وزارت سیاحت

غیر ملکی تعاؤن سے سیاحتی منازل/سرکٹوں کا فروغ ایک


مسلسل جاری رہنے والا عمل:وزیر سیاحت

प्रविष्टि तिथि: 27 MAR 2018 2:00PM by PIB Delhi

نئی دہلی،27 ؍مارچ؍سیاحت کے مرکزی وزیر مملکت  (آزادانہ چارج) جناب کے جے الفونس نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ ملک میں کچھ سیاحتی مقامات/سرکٹوں کافروغ مختلف بین الاقوامی ایجنسیوں/عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت غیر ملکی بینکوں کے تعاون سے کیا گیا ہے۔

سیاحتی بنیادی ڈھانچے اور دیگر متعلقہ سرگرمیوں کے فروغ کیلئے، جو غیر ملکی تعاون حاصل ہو اہے، اس کی تفصیل درج ذیل ہے:

  • اترپردیش اور بہار میں بدھسٹ سرکٹس(فیز-I)(1988-1998): حکومت ہند اور اوورسیز اکنامک کوآپریشن فنڈ ( او ای سی ایف) نے اترپردیش اور بہار میں  (فیز -1)بدھسٹ سرکٹوں کے فروغ کیلئے 1988 میں 9244 ملین جاپانی یین کا قرضہ جاتی معاہدہ کیا۔ اس پروجیکٹ میں جن بدھسٹ مراکز کا احاطہ کیا گیا، ان میں یو پی میں سارناتھ، پپرہوا، سراوستی اور بہار میں بودھ گیا، نالندہ، راجگیر اور ویشالی شامل ہیں۔ مذکورہ پروجیکٹ دسمبر 1988 میں مکمل ہو گیا تھا۔ اس پروجیکٹ پر مجموعی طور پرتقریباً  250.95کروڑ روپے خرچ ہوئے۔
  • اَجنتا-ایلورا کنزرویشن اینڈ ٹورزم ڈیولپمنٹ پروجیکٹ (فیز-I) (1992-2002)حکومت ہند اور جاپان بینک فار انٹر نیشنل کوآپریشن (جے بی آئی سی) نے اجنتا –ایلورا کنزرویشن اینڈ ٹورزم ڈیولپمنٹ پروجیکٹ (فیز-1)کے لئے 1992 میں 3745ملین جاپانی یین کا قرضہ جاتی معاہدہ کیا۔ اس پروجیکٹ کے تحت جن مقامات کو شامل کیا گیا، ان میں مہاراشٹر میں اجنتا اور ایلورا شامل ہیں۔ اس پروجیکٹ کی تکمیل 2002 میں ہوئی اور اس پر مار چ 2002 میں مجموعی طور پر جو رقم خرچ ہوئی، وہ 127.50کروڑ روپے  تھی۔
  • اَجنتا-ایلورا کنزرویشن اینڈ ٹورزم ڈیولپمنٹ پروجیکٹ (فیز-II)اے ای ڈی پی –IIکیلئے 31مارچ 2003 کو حکومت ہند (محکمۂ اقتصادی امور، وزارت خزانہ) اور جے آئی سی اے کے درمیان 7331ملین جاپانی یین (تقریباً 299 کروڑ روپے) کے قرضہ جاتی معاہدے پر دستخط کئےگئے ۔ یہ قرض 31جولائی 2003 (قرضہ جاتی معاہدہ نمبرآئی ڈی-پی 150)نافذالعمل ہوگا۔ اس پروجیکٹ کے تحت جن جگہوں کا احاطہ کیا گیا، ان میں مہاراشٹر میں اجنتا، ایلورا ، اورنگ آباد، دولت آباد، پٹنہ دیوی اور لونارشامل ہیں۔ اس پروجیکٹ کا کا م مکمل ہو چکا ہے اور قرضہ جاتی معاہدے کے جواز کی مدت 31 جولائی 2014 کو ختم ہو چکی ہے۔
  • 2003 میں وزارت سیاحت ، حکومت ہند، بہار اور اترپردیش حکومتوں کے محکمۂ سیاحت اور انٹرنیشنل فائننس کارپوریشن ( عالمی بینک گروپ)  کے درمیان 450لاکھ روپےکی ایک قرضہ جاتی معاہدے پر دستخط کئے گئے۔ اس کا مقصد ہندوستان میں بدھسٹ سرکٹوں کے قریب  سیاحوں کو دستیاب کرائی جانے والی خدمات اور اشیاء کےمعیار کو اپگریڈ کرنے کیلئے باہمی تعاون  تھا۔ یہ پروجیکٹ پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہےا ور بہار اور اترپردیش میں بدھسٹ سرکٹوں کے مربوط  سیاحتی  فروغ کیلئے حکمت عملی  ‘‘ انویسٹنگ اِ ن بدھسٹ سرکٹ’’ کی شروعات 17 جولائی 2014 کو کی گئی تھی۔
  • ساؤتھ ایشیاء ٹورزم انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ پروجیکٹ ( ایس اے ٹی آئی ڈی پی) –انڈیا:  ایس اے ٹی آئی ڈی پی –انڈیا کو ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے 20 ملین ڈالر کے قرض سے 16 نومبر 2009 کو منظوری دی گئی تھی۔ اس قرضہ جاتی معاہدے پر 4 اکتوبر 2010 کو دستخط کئے گئے اور اسے 25 جنوری 2011 کو نافذ کیاگیا۔ اس پروجیکٹ کی مرکز توجہ ریاست سکم تھی۔ اس پروجیکٹ کے اجزا میں شامل ہیں (i) کنکٹی ویٹی کا فروغ (ii)فطرت اور ثقافت پر مبنی سیاحتی مقامات کو بہتر بنانا اور (iii)کمیونٹی شراکت داری ، صلاحیت سازی اور پروجیکٹ مینجمنٹ ۔
  • انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ انویسٹمنٹ پروگرام فار ٹورزم ( آئی ڈی آئی پی ٹی) : آئی ڈی آئی پی ٹی کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک نے 4 اکتوبر 2010 کو ملٹی ٹرینچ فائننسنگ فیسی لیٹی (ایم ایف ایف )کے طور پر 250 ملین ڈالر کے قرض کو منظوری دی تھی۔ قرض کی  اس رقم میں سے  66.61ملین ڈالر ریاست ہماچل پردیش کیلئے ، 61.98 ملین ڈالر ریاست پنجاب کیلئے ،،، 55.79 ملین ڈالر ریاست تمل ناڈوکیلئے اور 61.62ملین ڈالر ریاست اتراکھنڈ کیلئے ہے۔ اس پروگرام کا مقصد مقامی برادریوں کیلئے سیاحتی بنیادی ڈھانچے کی ترقی، جسمیں قدرتی اور ثقافتی وراثتوں اور واقعاتی خدمات کے فروغ اور تعاون تحفظ پر زور دیا گیا ہے، کے توسط سے اقتصادی ترقی اور روزی روزگار کے مواقع کا فروغ ہے۔
  • اترپردیش پرو-پوور ٹورزم ڈیولپمنٹ پروجیکٹ: عالمی بینک نے 20 دسمبر 2017 کو اترپردیش پرو-پوور ٹورزم ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کیلئے 40 ملین امریکی ڈالر کے قرض کو منظوری دی ہے۔ اس کا مقصد ریاست اترپردیش میں مقامی برادریوں کیلئے  سیاحت سے متعلق فوائد میں اضافہ کرنا ہے۔ توقع ہے کہ اترپردیش میں آگرہ، متھرا،برندابن ، برسانااور برج خطے میں گووردھن جیسے اہم سیاحتی اور زیارتی مقامات کے قریب  دوررس سماجی ، اقتصادی اور ماحولیاتی فوائد ہوں گے۔
  • ملک میں غیر ملکی تعاون سے  مزید سیاحتی مقامات /سرکٹوں کا فروغ ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے۔

 

U- 1753


(रिलीज़ आईडी: 1526606) आगंतुक पटल : 76
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Tamil