نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
ہمارے پریس کو مستعد اور بے خوف ہونا چاہیے تاکہ ملک خوش حال ہو اور پھلے پھولے:نائب صدر جمہوریہ
صحافیوں کو بے آواز لوگوں کی آواز ہونا چاہیے
میڈیا کو خبریں پیش کرتے ہوئے انتہائی درجے کی پیشہ وری، کھرا پن اور غیرجانبداری برقرار رکھنی چاہیے
علاقائی زبانوں میں مزید اخبارات شروع ہونے چاہییں
انہوں نے‘ دیپیکا’ ملیالم ڈیلی کی 132ویں یوم تاسیس کی تقریبات س خطاب کیا
انہوں نے تجارت میں مہارت سے متعلق انعامات بھی عطا کیے
प्रविष्टि तिथि:
27 MAR 2019 7:22PM by PIB Delhi
نائب صدر جمہوریہ ہند جناب ایم وینکیا نائیڈو نے کہا ہے کہ ہمارے ملک کی طرح کسی جمہوری ملک کو خوشحال ہونے اور پھلنے پھولنے کے لیے ہمارے پریس کو مستعد اور بے خوف ہونا چاہیے۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ وہ سماج کے ایک آئینہ کے طور پر خدمات انجام دیں، جیسا کہ انہوں نے ان سے کہاکہ وہ بے آواز لوگوں کی آواز بنیں۔ وہ پہلے ملیالم روزنامے ‘دیپیکا’ کے 132ویں یوم تاسیس کی تقریبات سے خطاب کررہے تھے۔
یہ کہتے ہوئے کہ بھارت جیسے کسی جمہوری ملک کے لیے مستعد اور بے خوف میڈیا لازمی ہے، تاکہ ملک خوشحال ہو اور پھولے پھلے،جناب نائیڈو نے صحافیوں سے کہا کہ وہ حقیقت کو جوں کا توں بیان کرے، نہ تو واقعات کو بڑھا چڑھا کریں اور نہ ہی ان کی اہمیت کو کم کرکے، نہ تو حقیقت کو بگاڑ کر بیان کریں اور نہ ہی اسے رازدارانہ انداز میں بیان کریں۔
یہ کہتے ہوئے کہ کسی اخبار کا وقار اور ساکھ سچائی اور بے خوف ہونے کے تئیں وفاداری کے معیار پر قائم ہوتا ہے۔ نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ میڈیا سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ نہ صرف خبروں کو بالکل صحیح انداز میں پیش کرے گا، بلکہ سماجی و اقتصادی ناانصافیوں کو بھی اجاگر کرے گا، جس سے ان پریشانیوں کے حل کی راہ ہموار ہوگی۔
جناب نائیڈو نے کہا کہ اخباروں اور میڈیا کا عام طور پر یہ بھی فرض ہے کہ وہ حکومت کی اس کے ترقیاتی اقدامات اور پالیسیوں کی حمایت کریں اور اس کی خامیوں کو پوری طرح اجاگر کریں، تاکہ ہمارے ملک کی انتظامیہ کے تاثر میں بہتری آئے۔ انہوں نے میڈیا سے کہا کہ وہ اس طرح کے معاملات پر قانونی شقوں کے بار ے میں بیداری لانے اور شہریوں کے لازمی حقوق کے بارے میں بیداری لا کرانہیں بااختیار بنانے میں اہم رول ادا کرے۔
اس بات کا اشارہ کرتے ہوئے کہ میڈیا کا انتخابات کے دوران اہم رول ہوتا ہے، نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ جس منصفانہ طریقے اورشفافیت کے ساتھ انتخابات کرائے جاتے ہیں، اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ میڈیا نے کتنے منصفانہ اور ذمہ دارانہ طریقے سے اپنا رول نبھایا ہے۔
انتخابات کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ منصفانہ اور آزاد انتخابات محض ووٹ دینے کی آزادی نہیں ہے اور نہ ہی اس بات کی آزادی ہے کہ کسی شخص کو یہ معلومات ہو کہ اسے ووٹ کیوں اور کیسے دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شرکت کرنے والا ایک اہم عمل ہے، جہاں ووٹ دہندگان معلوماتی عوامی مباحثے میں حصہ لیتے ہیں، جس سے بیداری پھیلتی ہے۔
یہ اظہار خیال کرتے ہوئے کہ کوئی جمہوری انتخاب میڈیا کی آزادی کے بغیر ، یا میڈیا کی آزادی کو سلب کرکےقابل اعتبار نہیں ہوسکتا۔ جناب نائیڈو نے کہا کہ میڈیا اس پورے عمل کی شفافیت کی حفاظت کرتا ہے۔
نائب صدر جمہوریہ نے میڈیا کو مشورہ دیا کہ وہ خبریں پیش کرتے ہوئے انتہائی درجے کی پیشہ وری ، کھراپن اور غیرجانبداری برقرار رکھے۔ انہوں نے میڈیا سے زور دے کر کہا کہ انتخابات کے دوران نہایت عقل مندی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ووٹر کو یہ معلومات دے کر بااختیار بنائے کہ وہ ووٹ سے متعلق اپنے حق کا ہر ممکن بہترین استعمال کرسکے۔
جناب نائیڈو نے میڈیا سے کہا کہ وہ غلط کاروں کو آشکارہ کرنے میں بے خوف ہوجائے۔ وہ مثبت خبریں دینے میں ہچکچائے نہیں اور ہمیشہ ان لوگوں کو سراہے اور ان کی حوصلہ افزائی کرے ، جو مثبت تبدیلیاں لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی جمہوریت کے اس اہم ترین عمل پر نظر رکھے اور جہاں کہیں ضروری ہو، وہاں مثبت اور تخلیقی تنقید کرنے میں پیچھے نہ رہے۔
نائب صدر جمہوریہ نےکہا کہ اگرچہ میڈیا کے بارے میں حالیہ دنوں میں روایتی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ پرنٹ میڈیا ہوگا یا الیکٹرانک میڈیا، لیکن یہ تعریف اب وسعت پاگئی ہے۔ جس میں نیا میڈیا، آن لائن صحافت اور سوشل میڈیا بھی شامل ہوگیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا میں جھوٹی خبروں سمیت پروپیگنڈہ کرنے والی معلومات کو آگے بڑھانے کی صلاحیت ہے۔
راشٹر دیپیکا لمیٹیڈ کے چیئرمین ڈاکٹر فرانسس کلیٹس ، دیپیکا کے چیف ایڈیٹر فادر بوبی الیکس منم پلکل، دیپیکا کے مینجنگ ڈائریکٹر فادر میتھیوچندرن کنل، دیپیکا کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر جناب جارج کلی ویالل اور دیگر شخصیتیں بھی اس موقع پر موجود تھیں۔
نائب صدر جمہوریہ کے خطاب کا متن مندرجہ ذیل ہے:
‘‘مجھے یہ جان کر خوشی ہے کہ دیپیکا جو پہلا ملیالم روزنامہ ہے، اور ہمارے ملک کے سرکردہ علاقائی روزناموں میں سے ایک ہے، اپنا 132واں یوم تاسیس منا رہا ہے۔
میں مینجمنٹ ، ادارہ جاتی عملے، صحافیوں اور دیپیکا کے پورے کنبے کو بے شمار مشکلات اور چیلنجز کے سامنے کے باوجود اس منفرد سنگ میل کے حصول پر مبارک باد دیتا ہوں۔
میں سمجھتا ہوں کہ دیپیکا کے بانی پادری جن کی قیادت فادر امانوول ندھری نے کی،جو اپنے وقت کے ایک مقبول سماجی مصلح تھے، انہوں نے 1887 میں اس اخبار کے قیام کے وقت بہت ہی باوقار اور بڑے مقاصد قائم کیے تھے۔
ان میں لوگوں کے لازمی حقوق کا تحفظ اور حفاظت نیز سبھی برادریوں اور مذاہب کے مابین سچائی، انصاف ، آزادی اور مساوات کے حق میں نڈر طریق سے کھڑا ہونا بھی شامل ہے۔
ان اقدار کی وجہ سےکیرالہ میں صحافت کے اس وقت کے پیشے کو ایک نیا نظریہ اور پہلو میسر آیا۔
مجھے بتایا گیا ہے کہ دیپیکا نے جدوجہد آزادی کے دوران اہم معلومات پھیلانے میں بھی ایک اہم رول ادا کیا تھا۔یہ یقینا تشکر کی بات ہے کہ دیپیکا نے آزادی کی تحریک میں عظیم تعاون دیا تھا۔
میری عزیزبہنوں اور بھائیو!
بھارت دنیا کی ایک واحد مارکیٹ ہے، جہاں پرنٹ میڈیا کا آج بھی غلبہ ہے اور یہ غلبہ سبھی پہلوؤں ، تعداد اشاعت ، قارئین کی تعداد اور جغرافیے کے اعتبار سے بڑھتا ہی جارہا ہے۔
یہ باور کیاجاتا ہے کہ بھارت میں اخبارات کی ترقی کا براہ راست تعلق بڑھتی ہوئی شرح خواندگی اور تیزی سے ہوتی ہوئی شہرکاری سے ہے۔ جس کی وجہ سے عوام میں بڑے پیمانے پر امنگیں پیدا ہوتی ہیں۔
پرنٹ میڈیا سے قومی امور میں لوگ اور زیادہ سیاسی سرگرمیوں اور ان میں مصروف ہونے کے حامل ہوجاتے ہیں۔ یہ سب کو دستیاب رہتا ہے اور مناسب قیمت پر دستیاب ہوجاتا ہے۔ نیز ترقی کرتے ہوئے اوسط طبقے کے ابھرنے کی وجہ سے ترقی کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔
لہذا پرنٹ میڈیا کا آج زبردست دبدبہ ہے، طاقت ہے اور رسائی ہے اور اسی لیے اسے سچائی، غیرمتعصبانہ اور وقت پر رپورٹنگ کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
صحافیوں کے بارے میں یہ تصور ہے کہ وہ بے آواز لوگوں کی آواز ہوتےہیں اور وہ سماجی، اقتصادی اور سیاسی انصاف کے مجاہد ہوتے ہیں۔وہ سماجی استحصال کو روکنے میں مدد کرتے ہیں اور معلومات اور علم کی طاقت دے کر پسماندہ لوگوں کو بااختیار بنانے کے عمل میں مدد دیتے ہیں اور اس کی اعانت کرتے ہیں۔
وہ حکومت اور عوام کے درمیان ایک رابطے کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔
ہمارے ملک کی طرح ایک جمہوریت کے خوش حال بننے اور پھلنے پھولنے کے لیے ہمارے پریس کو مستعد اور بے خوف ہونا چاہیے۔ انہیں سماج کے آئینے کے طور پر خدمات انجام دینی چاہیے اور حقیقت کو اسی طرح بیان کرنا چاہیے، جیسی کی وہ ہے۔ نہ تو اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرنا چاہیے اور نہ ہی اس کی اہمیت کو کم کرکے، نہ ہی اسے مسخ کرنا چاہیے اور نہ ہی حقائق کو رازدارنہ انداز میں بیان کرکے۔
بھارت میں پریس کو ایمرجنسی کے دوران سیاہ دنوں کے مختصر وقفے کو چھوڑ کر تقریبا آزادی کے برسوں سے ہی اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے، جس نے ہمارے جمہوری اداروں کی حفاظت میں بڑے پیمانے پر تعاون دیا ہے۔
کسی اخبار کا وقار اور ساکھ ، سچی اور بے خوف رپورٹنگ کے تئیں اس کی وفا داری کی سطح پر قائم ہوتا ہے۔
ہم میڈیا سے امید کرتے ہیں کہ وہ نہ صرف کھری خبریں دے گا، بلکہ وہ سماجی اور اقتصادی ناانصافیوں کو بھی اجاگر کرے گا، جس سے ان ناانصافیوں کو دور کرنے کی راہ ہموار ہو۔
یہ بھی اخبارات اور عام طور پر میڈیا کا فرض ہے کہ وہ حکومت کے ترقیاتی اقدامات اور پالیسیوں میں اس کی حمایت کرے، نیز اس کی خامیوں کو سامنے لائے، تاکہ ہمارے ملک میں انتظامیہ کے تاثر کو بہتر بنانے میں مدد ملے۔
لہذا میڈیا اس کیلی کی تشکیل کرتا ہے جو جمہوریت کے پورے وزن کو توازن دیتی ہے اور اسے درکار استحکام بخشتی ہے۔
مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ دیپیکا اپنے باوقار وجود کے پورے 132برسوں میں اس طرح کی خاصیتوں کو برقرار رکھنے اور ان کو آگے بڑھانے میں مثالی کردار ادا کرتا رہا ہے۔اس کی قابل اعتبار رپورٹنگ کا ریکارڈ واقعی متاثر کن ہے۔
میری عزیز بہنوں اور بھائیو!
میڈیا اپنے قارئین اور ناظرین کو نہ صرف خبریں پہنچانے کا کام کرتا ہے، بلکہ وہ نظریات کے اظہار اور تازہ ترین عوامی مفاد کے معاملات پر باعلم مذاکرات کے لیے ایک پلیٹ فارم تشکیل دیتا ہے۔
وہ عوام کی رائے بنانے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔
اطلاعات اور مواصلات کی ٹیکنالوجی میں جدت طرازی آگئی ہے ، میڈیا کی پہنچ میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔
لہذا میڈیا کو ضرورت ہے کہ وہ قوم کے تئیں اپنے گہرے احساس ذمہ داری کے ساتھ اپنی متاثر کن صلاحیت کو کام میں لائے۔
یہ بات اکثر کہی جاتی ہے کہ قلم ، تلوارسے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔لہذا میڈیا کو چاہیے کہ وہ اپنی زبردست طاقت کا اپنی سطح پر اور تحمل کے ساتھ استعمال کرے۔
اسے سماجی تفریق ، بنیاد پرستی،شدت پسندی اور سماجی برائیوں سے لڑنے میں جمہوریت کا سب سے زیادہ باصلاحیت ہتھیار ہونا چاہیے۔
میں یہ جان کر بہت ہی متاثر ہوا ہوں کہ دیپیکا اخبار اپنے آغاز سے ہی سماجی اصلاح اور کیرالہ میں چھوت چھات کو ختم کرنے میں مجاہدانہ رول ادا کرتا رہا ہے۔
یہ جان کر خوشی ہوتی ہے کہ اس نے نشاۃ الثانیہ اور اس اصلاحی عمل میں اہم رول ادا کیا ہے، جو کیرالہ میں 19ویں صدی کے اواخر میں شروع کیا گیا تھا۔
ان کاموں سے اس کے نام دیپیکا کو بھی جواز حاصل ہوتا ہے، جس کے معانی ہیں مشعل بردار، یعنی تاریک ترین جگہوں پر روشنی لانے والا۔
سماج میں بیداری لانے کے لیے سماجی طور پر ایک ذمہ دارانہ طریقہ کار اپنایا جانا میڈیا کا ایک اور لازمی رول ہے۔
سماجی معاملات خاص طور پر وہ معاملات جن کا تعلق خواتین، بچوں اور معمر افراد سے ہے، انہیں حساسیت کے ساتھ نمٹانا چاہیے، نہ کہ انہیں سنسنی خیز بنایا جائے۔
بھارت میں آج بہت سی برائیاں رواج میں ہیں، اگر چہ ان کے خلاف سخت قوانین موجود ہیں۔ جہیز، کم عمر میں شادی، بچیوں کو رحم مادر میں ہی ہلاک کردینا، بچوں کو رحم مادر میں ہی ہلاک کردینا، ان سب برائیوں کے بہت سے لوگوں کی زندگیوں پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔
مجھے پختہ یقین ہےکہ اس طرح کے معاملات سے متعلق قانونی شقوں کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور شہریوں کو ان کے لازمی حقوق سے واقف کراکر انہیں بااختیار بنانے میں میڈیا اہم رول ادا کرسکتا ہے۔
میری عزیز بہنوں اور بھائیو!
جمہوریت کا سب سے بڑا تہوار انتخابات ، کچھ ہی ہفتوں میں منعقد ہونے والے ہیں۔
میڈیا خاص طور پر انتخابات کے دوران بہت سے اہم رول ادا کرتا ہے۔
یہ ایک معلومات دہندہ اور تعلیم بہم پہنچانے کے خدمات انجام دیتا ہے۔ یہ عوامی مباحثوں اور مذاکرات کا ایک پلیٹ فارم ہوتا ہے، ایک نگراں ہوتا ہے، جو شفافیت، جوابدہی اور افراد ، اداروں کے قانونی جواز نیز انتخابی عمل کو ایک موثر انتخابی مہم کے پلیٹ فارم کے طور پر یقینی بناتا ہے۔
جس منصفانہ انداز اور شفافیت کے ساتھ انتخابات کرائے جاتے ہیں،اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ میڈیا نے کتنے منصفانہ طریقے اور ذمہ داری کے ساتھ اپنا کام انجام دیا۔
آزادانہ اور مصفانہ انتخابات کا مطلب صرف رائے دہندگی کی آزادی اور یہ علم ہی نہیں ہے کہ کیوں اور کیسے ووٹ دیا جائے بلکہ یہ ایک ضروری شراکتی عمل ہے جس میں رائے دہندگان عوامی مباحث میں شرکت کرتے ہیں اور سوچ سمجھ کر انتخاب کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ میڈیا اس پورے علم کی شفافیت کی حفاظت کرتا ہے۔
حقیقت میں ایک جمہوری الیکشن میڈیا کی آزادی کے بغیر یا میڈیا کی آزادی کا گلا گھونٹے جانے کی صورت میں قابل اعتماد نہیں کہا جاسکتا۔
اپنے رول کو اچھی طرح ادا کرنے کے لئے میڈیا کو اپنے کوریج میں پروفیشنلزم ، درستگی اور غیر جانب داری کا اعلی معیار قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
میں میڈیا سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ انتخابات کے دوران بہت دانش مندی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں۔ رائے دہندگان کو معلومات فراہم کرائیں تاکہ وہ رائے دہندگی کے اپنے اہم حق کو بہترین طریقے سے استعمال کرسکیں۔
غلط کام کرنے والوں کا پردہ فاش کرنے کے لئے بے خوف ہوکر کام کریں۔
مثبت خبروں کو پیش کرنے میں کبھی نہ ہچکچائیں۔جو لوگ مثبت تبدیلی لارہے ہیں، ان کی ہمیشہ ستائش اور حوصلہ افزائی کریں۔
کسی بھی جمہوری نظام میں سب سے ضروری کام کی انجام دہی پر نظر رکھنے کی آپ کی اہم ذمہ داری ہے۔جب کبھی ضروری ہو تعمیری اور تخلیقی تنقید کرنے میں کبھی نہ چوکیں۔
میڈیا سے روایتی طور پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ہی مراد لی جاتی رہی ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں اس کی تشریح بہت وسیع ہوگئی ہے۔ اس میں نیا میڈیا ،آن لائن صحافت اور سوشل میڈیا بھی شامل ہوگیا ہے۔
سوشل میڈیا میں تشہیر کرنے کی بڑی صلاحیت ہے۔ ا س کے ذریعہ جھوٹی خبریں بھی پھیلائی جاسکتی ہیں۔
اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ ہندوستان کے 900 ملین رائے دہندگان میں سے ایک تہائی رائے دہندگان سوشل میڈیا سے جڑے ہوئے ہیں، عالمی اور ہندوستانی سوشل میڈیا گروپ رضاکارانہ طور پر ایک ضابطے پر عمل کرنے پر متفق ہیں جس سے کہ قابل اعتراض مواد کو نکالا جاسکے اور سیاسی اشتہارات میں شفافیت لائی جاسکے۔
یہ بھی تجویز پیش کی گئی ہے کہ عوامی نمائندگی کے قانون کی دفعہ 126 کی خلاف ورزی کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعہ ایک نوٹی فکیشن میکانزم قائم کیا جائے۔
سوشل میڈیا کے ذریعہ جھوٹی خبریں پھیلائے جانے کو روکنے کے لئے اور شفافیت اور بھروسہ مندی کو یقینی بنانے کے لئے الیکشن کمیشن کے اقدامات کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے۔
میری پیاری بہنو اور بھائیو!
مجھے یقین ہے کہ ہندوستانی میڈیا ایک تعمیر نظریہ اختیار کرنے پر توجہ مرکوز کرے گا اور شمولیت والی اور پائیدار ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں ایک ذمہ دار پارٹنر کا رول ادا کرے گا۔
آج دپیکا کے اقتصادی اور مالیاتی رسالے بزنس دپیکا کے زیر انتظام بہترین کارکردگی انجام دینے والوں کو بزنس میں بہترین کارکردگی کے انعامات دیئے جارہے ہیں۔
ہمارے ملک کی مجموعی صنعتی کمرشیل اور اقتصادی ترقی میں نجی شعبے کا اہم رول رہا ہے۔
میں منتخبہ بزنس ایوارڈ حاصل کرنے والوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان سے اپیل کرتا ہوں کہ ملک کے سماجی اقتصادی فروغ و ترقی کے لئے سخت محنت کریں اور بڑھ چڑھ کر اس میں تعاون کریں۔
دپیکا صحافت کے ساتھ ساتھ اخباری پبلی کیشن میں نئی ٹکنالوجی کی شروعات کرنے کے معاملے میں بھی ٹرینڈ سیٹر رہی ہے۔
دپیکا کے نئے پریس میں یو وی پرنٹنگ سہولت جو کہ کیرلا کے اخباروں میں سب سے پہلے لائی گئی ہے کے قیام کی ستائش کرتا ہوں۔
میں دپیکا کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ صحافت میں نئے اور مثبت رجحانات قائم کرنے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ نظریہ آپ کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا اور آپ کو اور زیادہ مقبول بنائے گا۔
میں پھر کہوں گا کہ میڈیا ایک بیدار، ذمہ دار اور باخبر معاشرے کی تعمیر میں اہم رول ادا کرتا ہے تاکہ وہ ہمارے ملک میں اور دنیا بھر میں ترقی ، امن اور ہم آہنگی قائم کرسکیں۔
میں دپیکا کنبے کو اس بڑے کام کی انجام دہی کے لئے ایک بار پھر مبارکباد دیتا ہوں اور ان کے لئے مستقبل میں ہر طرح کی خوشحالی کی تمنا کرتا ہوں۔
شکریہ
جے ہند!
**************
U. No. 1718
(रिलीज़ आईडी: 1569768)
आगंतुक पटल : 469