آبی وسائل، دریائی ترقیات اور گنگا احیاء کی وزارت

ملک کے 91 بڑے آبی ذخائر کی سطح آب میں دو فیصد کمی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 16 MAY 2019 5:49PM by PIB Delhi

 

نئیدہلی۔17؍مئی۔ملک کے 91 بڑے آبی ذخائر میں  16 مئی 2019 کو، ختم ہونے والے ہفتے میں  مجموعی آبی ذخیرہ 35.99 بی سی ایم کے بقدر تھا  جو ان تمام تر ذخائر کی مجموعی صلاحیت کا 22فیصد ہے۔ یہ فیصد 9 مئی 2019 کو ختم ہوئے ہفتے میں  24فیصد تھی۔  16 مئی 2019 کو ختم ہوئے ہفتے میں  آبی سطح گزشتہ برس کی اسی مدت میں  115 فیصد  اور گزشتہ دس برسوں کی مدت کے  اوسط مقابلے میں  ذخیرے کے لحاظ سے 105 فیصد تھی۔

ان تمام تر 91 ذخائر کی  مجموعی ذخیرہ صلاحیت  161.993 بی سی  ایم ہے جو 257.812 بی سی ایم  کی مجموعی صلاحیت  کا تقریباً 63 فیصد ہے اور تخمینہ لگایا جاتا ہے کہ ملک میں اتنی ہی صلاحیت بہم پہنچائی گئی ہے۔ 91 ذخائر میں سے 37 ذخائر  میں  پن بجلی بنانے کی  سہولت دستیاب ہے جہاں  60 میگاواٹ سے زیادہ کی تنصیبی صلاحیت  دستیاب ہے۔

علاقے وار ذخیرے کی کیفیت

شمالی خطہ

شمالی خطے کے تحت  ہماچل پردیش، پنجاب اور راجستھان آتےہیں۔ یہاں چھ ذخائر سی ڈبلیو سی کی نگرانی میں ہیں، جن کی مجموعی ذخیرہ صلاحیت  18.01 بی سی ایم ہے، ان ذخائر میں دستیاب مجموعی ذخیرہ 8.54 بی سی ایم ہے جو  ان تمام تر ذخائر کی  مجموعی صلاحیت  کا 47 فیصد ہے۔  گزشتہ برس کی اسی مدت کے دوران  یہ ذخیرہ 16فیصد کے بقدر تھا اور گزشتہ دس برس کی مدت کے دوران  اوسط ذخیرہ ان تمام ذخیروں کی مجموعی صلاحیت کے مقابلے میں 26فیصد کے برابر رہا تھا۔  اس طریقے سے  رواں سال کے دوران ذخیرہ  گزشتہ برس کی اسی  مدت کے ذخیرے کے مقابلے میں بہتر ہے اور گزشتہ برس کی دس برس کی مدت کے مقابلے میں بھی  یہ ذخیرہ بہتر پوزیشن میں ہے۔

مشرقی خطہ

مشرقی خطے کے تحت  جھارکھنڈ ، اڈیشہ، مغربی بنگال اور تریپورہ آتے ہیں۔  یہاں 15 ذخائر سی ڈبلیو سی کی نگرانی میں ہیں، جن کی مجموعی ذخیرہ صلاحیت  18.83 بی سی ایم ہے، ان ذخائر میں دستیاب مجموعی ذخیرہ 5.04 بی سی ایم ہے جو  ان تمام تر ذخائر کی  مجموعی صلاحیت  کا 27 فیصد ہے۔  گزشتہ برس کی اسی مدت کے دوران  یہ ذخیرہ 30فیصد کے بقدر تھا اور گزشتہ دس برس کی مدت کے دوران  اوسط ذخیرہ ان تمام ذخیروں کی مجموعی صلاحیت کے مقابلے میں 25فیصد کے برابر رہا تھا۔  اس طریقے سے  رواں سال کے دوران ذخیرہ  گزشتہ برس کی اسی  مدت کے ذخیرے کے مقابلے میں بہتر ہے اور گزشتہ برس کی دس برس کی مدت کے مقابلے میں بھی  یہ ذخیرہ بہتر پوزیشن میں ہے۔

مغربی خطہ

مغربی خطے کے تحت  گجرات اورمہاراشٹر آتے  ہیں۔  یہاں 27 ذخائر سی ڈبلیو سی کی نگرانی میں ہیں، جن کی مجموعی ذخیرہ صلاحیت  31.26 بی سی ایم ہے، ان ذخائر میں دستیاب مجموعی ذخیرہ 4.10 بی سی ایم ہے جو  ان تمام تر ذخائر کی  مجموعی صلاحیت  کا 13 فیصد ہے۔  گزشتہ برس کی اسی مدت کے دوران  یہ ذخیرہ 18فیصد کے بقدر تھا اور گزشتہ دس برس کی مدت کے دوران  اوسط ذخیرہ ان تمام ذخیروں کی مجموعی صلاحیت کے مقابلے میں 22فیصد کے برابر رہا تھا۔  اس طریقے سے  رواں سال کے دوران ذخیرہ  گزشتہ برس کی اسی  مدت کے ذخیرے کے مقابلے میں کم  ہے اور گزشتہ برس کی دس برس کی مدت کے مقابلے میں بھی  یہ ذخیرہ کم ہے۔

وسطی خطہ

وسطی خطے کے تحت  اترپردیش، اتراکھنڈ،مدھیہ پردیش اورچھتیس گڑھ آتے  ہیں۔  یہاں 12 ذخائر سی ڈبلیو سی کی نگرانی میں ہیں، جن کی مجموعی ذخیرہ صلاحیت  42.30 بی سی ایم ہے، ان ذخائر میں دستیاب مجموعی ذخیرہ 11.44 بی سی ایم ہے جو  ان تمام تر ذخائر کی  مجموعی صلاحیت  کا 27 فیصد ہے۔  گزشتہ برس کی اسی مدت کے دوران  یہ ذخیرہ 25فیصد کے بقدر تھا اور گزشتہ دس برس کی مدت کے دوران  اوسط ذخیرہ ان تمام ذخیروں کی مجموعی صلاحیت کے مقابلے میں 23فیصد کے برابر رہا تھا۔  اس طریقے سے  رواں سال کے دوران ذخیرہ  گزشتہ برس کی اسی  مدت کے ذخیرے کے مقابلے میں بہتر ہے اور گزشتہ برس کی دس برس کی مدت کے مقابلے میں بھی  یہ ذخیرہ بہتر پوزیشن میں ہے۔

جنوبی خطہ

جنوبی خطے کے تحت  آندھراپردیش، تلنگانہ، اے پی اینڈ ٹی جی (دونوں ریاستوں میں دو مشترکہ پروجیکٹ )،کرناٹک، کیرالا اورتملناڈو آتے  ہیں۔  یہاں 31 ذخائر سی ڈبلیو سی کی نگرانی میں ہیں، جن کی مجموعی ذخیرہ صلاحیت  51.59 بی سی ایم ہے، ان ذخائر میں دستیاب مجموعی ذخیرہ 6.86 بی سی ایم ہے جو  ان تمام تر ذخائر کی  مجموعی صلاحیت  کا 13 فیصد ہے۔  گزشتہ برس کی اسی مدت کے دوران  یہ ذخیرہ 13فیصد کے بقدر تھا اور گزشتہ دس برس کی مدت کے دوران  اوسط ذخیرہ ان تمام ذخیروں کی مجموعی صلاحیت کے مقابلے میں 16فیصد کے برابر رہا تھا۔  اس طریقے سے  رواں سال کے دوران ذخیرہ  گزشتہ برس کی اسی  مدت کے ذخیرے کے مقابلے میں مساوی ہے اور گزشتہ دس برس کی مدت کے مقابلے میں  تھوڑا کم  ہے۔

ایسی ریاستیں جہاں گزشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے میں بہتر ذخائر دیکھے گئے ان میں ہماچل پردیش، پنجاب، گجرات، اتراکھنڈ، مدھیہ پردیش، کرناٹک اور تملناڈو شامل ہیں۔ ایسی ریاستیں  جہاں  گزشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے میں  مساوی ذخیرہ تھا ان میں اترپردیش، تلنگانہ اور اے پی اینڈ ٹی جی (دو نوں ریاستوں میں دو مشترکہ پروجیکٹ)  ، آندھراپردیش اور تلنگانہ شامل ہیں۔ اسی مدت کے مقابلے میں  یعنی گزشتہ برس کے مقابلے میں جہاں  قدرے کم ذخیرہ دیکھا گیا ان ریاستوں میں  راجستھان، جھارکھنڈ ، مغربی بنگال، تریپورہ، اڈیشہ، مہاراشٹر، چھتیس گڑھ، آندھراپردیش اور کیرالا شامل ہیں۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

م ن۔۔ع ن

U-2138


(ریلیز آئی ڈی: 1572145) وزیٹر کاؤنٹر : 138
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Marathi