امور داخلہ کی وزارت
جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے خلاف سخت کار روائی
प्रविष्टि तिथि:
22 MAR 2019 7:37PM by PIB Delhi
نئی دلّی ، 25 مارچ ؍مرکزی حکومت نے دہشت گردی خلاف سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یعنی جے کے ایل ایف ( یاسین گروپ ) کو غیر قانونی سرگرمیاں ( سدباب ) ایکٹ ، 1967 کی دفعہ 3 (1) کے تحت غیر قانونی تنظیم قرار دے دیا ہے ۔
2 مرکزی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف ’’ زیرو ٹولرینس ‘‘ یعنی عدم بر داشت کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے دہشت گر دی کے خلاف سخت اقدامات کئے ہیں ۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے مسلح افواج کو کار روائی کے لئے کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے ۔
3 حکومت ، ملک کی سالمیت اور اتحاد کے لئے خطرہ بنی ہوئی علیحدگی پسند تنظیموں کی سرگرمیوں کے تئیں قطعی رحم نہ کرنے کی پالیسی اختیار کرنے کے تئیں عہد بستہ ہے ۔ این آئی اے اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ ان تنظیموں کے خلاف سخت کار روائی کر رہے ہیں ۔
4 حکومت نے مذکورہ بالا کے پیش نظر 28 فروری ، 2019 کو جماعت اسلامی ( جموں و کشمیر ) کو غیر قانونی سرگرمیاں ( سدباب ) ایکٹ ، 1967 کی دفعہ 3 (1) کے تحت غیر قانونی تنظیم قرار دے دیا ہے ۔
5 اس وقت یہ واضح کر دیا گیا تھا کہ جماعت اسلامی ( جموں و کشمیر ) ، جماعت اسلامی ہند سے علیحدہ تنظیم ہے ۔ 1953 میں اس نے اپنا خود کا آئین وضع کیا تھا ۔ جماعت اسلامی ( جے اینڈ کے ) ، جموں کشمیر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث سب سے بڑی دہشت گرد تنظیم حزب المجاہدین ( ایچ ایم ) کے قیام کے لئے ذمہ دار ہے ۔ جماعت اسلامی ( جے اینڈ کے ) حزب المجاہدین کو طر قسم کی مدد یعنی بھرتی کرنا ، فنڈ مہیا کرانا ، پناہ دینا اور ساز و سامان مہیا کرانے وغیرہ فراہم کراتی ہے ۔
6 محمد یاسین ملک کے زیر قیادت جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ وادی میں علیحدگی پسند نظریات کی رہنمائی کرتی ہے اور 1988 سے وادی میں علیحدگی پسند سرگرمیوں اور تشدد کے واقعات میں میں صف اول میں شمار کی جاتی رہی ہے ۔ 1989 میں کشمیری پنڈتوں کے اخراج اور ان کی نسل کشی کے لئے جے کے ایل ایف زمہ دار ہے ۔ محمد یاسین ملک وادی سے کشمیری پنڈتوں کے اخراج اور ان کی نسل کشی کے لئے ماسٹر مائنڈ ہے ۔
7 جے کے ایل ایف کے خلاف متعدد سنگین معاملات درج ہیں ۔ یہ تنظیم بھارتی فضائیہ کے عملے کے چار افراد کے اغو اور ڈاکٹر روبیہ سعید ( اس وقت کی وی پی سنگھ کی حکومت میں وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی دختر ) کے اغوا کے لئے ذمہ دار ہے ۔ علاوہ ازیں دہشت گردی کے لئے رقومات کی ناجائز فراہمی کے لئے بھی تنظیم ذمہ دار ہے ۔ جے کے ایل ایف تنظیم وادی کشمیر میں تباہ کن سرگرمیوں کے لئے حریت کیڈر کے لوگوں اور پتھر پھینکنے والوں کو رقومات تقسیم کرنے کے معاملات میں بھی ملوث ہے ۔
8 جے کے ایل ایف ( وائی ) کی سرگرمیاں ملک کی سیکورٹی کے لئے سنگین خطرہ ہیں اور بھارت کی سالمیت اور اتحاد کے لئے نقصان دہ ہیں ۔ یہ تنظیم آئینی طور پر قائم حکومت کے خلاف معاندانہ جذبات بھڑکانے کے لئے مسلسل سرگرم ہے اور حوصلہ افزائی کرتی ہے اور ساتھ ہی ہتھیاروں سے بغاوت پر آمادہ ہے ۔
9 جے کے ایل ایف کے خلاف جموں و کشمیر پولیس کے ذریعہ 37 ایف آئی آر درج کرائی گئی ہیں ۔ سی بی آئی کے ذریعہ بھارتی فضائیہ کے عملے کے جوانوں کے قتل سمیت دو معاملات درج کرائے گئے ہیں ۔ این آئی اے نے بھی ایک معاملات درج کرایا ہے جو کہ زیر تفتیش ہے ۔ یہ معاملات اس بات کے شاہد ہیں کہ جے کے ایل ایف مسلسل دہشت گردوں کو رقومات کی فراہمی اور ان کی مدد کے معاملات میں ملوث ہے ۔
10 بڑی تعداد میں علیحدگی پسند لیڈروں کو ریاستی حکومت کی جانب سے سیکورٹی فراہم کرائی جا رہی تھی ۔ تجزیہ کے بعد متعدد افراد کی سیکورٹی ہٹا لی گئی ہے ۔ یہ عمل مزید اور مسلسل جاری رہے گا ۔
11 حکومت نے جموں و کشمیر میں جمہوریت کو زمینی سطح سے تقویت بخشنے کی غرض سے 2005 کے بعد پہلی بار شہری لوکل باڈیز انتخابات اور 2011 کے بعد پنچایت انتخابات کے بعد پہلی بار 2018 میں پُر امن انتخابات کرائے ۔ ان انتخابات میں عوام نے سرگرم شرکت کی اور ڈالے گئے ووٹوں کا کل فیصد 74 فیصد رہا ۔ ان انتخابات میں زائد از 3652 سر پنچ اور 23,629 پنچ منتخب کئے گئے تھے ۔ پنچایتوں کو با اختیار بنایا گیا ہے اور عوام کے تئیں جواب دہ بنایا گیا ہے ۔ پنچایتوں کے مالی اختیارات میں دس گنا اضافہ کیا گیا ہے ۔ تقریباً 20 محکموں کو پنچایت راج کے تحت لایا گیا ہے ۔ حکومت تمام تینوں خطوں یعنی جموں ، کشمیر اور لداخ کے مربوط ترقی اور یکجہتی کے لئے عہد بستہ ہے ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
U . 1661
(रिलीज़ आईडी: 1569390)
आगंतुक पटल : 234