قبائیلی امور کی وزارت

جول اورم  کل  جنگل کی پیداوار کے لئے ایم ایس پی  اور قدر میں اضافے کے لئے وَن دھن کا آغاز کریں گے

प्रविष्टि तिथि: 27 FEB 2019 1:15PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،27 ؍فروری، قبائلی امور کے مرکزی وزیر جناب  جول اورم نئی دہلی میں ڈاکٹر امبیڈکر  بین الاقوامی سینٹر میں  28 فروری  2019 کو  قبائلی امور کی وزارت کے تحت  ٹرائفیڈ کے ذریعے منعقد کی جانے والی   ورکشاپ میں جنگل کی چھوٹی پیداوار  کے لئے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی)  اور  اس کی قدر میں اضافے  کی اسکیم ’’وَن دھن ‘‘  کا آغاز کریں گے۔ پورے دن چلنے والی اس ورکشاپ میں 30 ریاستی حکومتوں  کے نمائندوں  اور  فریق تنظیموں کو  مدعو کیا گیا ہے، جس میں  مندوبین کے ساتھ  اسکیم کے منصوبے  اور اس کے نفاذ کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

قبائلی امور کی وزارت  اب  ’’ون دھن‘‘ اسکیم  میں توسیع کررہی ہے اور  اسے  ملک  کے تمام قبائلی اضلاع میں  مرحلے وار  توسیع دینے  اور  قبائلیوں کی قابل قدر آبادی والے  اضلاع کے ساتھ  آغاز کرنے  کے لئے تیار ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے  14 اپریل 2018  کو  چھتیس گڑھ کے بیجا پور ضلع میں ون دھن اسکیم کا آغاز کیا تھا۔ وزارت نے  جنگل کی  50 چھوٹی پیداواروں کے لئے کم از کم امدادی قیمت  (ایم ایس پی) کا احاطہ کیا ہے۔ ان  اشیاء کے لئے ایم ایس پی میں  ہر ایک کے لئے 30 فیصد سے 40  فیصد تک کا اضافہ کیا گیا ہے۔

جنگل کی ان چھوٹی پیداواروں کی خریداری   ہاٹ بازاروں میں   شروع ہوگی جہاں قبائلی اپنی پیداوار لے کر پہنچتے ہیں ۔ یہ خریداری ریاستی سرکار کی ایجنسیوں اور متعلقہ اضلاع  کے ضلع کلکٹروں کی  مدد کی جائے گی۔ اسکیم کے لئے ایک بڑی  مہم بھی چلائی جائے گی۔ اس سلسلے میں  تجویز ہے کہ  ملک میں  تقریبا 6  ہزار ون دھن وکاس کیندر قائم کئے جائیں گے جس میں  ہر ایک میں   300  چننے والے قبائلی  ہوں گے۔ اس طرح  تقریبا 45  لاکھ قبائلیوں کو روز گار ملے گا۔

 خوراک کی  ڈبہ بندی کی صنعت کی وزارت  اور قبائلی امور کی وزارت نے  تقریبا 11 کروڑ روپے کی لاگت سے  چھتیس گڑھ کے جگ دل پور  اور مہاراشٹر کے رائے گڑ ھ میں جنگلاتی پیداوار  کو ڈبہ بند کرنے کے  دو  چھوٹے یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان یونٹو ں میں  قبائلی چننے  والوں کے ذریعے  جنگل کی چھوٹی پیداوار حاصل ہوگی اور  ملک بھر کے قبائلی یونٹوں کے ذریعے  ایم ایس پی  پر خریدی گئی  اجناس  لائی جائیں گی۔ اس کی اہم پیداوار  ورراثتی مہووا  کو اصل دھارے میں شامل کرنا ہے جو ایک قبائلی مشروب ہے، اسے ان یونٹوں میں تیار کرکے پورے ملک میں فروخت کیا جائے گا۔

 ٹرائفیڈ نے  سرکاری سیکٹر کے یونٹوں سے سی ایس آر فنڈ حاصل کرنے کے لئے  فرینڈس آف ٹرائبس بھی شروع کی ہے اور ان سے اپنی سی ایس آر کے اقدامات کے ذریعے  صنعت کاری کو فروغ دینے کے پروگرام کے لئے فنڈ فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ بی پی سی ایل ، آئی او سی ایل  اور ایس پی ایم سی ایل  نے     چھتیس گڑھ مدھیہ پردیش کے بروانی  راج نند گاؤں ، دیواس  اور ہوشنگ آباد اضلاع  میں  ون دھن کارروائیوں کے لئے ایک  ہزار کروڑ روپے منظور کئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (م ن-وا- ق ر)

U-1261

 


(रिलीज़ आईडी: 1566523) आगंतुक पटल : 111
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी