نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
نائب صدرجمہوریہ نے دیہی حفظان صحت پر توجہ مرکوز کرنے پر زور دیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 MAR 2019 2:40PM by PIB Delhi
نئی دہلی،25؍ مارچ،نائب صدرجمہوریہ ہند جناب ایم وینکیا نائیڈو نے دیہی حفظان صحت پر پھر سے توجہ مرکوز کرنے پر زور دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ فراہم کی جانے والی حفظان صحت کے معیار کا تعین اس کی قیمت کی ادائیگی سے نہیں کیا جاسکتا۔ وہ آج مہاراشٹر کے لونی میں پروارا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ( پی آئی ایم ایس – ڈی یو) کے 13 ویں تقسیم اسناد کے جلسے سے خطاب کررہے تھے۔ یہ ادارہ ایک ڈیمڈ یونیورسٹی ہے۔
جناب نائیڈو نے 437 گریجویٹ کو مبارک باد دی جنہیں ڈگری پیش کی گئی اور انہوں نے ان گریجویٹ کے والدین کی ستائش کی جنہوں نے اپنے بچوں پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کی مدد کی اور انہیں اس قابل بنایا کہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو پوری طرح بروئے کار لاسکیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ گریجویٹ میں بڑی تعداد میں ایوارڈ اور میڈل جیتنے والی خواتین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے سے بڑا ترقی کو ناپنے کا مؤثر پیمانہ کوئی نہیں ہے ۔
نائب صدرجمہوریہ نے ملک کے حفظان صحت سے متعلق پیشہ ور افراد کو معیاری تعلیم اور تربیت فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کے لئے پی آئی ایم ایس – ڈی یو کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ ایسے وقت میں دیہی اور قبائلی آبادی کی حفظان صحت کی ضروریات کو پورا کرکے گراں قدر خدمات انجام دے رہا ہے ، جب کہ بھارت دیہی علاقوں میں زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ ڈاکٹروں ، نرسوں اور دیگر تھیریپی کے ماہرین کے لئے کوشاں ہے۔ انہوں نے ڈاکٹروں کے لئے تین سال دیہی علاقوں میں خدمات انجام دینے کو لازمی بنانے کا مشورہ دیا۔
جناب نائیڈو نے پدم بھوشن آنجہانی ڈاکٹر بالا صاحب وکھے پاٹل کے پروارا قائم کرنے اور دیہی حفظان صحت میں ان کے گراں قدر تعاون کے لئے ان کی ستائش کی۔
نائب صدر جمہوریہ نے اپنا یہ خیال ظاہر کرتے ہوئے کہ بھارت کے نوجوان اس کا مستقبل طے کریں گے ، اقوام متحدہ کے آبادی سے متعلق فنڈ کی رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں زیادہ آبادی ہونے کا فائدہ 5 دہائیوں تک ، یعنی 2005-06 سے 2055-56 تک حاصل ہوتا رہے گا، جو دنیا میں کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہے۔
نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ وسیع آبادی کے فوائد سے انسانی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لئے سرمایہ کاری میں اضافے کی ضرورت پیدا ہوگی جس کے نتیجے میں آنے والے وقتوں میں فروغ اور ترقی پر مثبت اثر پڑے گا۔ انہوں نے اعلیٰ معیاری تعلیم کی فراہمی پر زور دیا ، خاص طور پر پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم پر زور دیا جو ملک کی تعمیر میں بامعنی کردار ادا کرنے کی خاطر نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لئے ناگزیر ہے۔
بھارت کو حفظان صحت کے سیکٹر میں درپیش بڑے چیلنجوں کو اجاگر کرتے ہوئے ، جس میں وبائی بیماریوں میں تبدیلی اور متعدی بیماریوں کی غیر متعدی بیماریوں میں تبدیلی، حفظان صحت تک غیر مساوی رسائی اور بڑھتی ہوئی لاگت وغیرہ شامل ہیں ، جناب نائیڈو نے کہا کہ ہماری وسیع آبادی کو صحت کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ دیہی علاقوں کے مقابلے شہری علاقوں میں چار گنا زیادہ پریکٹس کرنے والے ڈاکٹر موجود ہیں ، انہوں نے کہا کہ دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان اس فرق کو ختم کرنے کے لئے جنگی پیمانے پر کام کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رام راجیہ کا حصول ، گرام راجیہ کے حصول کے بغیر ناممکن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیہی ترقی کا معاملہ ان کے دل میں پیوست ہے۔
ٹیکنالوجی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے ساتھ ملک بھر کے لاکھوں لوگوں تک رسائی حاصل کرنا ممکن ہے اور انہیں بہتر تشخیص اور حفظان صحت کے ورکروں کے درمیان مؤثر اشتراک سے ان کا بہتر علاج کیا جانا ممکن ہے۔
طبی خدمات کی فراہمی کے لئے بڑھتی ہوئی لاگت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جناب نائیڈو نے اپنے اس خیال کا اظہار کیا کہ ٹیکنالوجی میں اختراعات کو حفظان صحت کی فراہمی سے مربوط کرکے حفظان صحت کی فراہمی کی لاگت میں یقینا کمی کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے سبھی تعلیمی اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنے بجٹ کا ایک بڑا حصہ تحقیق وترقی اور نئی ٹیکنالوجی کی دریافت کے لئے مختص کریں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ ملک کے نوجوان ہی اس کا مستقبل طے کرسکتے ہیں۔ بھارت ایک نوجوان ملک ہے، اس لئے یہاں کا مستقبل بھی تابناک ہے۔
طبی پیشے کو ایک مشن قرار دیتے ہوئے جناب نائیڈو نے کہا کہ حفظان صحت کی پریکٹس کرنے والے اس ملک کی صحت کا تحفظ کرکے ملک سازی میں اہم رول ادا کریں گے، جس نتیجے میں ملک دنیا میں قیادت کے لئے اپنا جائز مقام حاصل کرسکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف ایک صحت مند ملک ہی مالدار ملک ہوسکتا ہے۔
جناب نائیڈو نے تمام نوجوان ڈاکٹروں اور حفظان صحت کے نئے پیشہ ور افراد پر زور دیا کہ وہ اپنے تمام مریضوں کا ، چاہے وہ غریب ہوں یا امیر ہوں، ایک ہی جذبے ، احترام اور دیانت داری سے علاج کریں۔
ہر ایک کو ملک کے اس فلسفے کو یاد دلاتے ہوئے کہ واسودیوا کٹم باکم یعنی پوری دنیا ایک خاندان ہے، اور یہ ہر ہندوستانی کے ڈی این اے میں پیوست ہے ۔ نائب صدر جمہوریہ نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اس نظریئے کو امتحان کے وقت ایک رہنما کے طور پر اپنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو قوم پرستی ، حب الوطنی ، دیانت داری ، امن ، ہمدردی ، احترام ، ہم آہنگی اور بقائے باہم کی اقدار کو فروغ دینا چاہئے۔
نائب صدرجمہوریہ نے طلباء پر زور دیا کہ وہ خود کو انسانیت کی خدمت ، بھوک ، غریبی ، جہالت اور اندھے اعتقاد کے خاتمے کے لئے وقف کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج آپ کی یونیورسٹی آپ پر فخر کرتی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ آپ آگے بڑھیں تاکہ ملک آپ پر فخر کرے۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ لفظ پراورا کے معنی بہترین کار کردگی سے ہے، انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ پراورا کی عظیم روایت کو اپنے قول و فعل سے برقرار رکھیں۔
اس موقع پر مہارا شٹر کے گورنر اور پی آئی ایم ایس - ڈی یو کے چانسلر جناب سی ودیا ساگر راؤ ، پی آئی ایم ایس – ڈی یو کے پرو چانسلر جناب وجے کیلکر ، اعزازی ڈگری حاصل کرنے والوں جناب اشوک پانا گڑیا اور دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
U-1663
(ریلیز آئی ڈی: 1569416)
وزیٹر کاؤنٹر : 90