وزارات ثقافت
صدر جمہوریہ نے 2014، 2015 اور 2016 کے لئے ثقافتی ہم آہنگی کے لئے ٹیگور ایوارڈز پیش کئے
प्रविष्टि तिथि:
18 FEB 2019 4:50PM by PIB Delhi
نئی دہلی، 18فروری 2019؍صدر جمہوریہ ہند جناب رام ناتھ کووند نے آج (18فروری2019ء) نئی دہلی میں منعقدہ ایک تقریب میں سال 2014ء ، 2015ء اور 2016ء کے لئےبالترتیب جناب راجکمار سنگھاجیت سنگھ، چھایانوت(بنگلہ دیش کی ایک ثقافتی تنظیم)اور جناب رام وانجی سوتر کو ثقافتی ہم آہنگی سے متعلق ٹیگور ایوارڈز پیش کئے۔
اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا کہ یہ ایوارڈ ثقافت اور ہماری تہذیبی دولت کی ہندوستانی روایات کا جشن ہے۔ اس کا تعلق ادب یا موسیقی ، فن یا ڈرامہ ، مجسمہ سازی یا دستکاری ، ڈیزائن یا ڈیجیٹل آرٹ کسی سے بھی ہو۔ہمارے ملک کے ہرخطے کی ایک ممتاز تہذیبی شناخت ہے، تاہم اپنی روح میں ثقافت تقسیم نہیں کرتی، بلکہ یہ سب کو جوڑتی ہے اور ہندوستان کے سبھی لوگوں اور پوری انسانیت کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔
ایوارڈ یافتگان کو مبارک باد دیتے ہوئے وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے کہا کہ یہ گرودیو رابندر ناتھ ٹیگور تھے، جنہوں نے ہمارے ملک کی رنگا رنگی طاقت کو سمجھااور اسے اپنے رابندر سنگیت میں پرویا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ گرودیو کا بین الاقوامی سطح پر احترام کیا جاتاتھا۔گرودیو کے کاموں سے جو کردار اور پیغام پھوٹتا ہے وہ وقت اور حالات کی بندشوں سے ماورا ہے۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ آج دنیا کے جو حالات ہیں ،ان میں یہ مزید موزوں ہوگیا ہے کہ گرودیو رابندر ناتھ ٹیگور کے ہم آہنگی اور امن کے پیغام کی تشہیر کی جائے۔
اپنی استقبالیہ تقریب میں ثقافت (آزادانہ چارج)، کے وزیر مملکت ڈاکٹر مہیش شرما نے کہا کہ جناب راجکمار سنگھا جیت سنگھ، چھایانوت (بنگلہ دیش کی ایک ثقافتی تنظیم) اور جناب رام وانجی سوتر کو نوازنا ہمارے لئے بڑے فخر کی بات ہے۔ یہ وہ ہیں جنہوں نے رابندر ناتھ ٹیگور کی ثقافتی ہم آہنگی سے متعلق وراثت کو آگے بڑھانے کے لئے عظیم کام کیا ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ ان ایوارڈز کے دروازے قومیت ، نسل، زبان، ذات، خاندان یا جنس کے امتیاز کے بغیر سبھی لوگوں کے لئے کھلے ہیں۔
جناب راجکمار سنگھا جیت سنگھ ایک بہت ہی محترم اور سب سینیئر گرو، شارح،کوروگرافر، پرولیفک(زرخیز)، مصنف اور منی رقص کے اسکالر ہیں۔ان کا نام منی پور اور منی پور سے باہر دونوں جگہوں پر منی پوری رقص کی نشرو اشاعت کے حوالے سے ہم معنی ہے۔
چھایانوت بنگلہ دیش کی ایک ثقافتی تنظیم ہے، جنہوں نے نہ صرف بنگلہ دیش، بلکہ دنیا بھر میں ٹیگور کے کاموں اوربنگلہ فن و ادب کی تشہیر میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔اس نے قحط سالی ، سیلاب یا فسادات کے وقت لوگوں کی مدد کرنے، اپنے ہونٹوں پر احتجاجی نغموں کے ساتھ بحران کا حل نکالنے کے لئے لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ لانے کا کام بھی کیا ہے۔
جناب رام وانجی سوتر ایک مشہور مجسمہ ساز اور اسکالر ہیں۔ انہوں نے گزشتہ 80 برسوں کے دوران 600 سے زیادہ یادگاری مجسمے بنائے ہیں۔انہوں نے دنیا کے سب سے طویل مجسمے (مجسمہ اتحاد-اسٹیچو آف یونٹی) 182میٹر بلند سردار ولبھ بھائی پٹیل کا مجمسہ تیار کیا ہے، جسے حال ہی میں گجرات کے سردار سرور ڈیم پر نصب کیا گیا ہے۔
اپنی خدمات کے اعتراف پر اظہار تشکر کرتے ہوئے ایوارڈ یافتگان نے کہا کہ وہ ایوارڈ پاکر خود کو اعزاز یافتہ تصور کررہے ہیں اور گرودیو ٹیگور کی وراثت کی ایک علامت کے طورپر اخوت اور ہم آہنگی کے پیغام کو پھیلانے کے لئے تحریک حاصل کررہے ہیں۔
ٹیگور ایوارڈ ہر سال دیا جاتا ہے اور اس میں ایک کروڑ روپے (غیر ملکی کرنسی میں قابل تبدیل)، ایک سپاسنامہ ، ایک تختی اور ایک نادر روایتی دستکاری ؍ہینڈ لوم سامان دیا جاتا ہے۔یہ ایوارڈ دو افراد ؍ اداروں جنہیں جوری نے متعلقہ سال میں مساوی طورپر اس کا مستحق گرداناہو، کو دیئے جاسکتے ہیں۔
جناب راجکمار سنگھا جیت سنگھ ، چھایا نوت (بنگلہ دیش کی ایک ثقافتی تنظیم)اور جناب رام سوتر وانجی کو بالترتیب 2014ء، 2015ءاور 2016ء ایوارڈ کے لئے منتخب کئے گئے ہیں۔
م ن۔م م۔ن ع
U: 1060
(रिलीज़ आईडी: 1565117)
आगंतुक पटल : 80
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें:
English