وزارت آیوش
یونانی ادویہ پرقومی کانفرنس کامیابی کے ساتھ تمام
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 FEB 2019 8:33PM by PIB Delhi
نئی دہلی ،13فروری:تیسرے یوم یونانی کے جزوکی حیثیت سے سنٹرل کانفرنس فارریسرچ ان یونانی میڈیسین ( سی سی آریوایم ) کی جانب سے یونانی ادویہ پراہتمام کی گئی قومی کانفرنس کامیابی کے ساتھ تمام ہوگئی ۔ اس کانفرنس میں یہ بات خاص طورسے کہی گئی کہ تمام نظام ہائے ادویہ کے ساتھ ارتباط اور اتحاد کے ساتھ ازحد لازمی ہے تاکہ آج صحت کو درپیش چیلنجوں کا تدارک کیاجاسکے ۔ کانفرنس میں صحت عامہ کے لئے یونانی ادویہ کی افادیت پرروشنی ڈالی گئی اورکہاگیاہے کہ یونانی دوا میں ان امراض کاعلاج کرنے کی بھی اہلیت موجود ہے جن کا علاج دیگرنظام ہائے ادویہ میں موجود نہیں ہے ۔
کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کے دوران وزارت آیوش کے ایڈیشنل سکریٹری جناب پرمود کمارپاٹھک نے ا یسی اہم اورکامیاب قومی کانفرنس کے لئے سی سی آریوایم کی کوششوں کی ستائش کی اور یونانی ادویہ کے لئے آیوش ایوارڈ سے نوازے جانے والے کو مبارکباد دی ۔
کشمیریونیورسٹی کے وائس چانسلر ، پروفیسرطلعت احمد نے یونانی اوردیگرروایتی نظام ہائے ادویہ کی جدیدکاری پرزوردیا۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہاکہ اس جدیدکاری کے عمل میں ان ادویہ کے اصولوں اوربنیادی نظریے کو بحال رکھاجائے ۔
اس موقع پر مولاناآزادیونیورسٹی ،جودھپورکے صدرپروفیسراخترالواسع نے اپنی تقریرمیں کہاکہ تدریس، تحقیق اورعلاج کے طریقوں کی زبردست ڈھانچہ جاتی سہولیات کے ساتھ ہندوستان بلاشبہ عالمی لیڈر کا مقام حاصل کرچکاہے ۔ انھوں نے آیوش کی وزارت اور حکومت ہندسے زوردیکر کہاکہ آیورویدک اور یونانی طبیہ کالجوں کی تازہ کاری کرکے انھیں مکمل یونیورسٹی کا درجہ دیاجائے ۔
اس موقع پر پدم شری پروفیسرحکیم سید ذلررحمان نے مختلف نظام ہائے ادویہ کے اصولوں اورشناختوں کو برقراررکھنےپرزوردیا۔ حکیم اجمل خاں مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے پروفیسرذلررحمان نے کہاکہ حکیم اجمل خاں مرحوم کی شخصیت بے مثال تھی ان کی شخصیت میں بے پناہ ذہانت موجود تھی اوروہ کسرت میں وحدت کی مثال تھے ۔
پدم شری ایم اے وحیدنے یونانی دواوں کو عالمگیریت دینے کے لئے سائنسی پیمانوں پر روایتی طریقہ علاج کے جواز پرزوردیا۔
اس سے پہلے سی سی آریوایم کے ڈائرکٹرجنرل پروفیسرعاصم علی خاں نے اپنے اختتامی کلمات میں اجلاس کی دودن کی کارروائی کا اختصارپیش کیااوربتایاکہ کانفرنس میں حفظان صحت کی خدمات پہنچانے میں یونانی دواوں کی اہمیت ، یونانی طریقہ علاج میں دیرینہ بیماریوں کے بندوبست ، صحت عامہ کے پروگراموں، بزرگوں کی دیکھ بھال کے لئے یونانی دواوں ، زچہ بچہ کی صحت کے لئے یونانی دواوں ، روایتی دواوں میں کوالٹی کنٹرول ، یونانی دواوں میں ابھرتے ہوئے تحقیقی رجحانات اور یونانی دواوں کو عالم گیریت دینے کے طریقہ کار پربات چیت کی گئی ۔ کانفرنس میں یونانی دواوں کے لئے مارکیٹ کی ترقی کو درپیش چیلنجوں پر ایک مباحثہ بھی کیاگیا ۔ یہ مباحثہ تعلیم ، صنعت اور محققین کے مابین کیاگیا نیز اس کانفرنس میں صحت عامہ کے لئے یونانی دواوں پربھی تین کلیدی خطابات پیش کئے گئے ۔ ماہرین ،سرکردہ شخصیات ، یونانی دواوں کی دانشوران کی موجودگی میں یہ کانفرنس صحت سے متعلق مباحثے اور نظریات پرغوروخوض نیز صحت عامہ کے معاملات میں یونانی دواوں کی طاقت کو مزید استعمال کرنے کی بہترگنجائشیں پیداکرنے کے لئے ایک بڑا پلیٹ فارم ثابت ہوئی ۔ ان اجلاس کے دوران تقریبا 40مقالے پیش کئے گئے ۔ اجلاس میں 1300مندوبین ، باوسیلہ افراد ، ماہرین تعلیم ، محققین ، طلبأ اورصنعت کے نمائندوں نے شرکت کی ۔ یہ کانفرنس آیوش کی وزارت کے یونانی طریقہ علاج سے متعلق مشیر ڈاکٹرمحمد طاہر کی طرف سے تجویز کی گئی شکریے کی تحریک کے ساتھ اختتام پذیرہوگئی ۔
اس کانفرنس کا افتتاح منی پورکی گورنرمحترمہ ڈاکٹرنجمہ ہپت اللہ نے ، اقلیتی امور کے مرکزی وزیر جناب مختارعباس نقوی ، شمال مشرقی خطے کے محکمے کے وزیرمملکت آزادانہ چارج ڈاکٹرجتیندرسنگھ ، حکومت ہند کے تحت آیوش کے وزیرمملکت جناب شری پدیسونائک ۔آیوش کی وزارت کے تحت حکومت ہند کے سکریٹری ویدیہ راجیش کوٹیچا، حکومت ہند کے تحت آیوش کی وزارت میں یونانی طریقہ علاج سے متعلق مشیر ڈاکٹرمحمد طاہراور سی سی آریوایم کے ڈائرکٹرجنرل پروفیسرعاصم علی خاں کی موجودگی میں کیا۔
کانفرنس میں سی سی آریوایم اور نئی دہلی کے جامعہ ہمدردکے درمیان یونانی دواوں میں سائنسی اشتراک سے متعلق مفاہمت نامے کا لین دین بھی کیاگیا۔
اس موقع پر یونانی دواوں کے لئے آیوش انعامات بھی پیش کئے گئے یہ انعامات بینگلور کے یونانی دواوں کے قومی ادارے این آئی یوایم سے وابستہ ڈاکٹرعرشیہ سلطانہ ، سی سی آریوایم سے وابستہ ڈاکٹرنعمان انور ، سی سی آریوایم سے وابستہ ڈاکٹرجمال اختربینگلورکے این آئی یوایم سے وابستہ ڈاکٹرنسرین جہاں ، علی گڑھ میں ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اے ایم یو کے پروفیسرتنزیل احمد ، نئی دہلی کے جامعہ ہمدردسے وابستہ پروفیسرمحمد اسلم ، علی گڑھ میں اے ایم یو کے پروفیسرخالد زماں خان ، اے ایم یو کے پروفیسرنعیم احمد خاں اور جامعہ ہمدرد کے پروفیسر ایم اے جعفری کو پیش کئے گئے ۔ یہ انعام ایک توصیف نامے ایک شال اور 50ہزارسے دولاکھ روپے تک کی نقد رقم پرمشتمل ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔م ن ۔اس ۔ ع آ) (
U-931
(ریلیز آئی ڈی: 1564192)
وزیٹر کاؤنٹر : 136