وزارتِ تعلیم

نیٹ امتحانات   کے   شفاف انعقاد    کے لئے امیداوارں کو فائدہ پہنچانے  کےسی بی ایس سی   کےبڑے  پراقدامات 

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 MAY 2018 9:06PM by PIB Delhi

نئی دہلی ، 10مئی :سپریم کورٹ آف انڈیانے  1987 میں ازخود یہ فیصلہ کیاتھا کہ 15فیصد آل انڈیا کوٹہ والی نشستوں کے لئے طبی داخلہ امتحانات  منعقد کرانے کا فریضہ سی بی ایس ای کو سونپاجائے ۔ تب سے ہی سی بی ایس ای 15فیصد آل انڈیا کوٹہ نشستوں کے لئے طبی امتحانات کا انعقاد کراتاآیاہے ۔ اور بعدازاں عدالت عالیہ کی ہدایت کے مطابق نیز آل انڈیا طبی کونسل ایکٹ 1956اور ڈینٹسٹ ایکٹ 1948جس میں 2017میں ترمیم کی گئی ہے ، سی بی ایس ای ، ایم بی بی ایس /بی ڈی ایس کے 100فیصد نشستوں کے لئے اب ملک میں قومی سطح پر استحقاق اور داخلہ امتحان کا انعقاد کراتاہے ۔ اس امتحان کے توسط سے حکومت ہند نے ایم بی بی ایس اوربی ڈی ایس کے داخلے میں درآئی بدعنوانیوں کو ختم کرنے کے لئے قدم اٹھایاہے ۔ گذشتہ پانچ برسوں کے دوران ان داخلہ امتحانات کے لئے امیدواران کی تعداد میں جس قدراضافہ ہواہے اس کا گوشوارہ درج ذیل ہے ::

امتحان

امیدواروں کی تعداد

اے آئی ایم پی ٹی  - 2015

6,32,625

نیٹ  2016 (مرحلہ – I)

6,67,637

نیٹ  2016 (مرحلہ  – II)

4,38,867

نیٹ – 2017

11,38,888

نیٹ  - 2018

13,26,725

 

ان امتحانات کا انعقاد سی بی ایس ای کے ذریعہ ازحد کنٹرول والے حساس ماحول میں کرایاجاتا ہے تاکہ اس امرکو یقینی بنایاجاسکے کہ امتحانات کے فوائد صرف حقیقی اور ہرلحاظ سے اہل  امیدواران تک ہی پہنچ سکیں ۔ لہذابورڈ اپنے مراکز کا انتخاب بہت احتیاط سے کرتاہے اورامیدواروں کے لئے سخت قواعد وضوابط اوراصول مرتب کرتاہے ۔

  عدالت عالیہ کی جانب سے اے آئی پی ایم ٹی ، سی بی ایس ای داخلہ امتحانات  کو ایمانداری کے ساتھ منعقد کرانے کی ہدایت کو عملی شکل دینے کے لئے سی بی ایس ای میں ملبوسات سے متعلق ضابطہ بھی مقررکیا گیاہے اور الیکٹرانک سازوسامان ، مواصلاتی آلات اور ایسی دیگر تمام اشیأ کو امتحانات مراکز پرلانے پرپابندی عا ئدکردی گئی  ہے ۔

سپریم کورٹ آف انڈیا نے سی بی ایس ای رہنما خطوط کے مطابق ایک مفاد عامہ کی عرضداشت پر فیصلہ دیاتھا اور ڈریس کوڈ سی بی ایس ای کے رہنماخطوط کے مطابق ہی طے کئے تھے ۔

اس امرکی کوششیں کی جاتی ہیں کہ امیدواران کوامتحان دینے کا بہترین ماحول فراہم کرایاجائے لہذا نہ صرف شہر بلکہ امتحان  مراکز کو ان کے گھرکے نزدیک ہی امتحان دینے کی سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اس سلسلے میں کچھ اہم اقدامات کاگوشوارہ درج ذیل ہے ۔

برس

شہروں کی تعداد

مراکزکی تعداد

2015

53

971

2016 (مرحلہ – I)

52

1040

2016 (مرحلہ- II)

56

739

2017

103

1921

2018

136

2255

سے فیصد اضافہ 2015

156%

132%


2018میں سی بی ایس ای نے نیٹ ( یوجی) کے کامیاب انعقاد کے لئے درج ذیل اقدامات کئے ہیں ۔

*تمام امیدواران کو سی بی ایس ای کی جانب سے پین فراہم کرائے گئے۔

*امتحانات کی نگرانی کے لئے مراکز پر ملک بھرمیں 4000سے زائد مشاہدین مقررکئے گئے ۔

*امتحانات پر مقامی سطح پرقابورکھنے کے لئے تمام تر136شہروں میں تقریباً700بورڈ افسران تعینات کئے گئے ۔

*یہاں اس بات کا ذکرنامناسب نہ ہوگا کہ دسویں اوربارہوں درجے کے امتحانات کی کاپیوں کو جانچنے کا عمل سست کردیاگیا کیونکہ سی بی ایس ای کے تمام افسران اورکارکنان نیٹ ( یوجی) امتحانات کے انعقاد میں لگادیے گئے تھے ۔

*اس امتحان کے لئے 2255مراکز پر تقریباً56ہزارکمروں کا انتظام کیاگیاتھا ۔

*تقریبا 2لاکھ افراد اسکولوں کی جانب سے نیٹ ( یوجی) کے انعقاد کے لئے لگائے گئے تھے ۔

*امتحانات والے شہروں میں شہرکے اندرامتحانات کے مراکز کے ساتھ تال میل بنانے کے لئے 153سٹی کوارڈینیٹرمقررکئے گئے تھے ۔

*ریاستی پولیس کی مدد سے امتحان کے مراکز پرتقریبا15ہزارپولیس اہلکار تعینات کئے گئے تھے ۔

*امیدواران  کوقواعد وضوابط کی جانکاری دی گئی جن کا تعلق روزانہ کے امتحانات سے تھا ، اس کے لئے انفرادی طورپر امیدواران کو ایس ایم ایس بھیجے گئے ۔ اسی کے مطابق تقریبا1.33کروڑایس ایم ایس امیدواران کوبھیجے گئے ۔ اس کے علاوہ والدین کو بھی مختلف ذرائع کے استعمال سے اس امرکے تئیں خبردارکیاگیاکہ ان کے زیرسرپرستی امیدوار سی بی ایس ای کے تمام قواعدوضوابط اور ہدایات کی پابند کریں ۔

*مختلف موضوعات پرمراکز کو ایک لاکھ ایس ایم ایس اور30ہزار میل روانہ کی گئی تاکہ مراکز کامیابی کے ساتھ امتحانات کا انعقاد کراسکیں ۔

*امیدواران کو آخری مرحلے کی تیاریوں کے تئیں خبردارکرنے کی غرض سے نیز انھیں اپنے طورپر کیا  کرنا ہے، یہ بتانے کی غرض سے ایک ریڈیوپروگرام بھی منعقد کیا  گیاتاکہ تمام امیدواران مراکز پر وقت سے پہلے شامل  امتحان ہونے کے لئے پہنچ سکیں ۔

*ویب ریڈیوکے توسط سے 2255مراکز کے لئے صلاحیت سازی کا پروگرام بھی منعقد کیاگیا انھیں مراکز پرکی جانے والی تیاریوں سے باخبرکیاگیا۔

*تقریباً12ہزارمیٹل ڈی ٹیکٹر امیدواران کی تلاشی لینے کے لئے لگائے گئے ۔ مراکز پرملک بھرمیں مواصلات کو جام کرنے والے آلات لگادیئے گئے تھے تاکہ اس امرکو یقینی بنایاجاسکےکہ مواصلاتی آلات کا استعمال عملی طورپر ممکن نہ ہوسکے ۔

          پوراامتحان 37سوویڈیوگرافروں کے ذریعہ ویڈیوگراف کیاگیا۔ْ

            نیٹ ( یوجی ) وہ واحد پیشہ ورانہ امتحان ہے جس میں فزیکس ، کیمسٹری اوربایولوجی کے سوال نامے ہندی اور انگریزی کے علاوہ 9علاقائی زبانوں میں بھی فراہم کرائے جاتے ہیں ۔ 2018میں زبانوں کے لحاظ سے امیدواران کی تعداد اور تفصیلات کا گوشوارہ درج ذیل ہے :

زبانیں

امیدواران کی تعداد

ہندی

146542

انگریزی

1060923

گجراتی

57299

مراٹھی

1169

اڑیہ

279

بنگالی

27437

آسامی

3,848

تیلگو

1979

تمل

24720

کنڑ

818

اردو

1711

میزان

13,26,725



اس امرکو یقینی بنانے کے لئے کہ امیدواران کو ان کے گھرکے نزدیک ہی امتحان دینے کا موقع فراہم کرایاجائے ، نہ صرف یہ کہ سی بی ایس ای کے ساتھ ملحق اسکولوں کومرکز بنایاگیاتھا بلکہ دیگراداروں کے ساتھ بھی مرکز بنانے کے لئے رابطہ قائم کیاگیاتھا اس سلسلے میں تفصیلات کا گوشوارہ درج ذیل ہے:

سی بی ایس ای سے ملحقہ ادارے

1605

کیندریہ ودیالیہ

234

جواہرنوودیہ ودیالیہ

01

انجینئرنگ کالج

75

آئی سی ایس سی

02

اعلیٰ تعلیمی کالج

150

فارمیسی کالج

02

ریاستی بورڈ

186

میزان

2255

 

ایک ایسے کیس کے بارے میں جوخبریں آئی تھیں کہ تمل ناڈوکے بچے نے دعویٰ کیاتھا کہ اسے امتحان کے لئے سی بی ایس ای نے اودے پورجانے کے لئے مجبورکیاتھا ، یہ خبربے بنیاد تھی ، کیونکہ اس کے آن لائن ریکارڈ اور درخواست کی تفصیلات سے ظاہرہوتاہے کہ بچے نے ازخود امتحان کے مرکز کے طورپر اودے پورکا انتخاب بطورمتبادل کیاتھا ۔ اسی طرح تمل ناڈوکے امیدواروں کو تمل زبان میں سوال نامہ حل کرنے کا موقع نہ فراہم کرنے کی خبربھی بے بنیاد تھی ۔ دراصل تمام امیدواران جنھوں نے تمل زبان کو بطورمیڈیم منتخب کیاتھا ، انھیں تمل ناڈوکے اندر ہی سینٹرفراہم کرائے گئے تھے اور تمل زبان میں ہی سوال نامے دیئے گئے تھے ۔

          بھارت میں 2255مراکز میں سے صر ف 4مراکز ایسے تھے ، جہاں امتحانات کے انعقاد کے دوران یہ بات مشاہدہ میں آئی کہ سوال ناموں کا میڈیم صحیح نہیں تھا ، سی بی ایس ای نے فوری طورپر امیدواران کو ان کی پسند کی زبانوں میں سوال نامے فراہم کرائے ۔ سی بی ایس ای اس طرح کے اعلیٰ قدروقیمت والے امتحانات کو بڑی کامیابی کے ساتھ طلبااوروالدین کے تعاون سے منعقد کراتاآیاہے ۔میڈیانے بھی بورڈ کے اقدامات کی ستائش اورحمایت کی ہے تاکہ امیدواران کے ذریعہ امتحانات میں کامیاب ہونے کے لئے ناجائز ذرائع نہ استعمال کئے جاسکیں ۔

          سی بی ایس ای اس امرکے لئے کوشاں رہیگی کہ ہرسال ان امتحانات کے انعقاد کے پورے طریقے کو مستحکم ترین بنایاجاسکے اور جہاں تک ممکن ہوسکے طلبأ کے لئے امتحان دینے کی بہترسے بہترسہولتیں فراہم کی جاسکیں اوراس کے ساتھ ہی ساتھ پوری ایمانداری ، شفافیت ، اصلیت اور نیٹ امتحانات کی پاکیزگی برقراررہ سکے ۔                  
 

*************

U-2508


(ریلیز آئی ڈی: 1531776) وزیٹر کاؤنٹر : 133
یہ ریلیز پڑھیں: English , Tamil