نئی دہلی، 18نومبر 2019/پیشہ ورانہ تربیت ایک مشترک موضوع ہے ۔ قومی سطح پر تربیتی اسکیموں فروغ ، پالیسی تیار کرنا ، ٹریننگ کے معیار ، ضابطوں کا تعین ، امتحانات کا انعقاد ، سرٹیفکیشن وغیرہ مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے جبکہ آئی ٹی آئی میں داخلہ سمیت روزمرہ کے انتظامی کاموں کی ذمہ داری متعلقہ ریاستی حکومتوں /مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی ہے۔ فی الحال کرافٹس مین ٹریننگ اسکیم کے تحت تربیتی کورسیز ملک بھر میں واقع آئی ٹی آئی کے نیٹ ورک کے ذریعہ چلائے جارہے ہیں جس میں مجموعی طو رپر 22.82 لاکھ زیرتربیت افراد این سی وی ٹی ایم آئی ایس پورٹل پر رجسٹرڈ ہیں (ایک سال اور دو سال کے ٹریڈ میں) ۔اس کا مقصد 138 این ایس کیو ایف سے تسلیم شدہ ٹریڈ میں صنعتوں کو ہنر مند افرادی قوت دستیاب کرانا ہے۔
مزید برآں 20-2019سیشن کے آّئی ٹی آئی کے ٹریننگ لینے والے گریجویٹ افراد کو روزگار ملنے کے امکانات میں اضافہ کرنے کے لئے آئی ٹی آئیز میں پہلے سال کے تربیتی سلیبس کے دورانیہ کو 110 گھنٹے سے بڑھاکر 160 گھنٹے کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے سال میں ویب پر مبنی روز گار کے حصول میں معاون80 گھنٹوں کی تربیت ہنر مندی سے متعلق ایک اضافی عنصر ہوگا۔مزید برآں فروغ ہنر مندی اور صنعت سازی کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) ملک گیر سطح پر پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی آئی 2.0)20-2016 کا نفاذ بھی کررہی ہے جس کا مقصد چار برسوں (20-2016) کے دوران ایک کروڑ افراد کو باہنر بنانا ہے۔ اس اسکیم کے تحت 11نومبر2019 تک 64.27لاکھ امیدواروں کو ٹریننگ دی جاچکی ہے جن میں سے 14.43 لاکھ لوگوں کو روزگار بھی مل چکا ہے۔
ایم ایس ڈی ای نے نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایس ڈی سی)کے توسط سے متعدد اقدامات کئے ہیں جن کا مقصد اسکل انڈیا مشن کے تحت شراکت داری کے لئے صنعتوں سے جڑنا ہے۔ صنعت کے زیر قیادت اداروں کے طور پر 38 سیکٹر اسکل کونسل قائم کئے گئےے ہیں جو ٹریننگ سے متعلق تجزیوں ، نصاب کی تیاری ، ٹریننگ کے آغاز اور جانچ و سرٹیفیکیشن کے کام میں مدد کرتی ہے۔
یہ اطلاع فروغ ہنر مندی و صنعت ساز ی کےوزیر مملکت جناب آر کے سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
م ن۔م م ۔ ج۔
U- 5156