جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت

وزیراعظم نے بین الاقوامی شمسی اتحاد کی پہلی اسمبلی کا افتتاح کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 OCT 2018 10:25PM by PIB Delhi

نئیدہلی03اکتوبر۔وزیراعظم جناب نریندرمودی نے وگیان بھون میں بین الاقوامی شمسی اتحاد کی پہلی اسمبلی کا افتتاح کیا۔ یاد رہے کہ اس اسمبلی کا اہتما م دوسرے آئی او آر اے قابل تجدید توانائی کے امور کے وزارتی اجلاس  کے افتتاح  اور دوسرے عالمی باز سرمایہ کاری ( قابل تجدید توانائی سرمایہ کاری کرنے والوں کے اجلاس اور نمائش ) کے افتتاح کے موقع پر اہتمام  کیا گیا ہے ۔ اس افتتاحی تقریب میں اقوام متحدہ کی سکریٹری جنرل  جناب انٹونیو گواتریز   نے شرکت کی ۔ اسمبلی سے اپنے افتتاحی خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سے 200 برس کی مدت میں  بنی نوع انسان کا توانائی کی ضرورتو ں کی تکمیل کے لئے انحصار فاصل  ایندھنوں  پر رہا ہے ، لیکن اب قدرت کا اشادہ ہے کہ سورج ، ہوا  اور پانی سے بھی  پائیدار توانائی پیدا کی جاسکتی ہے ۔ وزیر اعظم نے اس سلسلے میں انتہائی  پر اعتماد لہجے میں کہا کہ مستقبل میں لوگ بنی نوع انسا ن کی فلاح کے لئے تنظیموں کے قیام کی بات کرتے تھے  لیکن اب اکیسویں صدی میں  بین الاقوامی شمسی اتحاد ان میں سرفہرست ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ماحولیاتی انصاف کو یقینی بنانے کی سمت میں  ایک عظیم فورم ہوگا اوراب بین الاقوامی شمسی اتحاد مستقبل میں او پی ای سی  کی جگہ  کلیدی عالمی توانائی فراہم کار    کی حیثیت سے قائم ہوجائے گا۔

          وزیراعظم نے اپنی تقریر میں آگے کہا کہ اب ہندوستان میں  قابل تجدید توانائی کے استعمال کے اثرات  صریحاََ ََنظر  آنے لگے ہیں  او ر اب ہندوستان ایک منصوبہ عمل کے ذریعہ پیرس معاہدے کے نشانوں کے حصول کی سمت میں کا م کررہا ہے۔ ہم نے 2030 تک اپنی توانائی کی  کل ضرورت  کے  40 فیصد حصہ   کی توانائی پیدا کرنے کا نشانہ معین کیا ہے ۔  ہم یہ توانائی  غیر فاصل  ایندھن پر مبنی  وسائل سے پیداکریں گے ۔                                                                                                                                                                     وزیراعظم نے کہا کہ آج ہندوستان ’’غریبی  سے طاقت ‘‘   کے نشانے کے حصول کی سمت میں ایک نئی خود اعتمادی کے ساتھ ترقی کررہا ہے ۔

          وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان شمسی اور ہوائی  توانائی کی  پیداوار کے علاوہ  بایو ماس  ، بایو فیول اور بایو انرجی کے وسائل سے بھی توانائی پیدا کرنے کی سمت میں بھی کام کررہا ہے ۔ آج  ہندوستان کے ٹرانسپورٹ نظام کو  صاف ستھرے   ایندھن  سے  چلائے جانے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان بایو ویسٹ  (حیاتیاتی کوڑے کچڑے  )سے بایوفیول (حیاتیاتی ایندھن ) سے توانائی پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔  انہوں نے کہا کہ ہندوستان اس چیلنج کو ایک خوش قسمتی میں بدلنے کی  خود اعتماد کوششیں کررہا ہے ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر ’’  ایک دنیا ،  ایک سورج  اورایک گرڈ ‘‘ کا تصور روبہ عمل لانے کی کوشش کی جائے  تو بجلی کی بے روک سپلائی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔

          اس موقع پر وزیر اعظم نے ایک نیشنل انرجی اسٹوریج مشن قائم کرنے کا بھی اعلان کیا، جو  تیاری ، تعین   ، ٹکنالوجی کے فروغ اور  پالیسی فریم ورک   کے کام کاج پر نگاہ رکھے گا۔

          اس موقع پر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل جناب انٹوینو گواتریز نے  کہا کہ آج  تبدیلی ماحولیات پوری دنیا کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بین الاقوامی شمسی اتحاد میں  پوری دنیا   میں مستقبل کے توانائی کے منظر نامے کی نمائندگی شامل ہے ۔سکریٹری جنرل موصوف نے کہا کہ آج پوری دنیا میں  قابل تجدیدتوانائی کا انقلاب برپا ہورہا ہے اور امید ہے کہ اب فاصل فیول کا دور ختم ہوجائے گا اور اس کی جگہ کسی نئی توانائی کو استعمال کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وہ  اگلے دسمبر میں  ماحولیات پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کا اہتمام کریں گے ،جس میں  ماحولیات کو عالمی ایجنڈے میں سرفہرست رکھا جائے گا۔

          اس موقع پر مرکزی وزیر خارجہ محترمہ سشما سوراج نے اپنی تقریر میں کہا کہ بین الاقوامی شمسی اتحاد ایک قابل قدر حقیقت بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج افتتاح کی گئیں  تین تقریبات کا واحد نشانہ  ایک بہتر دنیا کے لئے پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے ۔ اس موقع پر ہندوستان میں  ’’ قابل تجدید توانائی کا سفر‘‘  کے عنوان سے ایک فلم بھی دکھائی گئی ۔ اس کے ساتھ ہی  شمسی لیمپ  کی تیاری میں  طلبا کی کارکردگی پر بھی  ایک فلم کی نمائش کی گئی ۔ بعد ازاں  محتلف اسکولوں کے 100  طلبا نے اس افتتاحی تقریب میں سولر اسٹڈی لیمپ روشن کئے ۔

          قابل تجدید توانائی اور بجلی  کے وزیر مملکت ( آزادانہ چارج ) جناب آر کے سنگھ نے اس موقع پر تمام اکابرین کو خوشنما پودے پیش کئے اس کے ساتھ ہی جناب آر کے سنگھ نے اس تقریب کے اختتام پر کلمات تشکر ادا کئے ۔

بین الاقوامی شمسی اتحاد :

          بین الاقوامی شمسی اتحاد ( آئی ایس اے ) دراصل خط سرطان اور خط جدی کے درمیان  واقع شمسی وسائل سے مالامال   ، 121 ملکوں  کی اتحادی تنظیم ہے ۔آئی ایس اے کا آغاز 30نومبر 2015  کو پیرس میں   یونائٹیڈ نیشن فریم ورک  کنونشن آن کلائمیٹ چینج کی 21 ویں  کانفرنس آف پارٹیز   (سی او پی -21) کے موقع پر  وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور اس وقت کے صدر مملکت فرانس جناب فرینکوائس ہالینڈے نے مشترکہ طور سے کیا تھا ۔اس کے ساتھ ہی آئی ایس اے فریم ورک ایگریمنٹ ، مراقش میں 15  نومبر 2016  کو سی او پی -22  کے اجلاس کے  دوران دستخط  کے لئے کھولا گیا تھا۔

          11  مارچ  2018  کو  وزیر اعظم ہند جناب نریندر مودی اور صدر مملکت فرانس  جناب ای مینویل میکرون نے   بین الاقوامی شمسی اتحاد  (آئی ایس اے ) کی بنیادی کانفرنس کی میز بانی  کی تھی۔اس کانفرنس میں  25 سربراہان مملکت سمیت  48  ملکوں نے شرکت کی تھی ۔علاوہ ازیں اس کانفرنس میں اقوام متحدہ  ، ہمہ جہتی ترقیاتی بینکوں  ، توانائی سے متعلق  تھنک ٹینکس  کارپوریٹ سیکٹر اور سول سوسائٹی نے اپنے اپنے ری پریذینٹیشن    بھی پیش کئے ۔

          علاوہ ازیں آئی ایس اے کی بانی کانفرنس میں اختیار کئے جانے والے ’’دہلی سولر ایجنڈا ‘‘میں   21 ریاستوں نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ  آئی  ایس اے کی رکن  ریاستوں نے    تبدیلی ماحولیات کے مسئلے  کے تدارک کی غرض  سے قومی توانائی  کے مجموعے  میں شامل توانائی کی حتمی کھپت  میں شمسی توانائی کو زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے گا۔

          اب تک   قرطاس جدی وسرطان کے درمیان واقع   121  مجوزہ رکن ممالک  آئی ایس اے کے فریم ورک کے ایگریمنٹ پر دستخط کرچکے ہیں ۔علاوہ ازیں 44  ممالک نے آئی ایس اے کے معاہدے کی توثیق  بھی کردی ہے ۔

دی انڈین رم ایسوسی ایشن  :

          انڈین اوشین رم ایسوسی ایشن    بحر ہند کے خطے میں  علاقائی  تعاون کو مستحکم کرنے  اور پائیدار ترقی کے مقصدسے  قائم کی گئی تھی ۔ جس میں  21  رکن ممالک  اور سات  مذاکرات شراکتدار شامل تھے۔  ہندوستان  دوسری آئی او آر اے  ری نیویبل  انرجی  منسٹیریل میٹ کی میز بانی کرے گا۔ اس اجلاس میں  9  رکن ممالک کے وزرا اور 21  دیگر ممالک کے مندوبین کی شرکت متوقع ہے ۔ ہندوستان ، آسٹریلیا ، ایران ،  انڈونیشیا  ،تھائی لینڈ ، ملیشیا ،ساؤتھ افریقہ ، موزامبیق ،  کینیا ،سری لنکا ،تنزانیہ ، بنگلہ دیش ،سنگا پور ، ماریشس ،  میڈا غاسکر ، متحدہ عرب امارات  ، یمن  ،سیشلز ،صومالیہ   اور عمان  آئی او آر اے کے رکن ممالک میں شامل ہیں۔

 

باز سرمایہ کاری :

          دوسری باز سرمایہ کاری  کا مقصد قابل تجدید توانائی کے دنیا بھر میں استعمال کی پیمائش کی کوشش کرنا اورعالمی سرمایہ کار برادری کو ہندوستان کے توانائی دعوے داروں سے جوڑنا ہے ۔دوسری بازسرمایہ کاری میں قابل تجدید توانائی ، کلین ٹیک  اور مستقبل کے توانائی  انتخاب  پر ایک تین روزہ کانفرنس  کا اہتمام اور  قابل تجدید توانائی کے مینوفیکچررز ،ڈیولپرز ، انویسٹرز اور انوویٹرز   کی ایک نمائش کا اہتمام  شامل ہے ۔

          توقع ہے کہ دوسری باز سرمایہ کاری کانفرنس میں  آئی ایس اے  اور آئی او آر اے کے رکن ممالک سمیت   دنیا بھر کے 600 سے زائد  سرکردہ عالمی صنعت کار اور دس ہزار مندوبین شرکت کریں گے ۔اس کانفرنس میں  15  ہندوستانی ریاستیں  بھی شرکت کریں گی ۔ جس میں سات کنٹری پریذینٹیشن  پر بھی توجہ مرکوز کی جائے گی۔علاوہ ازیں  اس کانفرنس سے  15  ملکوں کے55 بین الاقوامی مقررین سمیت  150 سے  زائد مقررین خطاب کریں گے  ۔ باز سرمایہ کاری کانفرنس میں   50  مکمل اور تکنیکی اجتماعات کا اہتمام کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں اس میں  چیف منسٹیریل پلینری سیشن   اور نمائش  کا بھی اہتمام کیا جائے گا جس میں 100سے زائد نمائش کار کمپنیاں حصہ لیں گی ۔

          واضح ہوکہ عالمی سطح پر ہندوستان  قابل تجدید توانائی کے میدان میں  پانچویں نمبر پر ، ہوائی بجی کی پیداوار میں چوتھے نمبر اور شمسی توانائی کی پیداوار میں پانچویں نمبر پر ہے ۔ علاوہ ازیں ہندوستان دنیا کے سب سے بڑی گرین انرجی  مارکیٹ میں شامل ہے ۔قابل تجدید توانائی کے فروغ اورتعین کو  100 فیصد غیر ملکی سرمایہ کاری سمیت عملی پالیسی حمایت حاصل ہوئی ہے اور حکومت ہند  2022 تک 175 جی ڈبلیو قابل تجدید توانائی  کی پیداوار کا نشانہ معین کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ 

۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

U-5123


(ریلیز آئی ڈی: 1548320) وزیٹر کاؤنٹر : 190
یہ ریلیز پڑھیں: English , Kannada