آئی آئی ٹی نگرانی ایجنسی کے طور پر کام کرتاہےاور اسمال انڈسٹریز ڈیولپمنٹ بینک آف انڈیا (سِڈبی ) ایف ایس ایس کے لئے آپریٹنگ ایجنسی  کے طورپر کام کرتا ہے ۔  10000 کروڑ روپئے کا مکمل سرمایہ اس لئے فراہم کرایا گیا ہے تاکہ وہ اسکیم کی پیش رفت اور فنڈ کی دستیابی کی بنیاد پر  14 ویں اور 15 ویں مالیاتی کمیشن کے دائرۂ کار کے تحت فراہم کرایا جائے ۔ سِڈبی نے درج رجسٹرڈ متبادل سرمایہ کاری فنڈ کے تحت 49 ایس ای بی آئی اداروں کو 3123.20 کروڑ روپئے فراہم  کرانے کا عہد کیا ہے ۔  یہ تمام تر سرمایہ  بھارتی روپئے کی شکل میں 27478 کروڑ روپئے  کے بقدر ہے ۔  483.46 کرو ڑروپئے  اسٹارٹ اپس کے لئے فنڈ آف فنڈس سے نکالے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ ، اے آئی ایف  اداروں میں 247 اسٹارٹ اَپس کے تحت 1625.73 کروڑ روپئے کی سرمایہ  کاری کی گئی ہے ۔ اے آئی ایف اداروں کے ذریعے  ، جس قدر سرمایہ کاری کی گئی ہے ، اُس کی ریاست / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے تفصیلات ضمیمہ III میں فراہم کی گئی ہیں ۔

          مجموعی طور پر 26 ریاستوں  نے اسٹارٹ اَپس پالیسیوں کی مشتہری کی ہے اور  مصروفِ عمل اسٹارٹ اَپس کی جانکاری بھی دی ہے ۔  اَسٹارٹ اَپس پالیسیوں کی  ریاست / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے تفصیلات ضمیمہ IV میں فراہم کی گئی ہیں ۔

          ڈی پی آئی آئی ٹی  کے ذریعے اُن پانچ سرکردہ ریاستوں کی تفصیلات ، جہاں سب سے زیادہ تعداد میں رجسٹریشن ہوئے ہیں ، ضمیمہ نمبر V میں فراہم کی گئی ہیں ۔

ضمیمہ – I

 اِسٹارٹ اَپس انڈیا ایکشن پلان کی خصوصی جھلکیاں

  1. از خود تصدیق کی بنیاد پر  عمل در آمد کا نظام
  2. اِسٹارٹ اَپس انڈیا ہب
  3. موبائل ایپ اور پورٹل کا آغاز
  4. کم لاگت پر قانونی امداد اور تیز رفتاری کے ساتھ پیٹنٹ کے جائزے کا نظام
  5. اِسٹارٹ اَپس کے لئے عوامی حصولیابی کے معاملے میں رعایت شدہ اصول و قواعد
  6. اِسٹارٹ اَپس کے لئے باہر نکلنے کا تیز رفتار نظام
  7.  فنڈ آف فنڈس کے توسط سے ، جس کا بنیادی سرمایہ 10000 کرو ڑروپئے کے بقدر ہے ، سرمایہ امداد کی فراہمی
  8. اِسٹارٹ اَپس کے لئے قرض کی ضمانت کے لئے فنڈ
  9. بڑے منافعے پر ٹیکس سے استثنائی
  10. تین برسوں کے لئے اِسٹارٹ اَپس کو ٹیکس سے استثنائی
  11. معقول منڈی قدر و قیمت سے اوپر سرمایہ کاری کے معاملے میں ٹیکس سے استثنائی
  12. اختراع کی جھلک پیش کرنے اور ایک مشترکہ پلیٹ فراہم کرنے کے لئے اِسٹارٹ اَپس میلوں کا اہتمام
  13. اٹل اختراعی مشن کا آغاز
  14. انکیوبیٹر سیٹپ یعنی  سرپرستی فراہم کرنے کے لئے نجی شعبے کی  مہارت کو  بروئے کار لانا
  15. قومی اداروں میں اختراعاتی مراکز  کی تعمیر
  16. آئی آئی ٹی مدراس میں  تحقیقی پارک سیٹپ کے طور پر  7 نئے تحقیقی پارکوں کا قیام
  17. بایو ٹیکنا لوجی کے شعبے میں اِسٹارٹ اَپس کو فروغ دینا
  18. طلباء کے لئے  اختراعات پر  مرتکز پروگراموں  کا آغاز
  19. سالانہ بنیاد پر  انکیوبیٹر گرانڈ چیلنج

 

ضمیمہ – II

اِسٹارٹ اَپس انڈیا پہل قدمی کے تحت تسلیم کئے گئے اِسٹارٹ اَپس کی تعداد (ریاست / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے )

 

نمبر شمار

ریاست

تسلیم شدہ اِسٹارٹ اَپس کی تعداد

1

مہاراشٹر

3661

2

کرناٹک

2847

3

دلّی

2552

4

اتر پردیش

1566

5

تلنگانہ

1080

6

ہریانہ

1052

7

تمل ناڈو

1004

8

گجرات

985

9

کیرلا

849

10

مغربی بنگال

573

11

راجستھان

531

12

مدھیہ پردیش

525

13

اڈیشہ

343

14

آندھرا پردیش

323

15

بہار

257

16

چھتیس گڑھ

249

17

جھار کھنڈ

158

18

اترا کھنڈ

157

19

پنجاب

142

20

آسام

137

21

جموں و کشمیر

86

22

گوا

80

23

چنڈی گڑھ

78

24

ہماچل پردیش

39

25

پڈوچیری

22

26

منی پور

14

27

ناگا لین

8

28

انڈمان و نکوبار جزائر

6

29

تری پورہ

6

30

دادرا اور نگر حویلی

4

31

میگھالیہ

4

32

اروناچل پردیش

3

33

میزورم

3

34

اڈیشہ

3

35

دمن اور دیو

2

36

سکم

2

میزان

19351

 

ضمیمہ – III

اِسٹارٹ اَپس کے لئے اے آئی ایف کے ذریعے فنڈ آف فنڈس کے سلسلے میں  کی گئی سرمایہ کاری  کی ریاست کے لحاظ سے تقسیم

 

ریاست

اُن اِسٹارٹ اَپس کی تعداد ، جن میں سرمایہ کاری کی گئی

اے آئی ایف کے ذریعے کی گئی سرمایل کاری ( کروڑ روپئے میں )

کرناٹک

75

499.85

مہاراشٹر

68

440.38

دلّی

46

252.94

ہریانہ

12

120.54

تمل ناڈو

11

113.34

مغربی بنگال

4

48.75

اتر پردیش

5

47.61

راجستھان

5

40.28

تلنگانہ

6

28.22

پنجاب

1

14.50

کیرلا

8

10.87

مدھیہ پردیش

4

5.10

گجرات

1

3.14

اترا کھنڈ

1

0.22

میزان

247

1625.73

 

 

ضمیمہ – IV

وہ ریاستیں / مرکز کے زیر انتظام علاقے ، جنہوں نے اِسٹارٹ اَپس پالیسیاں وضع کرلی ہیں

 

  1. انڈمان و نکوبار جزائر
  2. آندھر ا پردیش
  3. آسام
  4. بہار
  5. چھتیس گڑھ
  6. گوا
  7. گجرات
  8. ہریانہ
  9. ہماچل پردیش
  10. جموں و کشمیر
  11. جھار کھنڈ
  12. کرناٹک
  13. کیرلا
  14. مدھیہ پردیش
  15. مہاراشٹر
  16. اڈیشہ
  17. راجستھان
  18. تلنگانہ
  19. اتر پردیش
  20. اترا کھنڈ
  21. مغربی بنگال
  22. تمل  ناڈو
  23. منی پور
  24. پنجاب
  25. سکم
  26. ناگا لینڈ

 

ضمیمہ -  V

ملک کی  ، اُن پانچ سرکردہ ریاستوں کی تعداد ، جہاں اِسٹارٹ اَپس انڈیا پہل قدمی کے تحت سب سے زیادہ تعداد میں  اِسٹارٹ اَپس قائم ہوئے ہیں

 

نمبر شمار

ریاست

تسلیم شدہ اِسٹارٹ اَپس کی تعداد

1

مہاراشٹر

3661

2

کرناٹک

2847

3

دلّی

2552

4

اتر پردیش

1566

5

تلنگانہ

1080

 

U. No. 2677



(Release ID: 1576252) Visitor Counter : 60


Read this release in: English , Marathi