صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
سینٹ تھامس کالج کی صد سالہ تقریبات کے افتتاحی جلسے سے صدر جمہوریہ ہند جناب رام ناتھ کووند کا خطاب
प्रविष्टि तिथि:
07 AUG 2018 12:28PM by PIB Delhi
نئی دہلی، 07 اگست ۔صدر جمہوریہ جناب رام ناتھ کووند نے سینٹ تھامس کالج کی صدسالہ تقریبات کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حسب ذیل تقریر کی :
’’مجھے سینٹ تھامس کالج کی سالانہ تقریبات کے افتتاح کے لئے یہاں اپنی موجودگی پر انتہائی مسرت ہورہی ہے۔یہ کیرل ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں وظائف دئے جانے اور مزید تعلیمی خدمات انجام دینے والے اس ادارے کے لئے انتہائی فخر وانبساط کا موقع ہے ۔ میں اس موقع پر سینٹ تھامس کالج کے کنبے کو مبارکباد دیتا ہوں ،جس میں اس کالج کے طلبا، اساتذہ اور پروفیسر اورکالج کی انتظامیہ کا عملہ شامل ہے ۔علاوہ ازیں یہاں موجود اس کالج کے سابق طلبا اور پروفیسر حضرات اور اس کالج سے وابستہ برادری کی ایک خوبصورت گلدستہ نظر آرہا ہے ۔اس کالج کی سابقہ صدی اس کی شاندار کامیابیوں کی شاہدرہی ہے ۔مجھے یقین ہے کہ اس کالج نے اگلے سو برسوں کی کامیابیوں کی بنیاد رکھ دی ہے ۔
اس کالج کے آغاز کی کہانی بھی انتہائی حوصلہ افزا ہے ۔ 1887میں عزت مآب ڈاکٹر ایڈالفس ایڈون میڈلی کاٹ نے تھری سور کے پہلے بشپ کے منصب کی ذمہ داری سنبھالی تھی ۔انہوں نے اس کے فوراََ بعد ویٹیکن میں پوپ کو ایک خط لکھا ،جس میں انہوں نے پانچ ترجیحات تحریر کیں ۔ان کی دو ابتدائی ترجیحات میں لڑکوں اورلڑکیوں کے لئے اسکولوں کا قیام تھا جبکہ ان کی تیسری ترجیح ان کے لئے بشپ ہاؤس کی تعمیر تھی۔ کیونکہ اس وقت وہ ایک کرائے کے چھوٹے سے مکان میں رہتے تھے۔
لڑکوں کے لئے اسکول 1889 میں شروع ہوا ،جسے 33سال بعد ایک کالج کا مرتبہ حاصل ہوا اور آج یہ ادارہ 100سالہ قدیم ہے۔ اس مدت کے دوران اس کالج کو انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور انتہائی اکابر وزیٹر تعلیمی شخصیات کی خدمات حاصل رہی ہیں۔مجھے بتایا گیا ہے کہ 1927 میں بابائے قوم مہاتما گاندھی نے ملک کی جدوجہد آزادی کی قومی تحریک میں سینٹ تھومس کی کالج کی خدمات پر روشنی ڈالی تھی ۔ انہوں نے کالج کے احاطے میں ایک زبردست جلسہ عام سے خطاب کیا تھا ۔اس موقع پر کالج کے طلبا نے تحریک آزادی کی حمایت کے لئے 501 کروڑ روپے کی رقم جمع کی تھی ۔ یہ رقم اس وقت معمولی محسوس ہوسکتی ہے لیکن 1927 میں اسے شاہی رقم ہونے کا اعتبار حاصل تھا۔
یہاں آنے میں میں نے صدر جمہوریہ ہند کی حیثیت سے اپنے دو سابقہ صدور کے روشن نقش پا کی تقلید کی ہے ۔ 1980 میں سابق صدر جمہوریہ ہند جناب نیلم سنجیوا ریڈی نے اس کالج کی ڈائمنڈ جوبلی تقریب کو زینت بخشی تھی جبکہ 2008 میں کالج کے 90 ویں یوم تاسیس کو سابق صدرجمہوریہ ہند جناب اے پی جے عبدالکلام نے اپنی موجودگی سے وقار بخشا تھا۔ درایں اثنا 1994 میں کالج کی پلاٹینم جوبلی کی تقریب میں سابق وزیر اعظم ہند آنجہانی پی وی نرسمہاراؤ نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی تھی ۔میں سمجھتا ہوں کہ بھارت رتن اعزاز یافتہ آنجہانی مدر ٹریسا نے بھی اسی سال اس کالج میں تشریف لاکر اسے اپنی دعائیں دی تھیں ۔اس موقرادارے نے ان اکابر شخصیات کی آمد محض اتفاق نہیں ہے بلکہ کیرل اور باقیماندہ ملک کی دارنشورانہ زندگی اور عوام الناس کے سینٹ تھومس کالج کی خدمات کا صریحی اعتراف تھا۔ اس ریاست کے دو سابقہ اوربہترین وزرائے اعلیٰ جناب ای ایم ایس نمبودری پاد اور جناب اچیوتا مینن نے اسی کالج میں تعلیم حاصل کی تھی۔ اسی طرح لوک سبھا کے بزرگ رکن جناب سی ایم اسٹیفن اورکیرل کی متعددسرکردہ سیاسی شخصیات نے اس کالج میں تعلیم حاصل کی تھی۔ چنمیا مشن قائم کرنے والے سوامی چنمیا نندا بھی اسی کالج کے طابعلم رہ چکے تھے۔ بشپ میٹ جارج الاپاٹ اور مار اپریم بھی اسی کالج کی روشن شخصیات کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ یہاں تعلیم حاصل کرنے والے مقتدر شخصیات کی فہرست بڑی طویل ہے ، جس میں سائنسداں ، ماہرین تعلیم ،قانون داں اور سفرأ حضرات شامل ہیں۔
خواتین وحضرات اور پیارے طلبأ !
کیرالہ کا رہنے والا ہرشہری خواہ وہ کسی پس منظر سے تعلق رکھتا ہو،سینٹ تھومس کا لج کی مسلسل کامیابیوں کے سفر کا دعوے دار ہے ۔قطع نظر اس کے یہاں یہ بات بھی انتہائی لائق ستائش ہے کہ اس کالج کے قیام ، اس کے انتظام وانصرام اور اسے بلند ترین مقام پر پہنچانے کے لئے چرچ کی خدمات بھی انتہائی لائق ستائش ہیں ۔کیرل کی عیسائی برادری نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کی قدیم ترین برادری ہے ۔ اس کی وراثت اورتاریخ انتہائی باعث فخر وانبساط ہے ۔نہ صرف پورے ملک کے انتہائی باعث فخر ہے بلکہ ہندوستان کی کثرت ووحدت کے تئیں ناقابل اختلاف عہد بستگی کی حیثیت رکھتی ہے۔
میں کہنا چاہتا ہوں کہ اس برادری نے باقیماندہ کیرل کی طرح مختلف میدانوں میں بھی شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ تاہم اس برادری نے خاص طور سے دو پیشوں کو اپنے لئے مخصوص کیا ہے ، جن میں تعلیم ،علاج ومعالجے کا میدان ہے ۔ متعدد ہندوستانیوں کے لئے اس برادری کی ادویہ اور نرسنگ سے وابستگی اور تدریس اور تعلیم سے والہانہ وابستگی انتہائی فطری محسوس ہوتی ہے ۔ دیگر ممالک میں بھی اسی قدر گرم جوش جذبات دیکھے جاتے ہیں ۔ میں نے 2017 میں ایتھوپیا کا سفر کیا تھا ۔ یہ صدر جمہوریہ کے منصب پر فائز ہونے کے بعد میرا پہلا سفر تھا۔میں اس وقت ایتھوپیا کے لوگوں کے ذریعہ ہندوستانی اساتذہ کی تعریف کئے جانے سے بے حد متاثر ہوا تھا۔ جنہو ں نے اب سے 50سال قبل ہی ایتھوپیا کے دوردرا ز علاقوںکا سفر کیا تھا۔انہوں نے ایتھوپیا کے بچوں کی کئی نسلوں کو تعلیم سے آراستہ کیا تھا ۔آج بھی ایتھوپیا میں انہیں انتہائی ممنونیت کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے ۔ ان میں سے بیشتر اساتذہ حضرات کیرل اور درحقیقت اسی خطے اوربرادری سے تعلق رکھتے تھے۔
سینٹ تھامس کالج کا اصولی نعرہ ،’’ تعلیم آپ کو آزادی سے ہمکنار کرے گی‘‘ انتہائی معقول نعرہ ہے۔ یہ نعرہ ہمیں اس بات کی یاددلاتا ہے کہ تعلیم کی حقیقی قدر امتحانات اور ڈگریوں میں نہیں ہے بلکہ حقیقی قدر یہ ہے کہ ہم کس طر ح اپنے ساتھی انسانوں کو مدد کرنے کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور ان لوگوں کی فکر کرتے ہیں جو غریب اورمفلس ہیں اور جنہیں ہماری امداد کی ازحد ضرورت ہے ۔میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ خدا کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ کسی دوسرے انسان کی مدد کی جائے ۔ کسی دوسرے انسان کے زخم کو مرہم رکھ کر مندمل کیا جائے اور کسی دوسرے انسان کو تعلیم کی روشنی سے منور کیا جائے ۔ یہی شریف روایت اس کالج کی قدروں میں شامل ہے ۔
لوگوں کو تعلیم دینے اور اپنے سماج کی تعمیر کے لئے رہنمائی کو جاری رکھنے کے مشن میں نیز کیرل اور ہندوستان کو اپنے خوابوں کا ہندوستان بنانے میں ہماری کوششوں میں سینٹ تھومس کالج جیسے تعلیمی اداروں کی خدمات انتہائی اہمیت کی حامل ہیں ۔ جیسے جیسے آپ اگلی صدی کی جانب پیش رفت کرتے ہیں آپ کا یہ سفر مزید اہمیت کا حامل ہوجاتا ہے ۔ میں ایک بار پھر آپ سب کو مبارکباد اور مزید سنگ میل نصب کرنے کے لئے نیک خواہشات پیش کرتا ہوں ۔‘‘
م ن ۔س ش ۔رم
U-4106
(रिलीज़ आईडी: 1541895)
आगंतुक पटल : 432