وزارت آیوش
آیوش نظام کا جدید ادویات سے تال میل
प्रविष्टि तिथि:
28 JUN 2019 3:44PM by PIB Delhi
نئی دہلی،28؍جون،آیوش کی وزارت، بھارتی آیوش نظام کی ایک سائنسی اور بھروسے مند دواؤں کے متبادل نظام کے طور پر مقبول بنانے کی خاطر بھارتی آیوش نظام کو جدید ادویات سے مربوط کرنے اور فروغ دینے کے لئے مختلف اقدامات کئے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:
آیوش کی وزارت مرکزی سرپرستی والی اسکیم ، نیشنل آیوش مشن (این اے ایم)کے تحت آیوش کو بنیادی ہیلتھ صحت مراکز (پی ایچ سی)، سماجی صحت مراکز (سی ایچ سی) اور ضلع اسپتالوں ( ڈی ایچ)کے ساتھ ہی قائم کر رہی ہے تاکہ مریضوں کو علاج کے مختلف طریقوں کے بارے میں انتخاب کرنے کا موقع دیا جا سکے۔
آیوش کی وزارت صحت خدمات کے ڈائریکٹوریٹ جنرل (ڈی جی ایچ ایس )، این پی سی ڈی سی ایس کو نافذ کر رہی ہے، جس کا مقصد کینسر ، ذیابیطس، امراض قبل اور اسٹروک کی روک تھام اور بچا ؤ میں کام کرنا ہے۔ اس کے علاوہ صحت کا فروغ، غیر متعدی بیماریوں کی روک تھام اور بندوبست اور طرز زندگی سے جُڑی بیماریوں کی روک تھام اپنے تین تحقیقی تنظیموں کے ذریعے کر رہی ہے، جن میں سینٹرل کونسل فار ریسرچ ان آیورویدک سائنس، سینٹرل کونسل فار ریسرچ اِن یونانی میڈیسن اور سینٹرل کونسل فار ریسرچ ان ہومیوپیتھی کے ذریعے تحقیق کا کام کر رہی ہے۔ یہ مرکزی کونسل راجستھان کے بھیلواڑہ، گجرات سریندر نگر، بہار کے گیا، مغربی بنگال کے دارجلنگ، آندھر پردیش کے کرشنا، سنبھل پور (اڈیشہ)، مہاراشٹر کے ناسک اور اترپردیش کے لکھیم پور کھیری میں قائم ہیں۔
اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ 10 فیصد ذیلی سینٹروں کو بہتر بنا کر آیوشمان بھارت کے تحت صحت کے بہتر مراکز (ایچ ڈبلیو سی) کر دیا جائے تاکہ آیوش کی وزارت انہیں جامع صحت مراکز کے طور پر فروغ دے سکے۔ آیوش کی وزارت نے 3 سال میں اب تک 12،500 ایچ ڈبلیو سی تیار کئے ہیں، جن میں 4200 کو موجودہ سال کے دوران چالو کر دیا جائے گا۔
سی سی آر ایچ نے ’’ صحت مند بچے کیلئے ہومیوپیتھی‘‘ پر ایک عوامی صحت پروگرام تیا رکیا ہے، جسے راشٹریہ بال سواستھ کاریہ کرم (آر بی ایس کے) سے مربوط کیا گیا ہے۔
سِدّھا میں تحقیق کے لئے مرکزی کونسل (سی سی آر ایس) غیر متعدی بیماریوں کے لئے خصوصی او پی ڈی کا اہتمام کرتی ہے۔ زیادہ تر مریض روایتی علاج پر رکھے جا رہے ہیں اور سدھا سے ان کی مدد کی جاتی ہے۔ ڈینگو اور چکن گنیا کی روک تھام اور علاج کے لئے سدھا کی ایک دوا’’نیلا ویمبو کُدینیر‘‘ کو شامل کیا گیا ہے۔
یوگا کے مرارجی دیسائی قومی انسٹی ٹیوٹ نے، جو آیوش کی وزارت کے تحت ایک خودمختار ادارہ ہے، دلی این سی آر میں سی جی ایچ ایس کے ویلنیس سینٹروں میں یوگا کے حفظان صحت کے 19 مرکز قائم کئے ہیں۔ یہ مراکز یوگا کے بارے میں صلاح و مشورہ دیتے ہیں اور یوگا سیکھنے والوں کو یوگا کی تربیت اور طریقۂ علاج کے بارے میں بتاتے ہیں۔
مذکورہ بالا معلومات آج لوک سبھا میں آیوش کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)جناب شری پد یسونائک نے کل ایک سوال کے تحریری جواب میں ایوان کو مطلع کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
U- 2683
(रिलीज़ आईडी: 1576222)
आगंतुक पटल : 155
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें:
English