آبی وسائل، دریائی ترقیات اور گنگا احیاء کی وزارت
ملک کے 91 بڑے آبی ذخائر کی سطح آب میں کمی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 APR 2018 10:56AM by PIB Delhi
نئی دہلی 13 اپریل ۔12 اپریل 2018 کو ختم ہونے والے ہفتہ میں ملک کے بڑے آبی ذخائر میں 40.857 بی سی ایم پانی موجود تھا ، جو ان آبی ذخائر میں پانی جمع کرنے کی کل گنجائش کے 25 فیصد کے بقد ر تھا، جبکہ 5 اپریل 2018 کو ختم ہونے والے ہفتے میں ان آبی ذخائر میں جمع پانی کی مقدار ان کی مجموعی گنجائش کے 27 فیصد کے بقدر تھی ۔ 12 اپریل 2018 کو ختم ہونے والے ہفتے میں ان آبی ذخائر میں جمع پانی کی مقدار پچھلے سال کی اسی مدت کے 84فیصد اور گزشتہ دس برسوں کی اسی مدت کے اوسط کے 90 فیصد کے بقدر تھی ۔
ملک کے ان 91 بڑے آبی ذخائر میں پانی جمع کرنے کی کل گنجائش 161.993 بی سی ایم ہے ،جو 257.812 بی سی ایم کی مجموعی گنجائش والے ان آبی ذخائر کی مجموعی گنجائش کے 63 فیصد کے بقدر ہے ۔ ان میں سے 37 آبی ذخائر میں 60 میگاواٹ سے زائد بجلی پیداکرنے کی صلاحیت ہے ۔
پانی کے ذخیرے کی خطہ وار صورتحال :
شمالی خطہ:
ملک کےشمالی خطے میں ہماچل پردیش ، پنجاب اور راجستھان کی ریاستیں شامل ہیں ۔ ان ریاستوں میں 6 بڑے آبی ذخائر واقع ہیں۔ سینٹرل واٹر کمیشن 18.01 بی سی ایم کی موجودہ پانی کی مقدار والے ان آبی ذخائر میں پانی کی صورتحال پر نظر رکھتا ہے۔سردست ان آبی ذخائر میں 3.62 بی سی ایم پانی موجود ہے جو ان میں پانی جمع کرنے کی کل گنجائش کے 20 فیصد کے بقدر ہے ۔ پچھلے سال کی اسی مدت میں ان آبی ذخائر میں جمع پانی کی مقدار ان کی مجموعی گنجائش کے 23 فیصد کے بقدر تھی اور پچھلے دس برس کی اسی مدت کے اوسط کے 27 فیصد کے بقدر تھی ۔ اس طرح ان آبی ذخائر میں جمع پانی کی مقدار پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے کم اور پچھلے دس برسوں کی اسی مدت کے اوسط کے مقابلے بھی کم ہے۔
مشرقی خطہ :
ملک کے مشرقی خطے میں جھارکھنڈ ،اوڈیشہ ، مغربی بنگال اورتری پورہ کی ریاستیں واقع ہیں ۔ ان ریاستوں میں 18.83 بی سی ایم پانی جمع کرنے کی گنجائش والے 15 بڑے آبی ذخائرواقع ہیں ۔ سینٹرل واٹر کمیشن ان آبی ذخائر میں جمع پانی کی صورتحال پر نظر رکھتا ہے ۔ سردست ان آبی ذخائر میں جمع پانی کی مقدار 7.83 بی سی ایم ہے ، جو ان آبی ذخائر میں پانی جمع کرنے کی کل گنجائش کے 42 فیصد کے بقدر ہے ۔ پچھلے سال کی اسی مدت کے دوران ان آبی ذخائر میں جمع پانی کی مقدار ان کی کل گنجائش کے 49 فیصد کے بقدر تھی ، جبکہ یہ مقدار پچھلے دس برس کے اسی مدت کے اوسط کے 36 فیصد کے بقدر رہی ۔ اس طرح جاری سال کے دوران ان آبی ذخائر میں جمع پانی کی مقدار پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے کم لیکن پچھلے دس برس کی اسی مدت کے اوسط کے مقابلے بہترہے ۔
مغربی خطہ :
ملک کے مغربی خطے میں گجرات اور مہاراشٹر ریاستیں شامل ہیں ۔ ان ریاستو ں میں 27 بڑے آبی ذخائر واقع ہیں ۔ سینٹرل واٹر کمیشن پانی جمع کرنے کی 31.26 بی سی ایم والے ان آبی ذخائر میں پانی کی صورتحال پر نظر رکھتا ہے ۔سردست ان آبی ذخائر میں جمع پانی کی مقدار 8.69 بی سی ایم ہے ،جو ان میں پانی جمع کرنے کی کل گنجائش کے 28 فیصد کے بقدر ہے ۔ پچھلے سال کی اسی مدت کے دوران ان آبی ذخائر میں جمع پانی کی مقدار ان کی اکل گنجائش کے 34 فیصد اور پچھلے دس برس کی اسی مدت کے اوسط کے 32 فیصد کے بقدر تھی ۔اس طرح جاری سال کے دوران ان آبی ذخائر میں جمع پانی کی مقدار پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے کم اور پچھلے دس برس کی اسی مدت کے مقابلے بھی کم ہے ۔
وسطی خطہ :
ملک کے وسطی خطے میں اترپردیش ،اتر ا کھنڈ ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑ ھ کی ریاستیں شامل ہیں۔ان ریاستوں میں 42.30 بی سی ایم کی کل گنجائش والے بارہ بڑے آبی ذخائر واقع ہیں ۔ سردست ان آبی ذخائر میں 12.31 بی سی ایم پانی موجود ہے ،جو ان آبی ذخائر میں پانی جمع کرنے کی کل گنجائش کے 29 فیصد کے بقدر ہے ، جو پچھلے سال کی اسی مدت کے 43 فیصد اور پچھلے دس برسوں کی اسی مدت کے 30 فیصد کے بقدر ہے ۔اس طرح جاری سال کے دوران ان آبی ذخائر میں جمع پانی کی مقدار پچھلے سال کی اسی مدت کے مقالے کم اور پچھلے دس برسوں کی اسی مدت کے مقابلے بھی کم ہے ۔
جنوبی خطہ :
ملک کے جنوبی خطے میں آندھرا پردیش ، تلنگانہ ، اے پی وٹی جی (دونوں ریاستو ں کے مشترکہ منصوبے ) ،کرناٹک ، کیرل اور تامل ناڈو کی ریاستیں واقع ہیں ۔ ان ریاستوں می 31 بڑے آبی ذخائر واقع ہیں ۔سینٹرل واٹر کمیشن 50.59 بی سی ایم کی مجموعی گنجائش والے ان آبی ذخائر میں جمع پانی کی صورتحال پر نظر رکھتا ہے ۔سردست ان آبی ذخائر میں 8.41 بی سی ایم پانی موجود ہے ، جو ان میں پانی جمع کرنے کی کل گنجائش کے 16 فیصد کے بقدر ہے ۔ پچھلے سال کی اسی مدت میں جمع پانی کی کل گنجائش کے 12فیصد کے بقدر تھا جبکہ پچھلے دس برس کی اسی مدت کے 22فیصد کے بقدر تھا ۔اس طر ح جاری سال کے دوران ان آبی ذخائر میں جمع پانی کی مقدار پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے زائد لیکن پچھلے دس برس کی اسی مدت کے اوسط کے مقابلے کم ہے ۔اس سال جن ریاستوں کے آبی ذخائر میں جمع پانی کی صورتحال بہتر رہی ، ان میں راجستھان ،مغربی بنگال ، تری پورہ ، مہاراشٹر ، اتراکھنڈ ، اے پی وٹی جی (دوریاستوں کے دو مشترکہ منصوبے ) ، آندھرا پردیش ، کرناٹک ، کیرل اور تامل ناڈو کی ریاستیں شامل ہیں ، جن ریاستوں کے آبی ذخائر میں جمع پانی کی مقدار پچھلے سال کے مقابلے اس سال کم رہی ، ان میں پنجاب ، جھارکھنڈ ،اوڈیشہ ، گجرات، اترپردیش ، مدھیہ پردیش ،چھتیس گڑھ اورتلنگانہ کی ریاستیں شامل ہیں ۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
س ش ۔رم
U-2078
(ریلیز آئی ڈی: 1528980)
وزیٹر کاؤنٹر : 86