نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
رواداری کے جذبے سے عاری شہری نہ صرف یہ کہ ہم وطنوں کے لئے سنگین خطرہ ہیں بلکہ حقیقی معنوں میں ہندوستانی بھی نہیں ہیں: ایم وینکیا نائیڈو
ایمرجنسی کے حالات کو تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو جمہوریت کے سیاہ ترین دنوں اور آزادی و حریت کی اہمیت کا احساس کرایا جاسکے، جناب وینکیا نائیڈو نے جمہوریت کی نسبندی اور آئین کو تباہ کرنے والے تینتیس غلط کاموں کی یاددہانی کرائی، ایمرجنسی کے دنوں میں صحافیوں کے خلاف مظالم اور تادیبی کارروائیوں کی یاددہانی، اہالیان وطن کو ہم وطنوں کی آزادیوں کے سرپرست کی حیثیت سے کام کرنے کی اپیل
प्रविष्टि तिथि:
25 JUN 2018 6:58PM by PIB Delhi
نئی دہلی، 26/جون۔ نائب صدر جمہوریہ ہند جناب ایم وینکیا نائیڈو نے ایمرجنسی کی تینتالیسویں برسی کے موقع پر زور دے کر کہا ہے کہ رواداری کے جذبے سے عاری شہری نہ صرف یہ کہ اپنے ہم وطنوں کی آزادی کے لئے سنگین خطرہ ہیں، بلکہ صحیح معنوں میں ہندوستانی بھی نہیں ہیں۔ ہم میں سے کسی بھی ہندوستانی کو ہندوستان کی بنیادی قدروں اور اخلاقیات کو پامال کرنے کا حق نہیں ہے۔ نائب صدر جمہوریہ موصوف نے اس موقع پرپرساد بھارتی کے چیئرمین جناب اے سوریہ پرکاش کی تصنیف ، ’’ایمرجنسی: ہندوستانی جمہوریت کا سیاہ ترین دور، ایمرجنسی کے اسباب اور اس کے مضر اثرات‘‘ کا اجرا کرنے کے بعد جناب وینکیا نائیڈو نے تفصیل کے ساتھ ایمرجنسی کے اسباب اور اس کے مضر اثرات پر اظہار خیال کیا۔ یہ کتاب ہندی- کنڑ- تیلگو اور گجراتی زبانوں میں شائع کی گئی ہے۔
جناب وینکیا نائیڈو نے کہا کہ کسی بھی معقول سرکار کو ایمرجنسی کے نفاذ کی ہمت نہیں کرنی چاہئے اور 1977 کے عوامی انتخابات کے نتائج کے بعد ایمرجنسی کے نفاذ نے پورے ملک کو سکتے میں مبتلا کردیا تھا۔ جناب نائیڈو نے مزید کہا کہ آج جمہوریت کو کچھ گمراہ شہریوں سے سنگین خطرہ لاحق ہے، لیکن مجھے یقین ہے کہ کوئی بھی معقول سرکار 25جون 1975 کے ایمرجنسی کے حالات کا اعادہ کرنے کی ہمت نہیں کرسکے گی۔ ان دنوں کے حالات شاہد ہیں کہ ایمرجنسی کا نفاذ دراصل جمہوریت کے تئیں عدم برداشت کا نتیجہ تھا، جس سے آئین ہند میں دی گئی انفرادی آزادی کی مکمل نفی کی گئی تھی، لیکن آج ہمیں رواداری کے جذبے سے عاری بعض گمراہ شہریوں سے محتاط اور خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ ہم وقتاً فوقتاً گئو رکشا، لوجہاد، غذائی اشیاء اور فلم بینی وغیرہ کے نام پر ایسی بعض جارح کارروائیوں کا مشاہدہ کرتے رہے ہیں۔
جناب وینکیا نائیڈو نے اپنی تقریر میں زور دے کر کہا کہ ایمرجنسی کی تینتالیسویں برسی کے موقع پر میں یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اپنے ہم وطنوں کی آزادی کو سلب کرنے والے جارح لوگوں کو ہندوستانی کہلانے کا حق نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ آج وہ وقت آگیا ہے کہ ایمرجنسی کے حالات و واقعات کو ہمارے تعلیمی نصاب میں بھی شامل کیا جائے، تاکہ ہماری نئی نسل 1975-77 کے بدنصیب اور ناخوشگوار واقعات سے واقف ہوسکے۔ اسے حساس بنایا جاسکے اور وہ اس جمہوری آزادی کا احترام کرنا سیکھ سکیں جو آج انھیں دستیاب ہے۔
جناب وینکیا نائیڈو نے اس موقع پر ایمرجنسی کے 17 مہینوں کے دوران اپنی گرفتاری کا ذکر کرتے ہوئے اس دور کے ان تمام ناخوشگوار اور اذیت رساں حالات و واقعات کا ذکر کیا، جن نے عوامی جمہوریت کو غیرمؤثر بنادیا تھا۔ آئین کو تباہ کردیا تھا اور شہریوں کو ان کی زندگی اور ان کی آزادی کے حق سے محروم کردیا تھا۔
اس موقع پر جناب نائیڈو نے اپنی تقریر میں ایمرجنسی کے دوران میڈیا کے استحصال اور اس پر جبر کئے جانے کے واقعات کا بھی ذکر کیا، جن میں پولیس افسران کے ذریعے اخبارات کے مدیروں کی ذمے داری نبھائے جانے، اخبارات کی اشاعت کو روکنے کے لئے، بجلی کی فراہمی بند کردینے، صحافیوں اور ان کے اہل خانہ کو گرفتار کرکے ان پر ظلم کرنے اور پریس کونسل کو بند کئے جانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
جناب وینکیا نائیڈو نے اپنی تقریر کے آخر میں اہالیان وطن کی آزادی کا سرپرست بننے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ایمرجنسی کے دوران اس دور کے ہیرو اور ویلین کے کارنامے دیکھے ہیں۔ اس موقع پر جناب ایم وینکیا نائیڈو نے انھوں نے جسٹس ایچ آر کھنہ کو شہریوں کے بنیادی اختیارات کی حفاظت کرنے والا ایک عظیم عوامی قائد قرار دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
UN-3292
(रिलीज़ आईडी: 1536587)
आगंतुक पटल : 77
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें:
English