وزیراعظم کا دفتر
مغربی بنگال میں شانتی نکیتن میں بنگلہ دیش بھون کے افتتاح کے موقع پر وزیراعظم کے خطاب کا ابتدائی متن
प्रविष्टि तिथि:
25 MAY 2018 6:57PM by PIB Delhi
نئی دہلی،25/مئی۔
دوست ملک بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ جی، مہمانان کرام، وزیر اعلیٰ جی، گورنر صاحب، ساتھیوں۔
’بنگلہ دیش بھون‘ بھارت اور بنگلہ دیش کے ثقافتی بھائی چارے کی علامت ہے۔ یہ عمارت دونوں ممالک کے کروڑوں لوگوں کے درمیان آرٹ، زبان، ثقافت، تعلیم، خاندانی رشتوں اور مظالم کے خلاف مشترکہ جدوجہد سے مضبوط ہوئے رشتوں کی بھی علامت ہے۔ اس عمارت کی تعمیر کے لئے میں نے شیخ حسینہ جی اور بنگلہ دیش کے عوام کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔
گرودیو ٹیگور، جو بھارت اور بنگلہ دیش دونوں ملکوں کے قومی ترانہ کے خالق ہیں، ان کے میدان عمل پر، رمضان کے مبارک مہینے میں، اس عمارت کا افتتاح بہت خوشی کا موقع ہے۔
ساتھیو، اس یونیورسٹی اور اس مقدس سرزمین کی تاریخ بنگلہ دیش کی آزادی، بھارت کی آزادی، اور نوآبادیاتی عہد میں بنگال کی تقسیم سے بھی قدیم ہے۔ یہ ہماری اس مشترکہ ورثے کی علامت ہے جسے نہ تو انگریز تقسیم کرپائے اور نہ ہی تقسیم کی سیاست۔ اس مشترکہ وراثت کے گنگا ساگر کی ان گنت لہریں دونوں ممالک کے ساحلوں کو یکساں طور پر چھوتی ہیں۔ ہماری مماثلت ہمارے رشتوں کے مضبوط فارمولے ہیں۔
بنگ بندھو شیخ مجیب الرحمان کو جتنا احترام بنگلہ دیش میں ملتا ہے اتنا ہی ہندوستان کی سرزمین پر بھی ملتا ہے۔ سوامی وویکانند، نیتاجی سبھاش چندر بوس اور مہاتما گاندھی کے لئے جو احساسات بھارت میں ہے، ٹھیک ویسے ہی بنگلہ دیش میں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔
عالمی شاعر ٹیگور کی نظمیں اور نغمے بنگلہ دیش کے گاؤں گاؤں میں گونجتے ہیں تو قاضی نذر الاسلام جی کی تخلیقات یہاں مغربی بنگال کے گلی کوچوں میں بھی سننے کو ملتی ہیں۔
بنگلہ دیش کی کئی معزز ہستیوں کے نام اس یونیورسٹی سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان میں رضوانہ چودھری بنّيا، ادیتی محسن، للی اسلام، لینا تپوشی، شرمیلا بنرجی اور نثار حسین جیسی شخصیات شامل ہیں۔
گرودیو روندر ناتھ ٹیگور کی دوراندیشی کا نتیجہ یہ ادارہ ہماری سیاسی حدود اور رشتوں سے بالاتر ہے۔ گرودیو بذات خود ایک آزاد خیال شخص تھے، جنہیں کسی سرحد کے بندھنوں نے نہیں باندھا۔ وہ جتنے بھارت کے ہیں، اتنے ہی بنگلہ دیش کے بھی ہیں۔ گگن ہرکارہ اور لالن فقیر کے بنگالی لوک گیت سنگت سے ان کا تعارف بنگلہ دیش کی سرزمین پر ہی ہوا تھا۔
اَمار شونار بنگلہ کی دھن کے لئے انھیں گگن ہرکارہ سے ترغیب ملی تھی۔ بول سنگیت کا اثر رویندر سنگیت میں صاف سنائی دیتا ہے۔
خود بنگ بندھو بھی گرودیو کے افکار اور ان کے فن کے بہت بڑے پرستار تھے۔ یہ ٹیگور Universal Humanism کا ہی خیال تھا جس نے بنگ بندھو شیخ مجیب الرحمان کو متاثر کیا تھا۔ گرودیو کا ’شونار بانگلہ‘ بنگ بندھو کے سحر انگیز تقاریر کا ایک اہم حصہ تھا۔ ٹیگور کے Universal Humanism کا تصور ہمارے لئے بھی حوصلہ افزا ہے۔ ہم نے اپنے الفاظ میں اسے ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کے اصول میں ظاہر کیا ہے۔
ساتھیو، آنے والی نسلیں، وہ چاہے بنگلہ دیش کی ہوں یا پھر بھارت کی، وہ ان خوش حال روایات، ان عظیم روحوں کے بارے میں جانیں اور سمجھیں، اس کے لئے ہم سب کو کوششیں جاری رکھنی ہوں گی۔ ہماری حکومت کے سبھی متعلقہ اعضاء، جیسے ہندوستان کا ہائی کمیشن اور دیگر ادارے اور شخصیات اور ثقافتی تعلقات کی بھارتی کونسل اس کام میں مصروف ہیں۔
آج جیسے یہاں پر ’بنگلہ دیش بھون‘ کا افتتاح کیا گیا ہے، ویسے ہی بنگلہ دیش کے كشتيا ضلع میں گرودیو ٹیگور کی رہائش گاہ ’’كوٹھي باڑی‘‘کے renovation کا ذمہ ہم نے اٹھایا ہے۔
ساتھیو، اس مشترکہ وراثت اور رابندر سنگیت کی مٹھاس نے ہمارے رشتوں کو امرت سے سینچا ہے اور ہمیں دکھ سکھ کے ایک دھاگے میں پرویا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش کی آزادی کے لئے جدوجہد بھلے ہی سرحد کے اس پار ہوئی ہو، لیکن ترغیب کے بیج اسی زمین پر پڑے ہیں۔ ظالم اقتدار نے اپنے مفاد کے لئے زخم بھلے ہی بنگلہ دیش کے لوگوں کو دیے ہوں، لیکن درد اس طرف محسوس کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بنگ بندھو نے آزادی کا بگل بجایا تو کروڑوں ہندوستانیوں کے احساسات بھی اس مہم کے ساتھ خودبخود وابستہ ہوگئے۔ تشدد اور دہشت کے خلاف ہمارے مشترکہ عزم اور اس کی تاریخ اس عمارت کے ذریعے آنے والی نسلوں کو ترغیب دیتی رہے گی۔
ساتھیو، مجھے یاد ہے کہ گزشتہ برس اس وقت کتنا پرجوش ماحول بن گیا تھا جب دہلی میں بھارتی فوجیوں کو بنگلہ دیش نے نوازا تھا۔ یہ ان 1661 ہندوستانی فوجیوں کا احترام ہی نہیں تھا جنہوں نے بنگلہ دیش کی آزادی کے لئے قربانی دی تھی، بلکہ یہ ان کروڑوں جذبات کا بھی احترام تھا جو اس پورے جدوجہد میں بنگلہ دیش کے ایک ایک نجات دہندہ کے ساتھ جڑی ہوئی تھی۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے جب پڑوسی ملک ایک دوسرے کے فوجیوں کو اس طرح کا احترام دیتے ہیں۔
ساتھیو، گزشتہ کچھ برسوں سے بھارت اور بنگلہ دیش کے رشتوں کا شونالی (سنہرا) باب رقم کیا جارہا ہے۔ Land boundary اور سمندری حدود جیسے پیچیدہ دو فریقی موضوعات، جنہیں سلجھانا کسی وقت تقریباً ناممکن سمجھا جاتا تھا، وہ اب حل ہوچکے ہیں۔ چاہے سڑک ہو، ریل ہو یا اندرون ملک آبی گزرگاہیں ہوں یا پھر coastal shipping، ہم connectivity کے شعبے میں بھی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ 1965 سے بند پڑی connectivity کی راہیں ایک بار پھر کھولی جارہی ہیں اور connectivity کی نئی جہات بھی روشن کی جارہی ہیں۔
گزشتہ سال ہی کولکاتہ سے کھلنا کے درمیان air conditioned train service شروع کی گئی۔ اس کو ہم نے بندھن کا نام دیا ہے، یعنی دوستی۔ اور بندھن کے راستے پر ہم اپنے رشتوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
بھارت سے بنگلہ دیش کو بجلی کی فراہمی مسلسل ہورہی ہے۔ ابھی یہ 600 میگاواٹ ہے۔ اس سال اس کو بڑھاکر 1100 میگاواٹ کرنے کا ہدف ہے۔
بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں انٹرنیٹ کا ایک کنکشن بنگلہ دیش سے بھی آرہا ہے۔ بنگلہ دیش کی ترقی کے لئے جو ترجیحات وزیراعظم شیخ حسینہ جی نے طے کی ہیں، ان میں تعاون کے لئے بھارت نے 8 بلین ڈالر کی lines of credit کا التزام کیا ہے۔ ان کے نفاذ میں اچھی پیش رفت جاری ہے، پروجیکٹس کی نشان دہی ہوچکی ہے اور کچھ کے لئے تو کریڈٹ بھی دے دیا گیا ہے۔
بنگلہ دیش Space Technology میں بھی آگے بڑھ رہا ہے۔ حال میں ہی بنگلہ دیش نے اپنا پہلا سیٹلائٹ، بنگ بندھو لانچ کیا ہے۔ اس کے لئے بھی وزیراعظم جی اور بنگلہ دیش کے عوام کو بہت بہت مبارکباد۔ آج بھارت میں ہم اسپیس ٹیکنالوجی کا استعمال غریب کے معیار زندگی کو بلند کرنے اور نظام میں Transparency لانے کے لئے کررہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی ہم دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے در کھلیں گے۔
مجھے خوشی ہے کہ وزیر اعظم شیخ حسینہ جی اور ہمارے درمیان مسلسل رابطے سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو اور توانائی مل رہی ہے۔ وہ گزشتہ سال بھی بھارت آئی تھیں اور اس پروگرام میں بھی ان کی خود کی موجودگی، اس پروگرام کے وقار میں اضافہ کررہی ہے۔
ساتھیو، ہماری آرزوئیں اور تمنائیں جتنی ملتی جلتی ہیں اتنی ہی ہمارے چیلنجز بھی ہیں۔ آب و ہوا کی تبدیلی کا بحران ہمارے سامنے ہے۔ لیکن اگر دہکتا ہوا سورج ہمارے لئے چیلنج لانے والا ہے، وہیں مواقع بھی اسی کی روشنی سے پیدا ہوتے ہیں۔ وزیر اعظم شیخ حسینہ جی نے 2021 تک بنگلہ دیش کے لئے Power To All یعنی سب کے لئے بجلی کا ویژن رکھا ہے۔ اور یہاں بھارت میں ہم نے آئندہ سال تک ملک کے ہر گھر تک بجلی کا کنکشن پہنچانے کا ہدف رکھا ہے۔ ہم ملک کے ہر گاؤں تک بجلی پہنچانے کا ہدف پہلے ہی مکمل کرچکے ہیں۔ ہمارے عزائم یکساں ہیں اور انہیں حاصل کرنے کی راہ بھی ایک سی ہے۔
ساتھیو، بھارت نے International Solar Alliance یعنی بین الاقوامی شمسی معاہدہ کا Initiative لیا ہے۔ دنیا کے کئی ملک اس Alliance کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ Alliance دنیا بھر میں solar power کی capacity کو explore کرے گا اور الگ الگ ملکوں کو funding کا ایک mechanism بھی دستیاب کرائے گا۔ مجھے خوشی ہے کہ بنگلہ دیش بھی Solar Alliance کا حصہ ہے۔ اس سال مارچ میں دہلی میں International Solar Alliance کا summit ہوا۔ ہمیں بہت خوشی ہوئی کہ بنگلہ دیش کے صدر اس summit میں شامل ہوئے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ سرحد کے دونوں طرف چیلنجوں کو مواقع میں تبدیل کرنے کے لئے تعاون کی خواہش کتنی مضبوط ہے۔
گزشتہ ماہ، میں نے بنگلہ دیش کے 100 نوجوان پر مشتمل ایک وفد سے ملاقات کی تھی ۔ میں نے محسوس کیا کہ ان کی آرزوئیں، ان کے خواب، بھارت کے نوجوانوں کی آرزوؤں اور خواب جیسے ہی ہیں۔ اور دونوں ممالک کی ترقی کے لئے، ہمارے نوجوانوں کے خوابوں کو حقیقت کی شکل دینے کے لئے، ہم ساتھ مل کر کام کرنے کے تئیں پابند عہد ہیں۔
آج جب وزیر اعظم شیخ حسینہ کی قیادت میں بنگلہ دیش ترقی کی نئی راہوں پر چل پڑا ہے۔ آج جب بنگلہ دیش نے developing economy کی سطح حاصل کرنے کے تمام معیارات پورے کرلئے ہیں تو جتنا فخر بنگلہ دیش کو ہے، اتنا ہی فخر سارے بھارت کو بھی ہے۔ بنگلہ دیش نے اپنے سوشل سیکٹر میں جس طرح کی پیش رفت کی ہے، غریبوں کی زندگی آسان بنانے کا کام کیا ہے، میں مانتا ہوں وہ ہم بھارت کے لوگوں کے لئے بھی باعث ترغیب ہوسکتا ہے۔ ایسا حیرت انگیز کام کیا ہے۔
ساتھیو، آج بھارت اور بنگلہ دیش کی ترقی کے سفر کے اصول، ایک خوبصورت ہار کی طرح ایک دوسرے سے گوندھ رہے ہیں۔ دنیا کے کچھ حصوں میں جس طرح بے یقینی کا ماحول بنا ہے، دنیا میں حالات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں، لیکن گزشتہ چند سالوں میں ایک مرکزی سچائی ہمارے سامنے آئی ہے، اور وہ ہے، ترقی اور خوشحالی کے لئے، امن اور استحکام کے لئے، خوشی اور ہم آہنگی کے لئے، بھارت اور بنگلہ دیش کی دوستی اور ہمارا باہمی تعاون۔ اس تعاون میں پیش رفت محض دو فریقی سطح پر ہی نہیں ہوئی ہے۔ Bimstec جیسے پلیٹ فارم کے ذریعے ہمارے تعاون نے علاقائی ترقی اور کنیکٹوٹی کو بھی فروغ دیا ہے۔
دوستو، اس علاقے کی ترقی میں ہر ملک کی ترقی مضمر ہے۔ وقت کے اس عرصے میں یہ ہم سبھی کے لئے ایک موقع کی طرح آیا ہے۔ آج بھارت اور بنگلہ دیش، جس دوستی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، ایک دوسرے کی ترقی میں تعاون کر رہے ہیں، وہ دوسروں کے لئے بھی ایک سبق ہے، ایک مثال ہے، مطالعہ کا بھی ایک موضوع ہے۔
ساتھیو، وزیر اعظم شیخ حسینہ جی نے بنگلہ دیش کو 2041 تک ترقی یافتہ ملک بنانے کا جو ہدف رکھا ہے وہ ان کی دور اندیشی اور بنگ بندھو، اس روایت کی علامت ہے، جو کہ ہر بنگلہ دیشی کے مفاد کی مسلسل فکر کرتی ہے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے میں بھارت کا مکمل تعاون رہے گا۔
شیخ حسینہ جی کے یہاں آنے پر، میں ایک بار پھر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ سبھی کو بنگلہ دیش بھون کے افتتاح کے لئے ایک بار پھر بہت بہت مبارکباد۔ شکریہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
U-2798
(रिलीज़ आईडी: 1533652)
आगंतुक पटल : 194