نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
قدیم ہندوستانی زبانوں کا فروغ اور تحفظ وقت کی ضرورت ہے:نائب صدر جمہوریہ ہند
ایم وینکیا نائیڈو نے مادری زبان کے فروغ کے لئے ایک قومی تحریک کی ضرورت پر زور دیا
ان لوگوں کو عزت، وقار اور فخر کا احساس دیا جائے جو ہندوستانی زبانوں میں بولتے ہیں، لکھتے ہیں اور ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں
ہندوستانی زبانوں کے فروغ اور تحفظ کے لئے ٹکنالوجی کی طاقت کو بروئے کار لایا جائے
نائب صدر نے کلاسیکل زبانوں میں اسکالرس کو پریزیڈنٹس سرٹیفکیٹ آف آنر اور مہارشی بدریان ویاس سمان ایوارڈ عطا کئے
प्रविष्टि तिथि:
04 APR 2019 3:42PM by PIB Delhi
نائب صدر جمہوریہ ہند جناب ایم وینکیا نائیڈو نے کہا ہے کہ قدیم ہندوستانی زبانوں کا فروغ اور ان کا تحفظ وقت کی ضرورت ہے، کیونکہ وہ ہماری قدیم تہذیبی قدروں، معلومات اور دانشمندی راہ دکھاتی ہےاور قدیم تہذیبی اقدار اور دانشمندی کی راہ کی پیشکش کرتی ہیں۔
آج یہاں کلاسیکل زبانوں میں اسکالروں کو تقریباً سو پریزیڈینٹس سرٹیفکیٹ آف آنر اور مہارشی بدریان ویاس سمان ایوارڈ عطا کرنے کے بعد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب وینکیا نائیڈو نے کہا کہ جب ایک زبان ختم ہوجاتی ہے تو پوری ثقافت ختم ہوجاتی ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایسا نہیں ہونے دے سکتے۔ زبانوں سمیت اپنی ثقافتی وراثت کا تحفظ ہماری آئینی ذمہ داری بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماہرین کے ذریعہ مطالعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ تقریباً 600 زبانیں ختم ہونے کے دہانے پر ہیں اور گزشتہ 60 برس میں 250 سے زیادہ زبانیں گم ہوگئی ہیں۔ نائب صدر نے کہا کہ جدید ہندوستانی زبانوں کی قدیم جڑیں ہیں اور وہ کسی حد تک کلاسیکل زبانوں سے مشتق ہیں۔ انہوں نے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم اس رابطے کو نہیں برقرار اور بچا پائیں گے تو ہم اس خزانے کا ایک بیش بہا حصہ گنوادیں گے جو ہمیں ریاست میں ملا ہے۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ زبان کا تحفظ اور ترقی کو کثیر رخی اپروچ کی ضرورت ہے، جناب نائیڈو نے کہا کہ یہ پرائمری اسکول سطح پر شروع ہونی چاہئے اور تعلیم کے اعلیٰ سطحوں تک جاری رہنی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کم از کم ایک زبان میں فنگشنل لٹریسی (ادب) کو یقینی بنایا جانا چاہئے۔
انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے گھر، اپنی برادری میٹنگوں میں اور انتظامیہ میں اپنی آبائی زبانوں کا استعمال شروع کریں۔ نائب صدر جمہوریہ نے ایک قومی تحریک کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ مادری زبان کا تحفظ کیا جاسکے اور اسے برقرار رکھا جاسکے۔ انہوں نے ریاستی سرکاروں، مرکز، ماہرین تعلیم اور اسکول انتظامیہ سے کہا کہ وہ مادری زبان میں پرائمری اور اعلیٰ تعلیم فراہم کریں۔
نائب صدر جمہوریہ ہند جناب ایم وینکیا نائیڈو یہ بھی چاہتے ہیں کہ ہندوستانی زبان کی پبلیکیشنس (اشاعت) جریدوں اور مقامی زبانوں میں بچوں کی کتابوں کی حوصلہ افزائی کے علاوہ فوک لٹریچر اور مقامی زبان پر مناسب توجہ دی جانی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم کو ان لوگوں میں فخر کا احساس پیدا کرنا چاہئے جو اِن زبانوں میں بولتے ہیں، لکھتے ہیں اور رابطہ کرتے ہیں۔
نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ زبان، ثقافت، سائنسی معلومات اور عالمی نظریے کی بین نسلی ترسیل کی ایک گاڑی ہے۔ نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ زبان انسانی ارتکا کو وضع کرتی ہے اور لگاتار استعمال سے اس کی پرورش ہوتی ہے۔
نائب صدر جمہوریہ نے اسکالرس کی حوصلہ افزائی کے لئے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ وہ ابتدائی وسائل اور معلومات کے نئے قیمتی مشورے کا پتہ لگانے کے سلسلے میں تحقیق کرسکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں مسلسل معلومات میں اضافہ کرتے رہنا چاہئے اور حال اور مستقبل کو روشن کرتے رہنا چاہئے۔
ہمیں اپنے ٹکنالوجی کی طاقت کو بروئے کار لانا چاہئے، تاکہ اپنی زبانوں اور ثقافت کا تحفظ کرنے کے علاوہ ان کو فروغ دیا جاسکے۔ نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہمیں مختلف زبانوں میں بولنے والے اپنے سبھی لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے مقامی زبانوں میں رابطے کے لئے زیادہ ٹکنالوجی پر مشتمل وسائل فراہم کرنا چاہئے۔
اس پروقار تقریب کا اہتمام انسانی وسائل کی فروغ کی وزارت نے کیا تھا، جس میں تقریباً 100ممتاز اسکالروں اور زبانوں کے ماہرین نے شرکت کی تھی، جنہوں نے شاعری ، نثر اور بہت سے دیگر ادبی کاموں میں اپنی تحریروں کے ذریعہ ہندوستانی کلاسیکل زبانوں کو فروغ دینے کے علاوہ ان کے تحفظ میں زبردست خدمات انجام دی ہیں۔ اس موقع پر سنسکرت، عربی، فارسی، پالی، پراکرت، کلاسیکل کنڑ، کلاسیکل تیلگو اور کلاسیکل ملیالم میں اسکالروں کے بیش بہا کاموں کے صلے میں ایوارڈس بھی پیش کئے گئے۔ یہ ایوارڈس 2016،2017 اور 2018 کے لئے دیے گئے ہیں۔
جناب نائیڈو نے مصنوعی انٹلی جینس کے لئے لسانیاتی اعداد وشمار کے وسائل بھی جاری کئے اور ڈاٹا ڈسٹریبوشن پورٹل کا بھی آغاز کیا، جو بہت سی ہندوستانی زبانوں کے لئے لینگویج ٹکنالوجی اور مصنوعی انٹلی جینس وسائل کو فروغ دینے میں مدد کرتا ہے۔
نائب صدر جمہوریہ کی طرف سے جاری کئے گئے اعداد وشمار کے وسائل اب تک کے سب سے وسیع ترین منظم وسائل تھے، جو ان زبانوں کے لئے پبلک ڈومین کے لئے دستیاب تھے۔ یہ 31 بڑے متن اور 19 شیڈول ہندوستانی زبانوں میں تقریر کے اعداد وشمار کے سیٹس پر مشتمل ہیں۔ ڈاٹا ڈسٹریبوشن پورٹل جس کا آغاز نائب صدر جمہوریہ نے کیا ہے، تعلیم کے لئے مفت دستیاب ہوگا اور منافع کے لئے نہیں غیر منافع بخش تحقیقی اداروں کے لئے ہوگا۔
اس موقع پرانسانی وسائل کے فروغ کی وزارت میں اعلیٰ تعلیم کے محکمے کے سکریٹری جناب آر سبرامنیم، سی آئی ایل کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈی جی راؤ، راشٹریہ سنسکرت سنستھان کے وائس چانسلر پروفیسر پی این شاستری، انسانی وسائل کے فروغ کی وزارت میں اعلیٰ تعلیم کے محکمے کے بندوبست اور زبانوں کے جوائنٹ سکریٹری جناب سنجے کمار سنہا اور حکومت ہند کے بہت سے سینئر افسران بھی موجود تھے۔
نائب صدر جمہوریہ ہند کے خطاب کا متن درج ذیل ہے:
میں آج آپ جیسے ممتاز لسانی ماہرین اور اسکالروں کے درمیان آکر اور کلاسیکی زبانوں کے تحفظ اور ترقی کے لئے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں صد ایوارڈ کے اعزازات پیش کرکے مجھے یقیناً بیحد خوشی و مسرت محسوس ہورہی ہے۔
میں ان تمام معروف اسکالروں کا دل سے خیرمقدم کرتا ہوں جو روایتی علوم کو زندہ رکھے ہوئے ہیں اور جو ماضی اور حال کے درمیان دانش ورانہ وسیلے کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔
عظیم ہندوستانی شاعر آچاریہ داندی نے کہا تھا کہ اگر زبان کی روشنی کا وجود نہیں ہوتا تو ہم تاریک دنیا میں محصور ہوتے۔
زبان دانشورانہ اور جذباتی اظہار کے لئے ایک وسیلہ ہے۔
زبان ثقافت، سائنسی علم اور عالمی نقطہ نظر کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنے کا ذریعہ ہے، زبان بیحد اہم ہے۔ یہ وہ غیر مرئی دھاگہ ہے جو ماضی کو حال سے جوڑتی ہے۔
یہ انسانی ارتقا کے ارد گرد گھومتی ہے اور مسلسل استعمال کے ذریعہ اس کو قوت فراہم ہوتی ہے۔
میں نے ہمیشہ اپنے لسانی ورثے کی حفاطت اور تحفط کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ ہماری زبانیں ہماری تاریخ، ہماری ثقافت اور معاشرے کے طور پر ہمارے ارتقا کا ایک اہم حصہ ہیں۔ اصل میں وہ ہماری شناخت، روایات اور کسٹمز کی وضاحت کرتے ہیں، وہ لوگوں کے درمیان رشتوں کو استوار کرنے اور تعلقات کو مستحکم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
ہمارا ملک ایک کثیر لسانی ملک ہے جہاں 19500 سے زائد زبانیں یا بولیاں بولی جاتی ہیں۔ تاہم تقریباً 97 فیصد آبادی 22 شیڈول زبانوں میں سے ایک زبان بولتی ہے۔
جدید ہندوستانی زبانوں کی جڑیں قدیم ہیں اور یہ زبانیں کسی حد تک کلاسیکی زبانوں سے مشتق ہیں۔
کلاسیکی زبانیں ہمارے ماضی، گزشتہ زمانے کی تہذیبی قدروں، ہمارے قدیم مفکرین سائنس دانوں، شاعروں، ڈاکٹروں اور فلاسروں اور حکمرانوں کے علم و حکمت کے لئے کھڑکی فراہم کرتی ہیں۔
اگر ہم اس رابطے کو باقی نہیں رکھتے ہیں اور اس کا تحفظ نہیں کرتے ہیں تو ہم اپنے وراثت کے خزانے کے گھر کی اہم کلید کو کھو دیں گے۔
ماہرین کے مطالعات کے مطابق تقریباً 600 زبانیں ختم ہونے کے دہانے پر کھڑی ہیں اور گزشتہ 60 برسوں کے دوران 250 سے زائد زبانیں معدوم ہوگئی ہیں۔
جب ایک زبان مرتی ہے تو پوری تہذیب مرجاتی ہے، ہم ایسا نہیں ہونے دے سکتے ہیں۔ اپنے تہذیبی ورثے بشمول زبانوں کا تحفظ ہمارا آئینی فرض ہے۔ قدیم متون کا مطالعہ کرنا اور جدید نسل تک ان متون کی نشر و اشاعت کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ میں بیحد خوش ہوں کہ آج ہم اس مقدس مشن میں مصروف اسکالروں کا اعتراف کررہے ہیں۔
چونکہ کلاسیکی زبانوں اور ادیبات کے مطالعے سے تاریخ کے باوثوق ذرائع تک رسائی حاصل ہوتی ہے لہذا آنجہانی اٹل بہاری واجپئی جب وزیراعظم تھے تب مخطوطات کے لئے قومی مشن کا قیام عمل میں آیا تھا۔
اس مشن کا اہم مقصد ہندوستان میں موجود مخطوطات کے وسیع سرمایہ کو کھنگالنا اور ان کے تحفظ کے لئے جدید اور گھریلو تکنیک کو استعمال کرنا ہے۔ اندازہ ہے کہ ہندوستان میں تقریباً 10 ملین مخطوطات موجود ہیں جو کہ غالباً دنیا میں مخطوطات کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔
قدیم متون کا تحفظ پہلا قدم ہے۔ ہمیں اپنے اسکالروں کو ان بنیادی مآخذ کا استعمال کرکے تحقیق کرنے اور علم کے نئے دروازے کھولنے کے لئے ہمت افزائی کرنی چاہئے۔ ہمیں اس علم میں اضافہ کرنا چاہیے اور اپنے حال و مستقبل کو روشن کرنا چاہیے۔
مجھے بیحد خوشی ہے کہ حکومت ہند کی اسکیم کا مقصد ہندوستان اور بیرون ملک میں مقیم اسکالروں کو متعدد کلاسیکی زبانوں کی ترقی کے لئے اعزازات و انعامات سے نوازنا ہے۔
مجھے مطلع کیا گیا ہے کہ اس اسکیم کا مقصد سنسکرت، پالی، پراکرت، عربی، فارسی، کلاسیکی تیلگو، کلاسیکی کنڑ، کلاسیکی اڑیا اور کلاسیکی ملیالم زبانوں کے باصلاحیت اسکالروں اور اسکالروں کے زندگی بھر کے کاموں کا اعتراف کرنا ہے۔
پیارے بھائیو اور بہنو!
زبانوں کی ترقی اور تحفظ کے لئے ایک کثیر رخی طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
اس کا آغاز پرائمری اسکول کی سطح پر ہونی چاہیے۔ پھر اس کے بعد تعلیم کی اعلی سطح پر اس کو جاری رکنا چاہیے۔ کم از کم ایک زبان میں فنکشنل خواندگی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنے گھر، اپنے معاشرے، اپنی میٹنگ اور انتظامیہ میں اپنی مادری زبان کو استعمال کرنے کی ابتدا کرنی چاہیے۔ زیادہ لوگوں کو ان زبانوں میں شاعری کرنی چاہئے اور کہانیاں، ناول اور ڈرامہ تخلیق کرنا چاہیے۔ ہمیں ان لوگوں کو عزت اور فخر کا احساس دلانا چاہیے جو ان زبانوں کو بولتے ہیں، لکھتے ہیں اور ان زبانوں میں ترسیل و ابلاغ کا کام کرتے ہیں۔ ہمیں ہندوستانی زبانوں کی اشاعتوں، جریدوں اور بچوں کی کتابوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ بولیاں اور لوک ادب کی جانب مناسب توجہ دینی چاہیے۔ جامع ترقی کے لئے زبان کو اہم کردار ادا کرنے والا ہونا چاہیے۔
زبان کا فروغ بہترین حکمرانی کا جز و لاینفک ہونا چاہیے۔
بھائیواور بہنو!
آج ہم نہایت تیزی کے ساتھ بدلتی ہوئی دنیا میں زندگی بسر کررہے ہیں جس میں ٹکنالوجی ہمارے طرز زندگی اور کام کو بدل رہی ہے۔ ہمیں ٹیکنالوجی کی طاقت کا استعمال اپنی زبانوں اور تہذہب کے تحفط اور فروغ کے لئے کرنا چاہیے۔
مجھے خوشی ہے کہ آج ہم اس سمت میں ایک اہم قدم اٹھا رہے ہیں۔
مجھے مصنوعی انٹلی جنس کے لئے لسانی ڈیٹا وسائل کو جاری کرکے خوشی ہورہی ہے۔
یہ ہمارے موجودہ آئی ٹی آرکیٹیکچر میں بڑی خلیج کو پر کرتا ہے۔
زبان ٹیکنالوجی اور مصنوعی انٹلی جنس پر مبنی آلات کی ترقی کے لئے درکار وسائل ناکافی ہیں یا بہت سی ہندوستانی زبانوں کے لئے دستیاب نہیں ہیں۔ اس خلیج کو پر کرنے کے لئے حکومت ہند نے 2008 میں ہندوستانی زبانوں کے لئے لسانی ڈاٹا کنسورشیم (ایل ڈی سی، آئی ایل) اسکیم کی شروعات کی اور اس کے ذریعہ گزشتہ 11 برسوں کے دوران ہندوستان کی تمام درج فہرست زبانوں میں اعلی معیار کے لسانی وسائل کو تیار کیا جارہا ہے۔
آج ہم 19 درج فہرست ہندستانی زبانوں میں 31 بڑے متون اور تقاریر سے متعلق ڈاٹا سیٹ کو جاری کررہے ہیں۔ یہ عوامی رسائی کے لئے اب تک ان زبانوں کے لئے دستیاب سب سے بڑا منظم متون ہیں۔
مجھے اس بات پر خوشی ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ ایک ڈاٹا ڈسٹری بیوشن پورٹل بھی جاری کیا جارہا ہے جس کے تحت آنے والے دنوں میں مصنوعی انٹلی جنس پر مبنی ٹیکنالوجیوں کی متعدد اقسام مثلاً خود کار ڈکٹیشن، تقریر کی پہچان ، زبان کی سمجھ، ترجمے کی مشین، گرامر اور اسپیل چیک کا استعمال کرکے مزید اور مختلف قسم کے ڈاٹا سیٹ کو جمع کیا جائے گا۔ یہ ڈاٹا سیٹ تعلیمی حلقوں اور غیر منافع بخش تحقیقی اداروں کے لئے مفت میں دستیاب ہیں جبکہ نہایت معمولی قیمت پر یہ انڈسٹری کے لئے بھی دستیاب ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ ان وسائل کے اجراء سے ہندوستانی زبانوں میں جدید ترین آئی ٹی ٹولز کی دستیابی کے لئے نئے عہد کا آغاز ہوگا اور یہ ڈیجیٹل ڈومین میں زبان کی رکاوٹ کو دور کرے گا۔
پیارے دوستو!
ہماری زندگی روز مرہ کی بنیاد پر نیز ہر ایک سطح پر مصنوعی انٹلی جنس (اے آئی) سے اثر انداز ہورہی ہے۔
اگر ہم مصنوعی انٹلی جنس کا استعمال کرسکتے ہیں تو مقامی زبانوں میں صلاحیتوں اورآلات کی تعمیر کرسکتے ہیں تو اس سے علم حاصل کرنے کوجمہوری عمل بنانے میں ہمیں مدد ملے گی۔ علاوہ ازیں علم و عرفان کی ترقی اور تحفظ میں بھی ہمیں مدد فراہم ہوگی۔
ہمیں مقامی زبانوں میں ترسیل و ابلاغ کے لئے مزید ٹیکنالوجی آلات رکھنے چاہئیں۔ تاکہ مختلف زبانوں کو بولنے والے ہمارے لوگوں کی ضرورت پوری ہوسکے۔
‘ڈیجیٹل انڈیا’کا مشن تعلیم یافتہ ہندوستان کے لئے ایک مشن ہوسکتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ جامع معلوماتی معاشرے کے لئے ایک مشن ہوسکتا ہے۔
سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف انڈین لنگویجز ہندوستانی زبانوں میں لسانی وسائل فراہم کرنے کے لئے نہایت قابل تعریف کام کررہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ ادارہ مزید جوش ولولے کے ساتھ اپنی کوششوں کو جاری رکھے گا۔
فی الحال 19 درج فہرست زبانوں میں کل 31 ڈاٹا سیٹس ڈاؤن لوڈ کے لئے دستیاب ہیں۔ مجھے امید ہے کہ تمام تکنیکی و تحقیقی ادارے، اسٹارٹ اپ محققین اس ڈاٹا بیس سے فیضیاب ہونے کے قابل ہوں گے۔
میں ایک بار پھر ممتاز اسکالروں کو مبارکباد دینا چاہوں گا۔ فروغ انسانی وسائل کی وزارت اور ہندوستانی زبانوں کی ترویج و اشاعت، تحفظ اور مقبول عام بنانے میں مصروف تمام اداروں کو میری نیک خواہشات۔
میں آپ سبھی دانشوروں کو صدر ایوارڈ سے نوازے جانے کی دلی مبارکباد دیتا ہوں۔
بھائیو اور بہنو!
ہندوستانی روایت میں تسلیم کیا گیا ہے کہ کائنات کی تخلیق ہی لفظ سے ہوئی ہے۔ انسانی شخصیت اور خیالات و افکار کی تعمیر زبان کے ذریعہ ہی ہوتی ہے۔
لسانی تنوع کی اپنی خوبصورتی ہے۔ زبانوں کے ذریعے ہی خیال اور اظہار کے پھول کھلتے ہیں۔ کسی زبان کے ختم ہونے کے ساتھ ایک ثقافت، اس کی تہذیب اور وراثت ناپید ہوجاتی ہے۔ انسانی شعور کی ترقی میں ایک نیا جوش آتا ہے۔
اگر ہم غیرملکی زبانیں سیکھ سکتے ہیں تو ہم ہندوستانی زبانوں کو کہیں آسانی سے سیکھ سکتے ہیں۔ ان زبانوں کے مکمل ادب کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ ساہتیہ اکادمی، نیشنل بک ٹرسٹ جیسے اداروں کو مختلف ہندوستانی زبانوں کےبہترین ادب کا آسان اور سہل ترجمہ دستیاب کرانا چاہئے۔
ہمارے اقدار ایک ہیں، ہماری جذبات یکساں ہیں۔ صدیوں کا ثقافتی تبادلے ہماری قدیم زبانوں کے ادب میں جھلکتا ہے۔
معزز دانشوران،
ہندوستان کے حیرت انگیز لسانی تنوع، ادبی و ثقافتی ورثےکے تحفظ میں آپ کا گراں قدر تعاون ناقابل فراموش ہے۔ آپ ہندوستان کے ادبی اور ثقافتی کے احیا کا وسیلہ بنے گا۔سماج آپ سے رہنمائی کی توقع کرتا ہے۔
جے ہند! "
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
م ن۔م ع۔ن ا۔
U- 1767
(रिलीज़ आईडी: 1570075)
आगंतुक पटल : 686