وزارت دفاع

ڈی اے سی نے بھارتی صنعت کے ذریعے دفاعی ساز و سامان تیار کرنے کے عمل کو آسان بنایا؛ اس نے ایسالٹ رائفل اور کاربائن کی 3547 کروڑ روپئے مالیت کی خریداری کی منظوری دی

Posted On: 16 JAN 2018 6:26PM by PIB Delhi

نئی دہلی،17/جنوری۔ وزیر دفاع محترمہ نرملا سیتا رمن کی صدارت میں دفاعی ساز و سامان کی کونسل (ڈی اے سی) نے میٹنگ کی اور ‘میکII’ عمل کو آسان بنایا، جس کے تحت بھارتی صنعت کے ذریعے دفاعی ساز و سامان بنانے اور تیار کرنے میں اپنائے جانے والے رہنما خطوط بتائے گئے ہیں۔ ڈی اے سی نے 72400 ایسالٹ رائفلس اور 93895 کاربائن، تیزی سے خریدے جانے کی بھی منظوری دی۔ یہ خریداری 3547 کروڑ روپئے سے کی جائے گی، جس کا مقصد دفاعی افواج کو سرحدوں پر فوجیوں کی تعیناتی کے لئے ان کی فوری ضرورتوں کو پورا کئے جانے کا اہل بنانا ہے۔

دفاعی ساز و سامان کی تیاری میں نجی شعبے کی شراکت داری کی حوصلہ افزائی کے لئے اور میک اِن انڈیا پروگرام کو فروغ دینے کے لئے کونسل نے آج دفاعی ساز و سامان کی خریداری کے طریقہ کار کے ‘میکII’ زمرے میں اہم تبدیلیاں کیں۔ ‘میکII’ پروجیکٹ میں سرکاری رقوم کا استعمال نہیں ہے، اس بات پر غور کرتے ہوئے ڈی اے سی نے اسے صنعت دوست بنانے کے طریقے کو آسان بنایا ہے، جس پر حکومت کا کم سے کم کنٹرول ہو۔ نظرثانی شدہ عمل کے اہم نکات سے وزارت دفاع کو اس بات کی اجازت مل جائے گی کہ وہ ایسی تجاویز کو جو خود صنعت کی طرف سے بھیجی گئی ہیں، منظوری دے سکے، تاکہ بھارتی فوجوں کے لئے ساز و سامان تیار کیا جاسکے۔ ‘میکII’ پروجیکٹوں میں شمولیت کے لئے کم سے کم اہلیت کے طریقہ کار میں بھی نرمی کی گئی ہے، اس کے لئے کریڈٹ ریٹنگ سے متعلق شرائط ختم کردی گئی ہیں۔

پہلے کے ‘میکII’ طریقہ کار کے مطابق، ایک جیسا ساز و سامان تیار کرنے کے لئے محض  دو وینڈروں کو منتخب کیا جاتا تھا، لیکن اب ان سبھی وینڈروں کو، جو اہلیت کے نرم کئے گئے طریقہ کار پر پورا اترتے ہیں، ایک جیسے ساز و سامان کی تیاری کے عمل میں شرکت کرنے کی اجازت ہوگی۔ اب وینڈروں کو تفصیلی پروجیکٹ داخل نہیں کرنی ہوگی۔ کونسل کی طرف سے ‘میکII’ پروجیکٹ کو منظوری دیئے جانے کے بعد سبھی منظوریاں، سروس ایچ کیو (ایس ایچ کیو) کی سطح پر لی جائیں گی۔

ہینڈ ہولڈ صنعت اور اسٹارٹ اَپ، ایس ایچ کیو اب پروجیکٹ کو آسان بنانے والی ٹیمیں قائم کریں گے، تاکہ ڈیزائننگ اور تیاری کے مرحلے کے دوران  ایس ایچ کیو اور صنعت کے درمیان ابتدائی مرحلوں پر کام کیا جاسکے۔ یہ ٹیمیں وینڈروں کو ان کی ضرورت کے مطابق تکنیکی معلومات، تجرباتی بنیادی ڈھانچہ اور دیگر سہولیات فراہم کریں گی۔ اگر فرد واحد یا کوئی کمپنی کوئی اختراعی انداز کا حل پیش کرتی ہے تو ایس ایچ کیو کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ اسے قبول کرلے اور وینڈر کے ترقیاتی اقدام کے لئے ضروری کارروائی مکمل کرے۔ ایس ایچ کیو کو اجازت ہوگی کہ وہ صنعتوں کے مابین رسائی حاصل کرنے اور بیداری میں اضافہ کرنے کے لئے نجی شعبے کے ڈومین ماہرین ؍ مشیروں کی خدمات وقتی طور پر حاصل کرلے۔

سب سے اہم بات یہ کہ اگر کسی پروجیکٹ کو منظوری دے دی گئی تو اسے وقت سے پہلے بند نہیں کیا جائے گا جب تک کہ وینڈر کی طرف سے کوئی غلطی نہ ہو، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ کامیاب وینڈر نے اپنا کام مکمل کرلیا ہے۔

 

U-339



(Release ID: 1516914) Visitor Counter : 51


Read this release in: English