نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
نائب صدر جمہوریہ ہند نے انتخابی مباحثوں کے گرتے ہوئے معیار پر رنج و غم کا اظہار کیا
مخالفین کے لئے نا زیبا الفاظ کے استعمال کے خلاف نصیحت کی
مخالفین کو حریف کے طور پر دیکھا جائے نہ کہ دشمن کے طور پر: اداروں کا ادب کیا جائے: نائب صدر جمہوریہ ہند
اپنے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب سے نائب صدر جمہوریہ ہند کا خطاب
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
19 MAY 2019 5:20PM by PIB Delhi
نئی دلّی، 20 مئی / نائب صدر جمہوریہ ہند جناب ایم۔ وینکیا نائیڈو نے حالیہ انتخابات کے دوران انتخابی مہموں میں سیاسی مباحثوں کے دوران عوام سے متعلق بڑی تعداد میں مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے ذاتی حملوں کے باعث انتخابی مباحثو ں کے گرتے ہوئے معیار پر رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
نائب صدر جمہوریہ ہند جناب ایم۔ وینکیا نائیڈو نے کوسٹا ریکا کی یونیورسٹی برائے امن کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دیئے جانے کی خوشی میں اپنے دوستوں اور خیر خواہوں کی جانب سے دی گئی ایک ضیافت کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیاست دانوں کو یاد رکھنا چاہئیے کہ وہ ایک دوسرے کے محض حریف ہیں نہ کہ ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور نا زیبا الفاظ کا استعمال نہیں کیا جانا چاہئیے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی پارٹیوں، عوام اور پریس کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئیے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ لیجسلیٹر کے طور پر اپنے ابتدائی دنوں میں حکومت کی پالیسیوں کے سخت مخالف ہونے کے با وجود بھی انہوں نے کبھی ذاتی حملوں کا ارتکاب نہیں کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ، حزب اختلاف کے رہنما اور دیگر عوامی نمائندگان اداروں کا ادب و احترام کیا جانا چاہئیے۔
نائب صدر جمہوریہ ہند نے تمام شعبہ ہائے حیات کے گرتے ہوئے معیار پر رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے لیجسلیٹروں، سیاسی پارٹیوں، اداروں اور عوامی زندگی میں لوگوں سمیت تمام افراد سے اعلیٰ معیار اور اقدار کو بر قرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں عوام سے یہ بھی در خواست کی کہ وہ اپنے نمائندوں کو کر دار، صلاحیت، چال چلن اور جمہوریت کو مضبوط کرنے کی صلاحیت کی بنیاد کر منتخب کریں حالانکہ کاسٹ، کیش، کمیونٹی اور کریمنلٹی یعنی ذات پات، نقدی، برادری اور جرائم پیشہ جیسے عناصر بھی حاوی ہونے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔
جناب نائیڈو نے سیاسی پارٹیوں کی جانب سے جوڑ توڑ کرنے اور پیش کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے میڈیا کو خبروں کو نظریات کے ساتھ ملانا نہیں چاہئیے انہوں نے مزید کہا کہ عوامی نمائندگان کی کار کردگی کا ہر پانچ سال میں ایک آڈٹ کیا جانا چاہئیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک اور ریاستوں کو قابل رہنما وں اور مستحکم حکومت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بھارت میں اور غیر ملکی دوروں کے دوران غیر ملکی شخصیات کے ساتھ اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھارت کی اقتصادی ترقی کی رفتار سے متاثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بھارت کی حیثیت کو تسلیم کیا جا رہا ہے اور احترام کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی اقتصادیات پیش رفت کی جانب گامزن ہے جبکہ عالمی اقتصادیات تنزلی کا شکار ہو رہی ہے۔
جناب نائیڈو نے کہا کہ دنیا بھارت کی قدیم ترین اخلاقیات اور تہذیبی اقدار اور شانتی اور اہنسا کے اصولوں پر قائم رہنے کے باعث اس کا ادب اور احترام کرتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔
U. 2152
(ریلیز آئی ڈی: 1572258)
وزیٹر کاؤنٹر : 73