صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزارت صحت نے آیوشمان بھارت-پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کی پیش رفت کا ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ جائزہ لیا؛ نفاذ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے لائحۂ عمل تیار


صحت کی دیکھ بھال پر خرچ ہونے والا ہر روپیہ عوام کو بہتر علاج کی سہولت فراہم کرنے کا ذریعہ بننا چاہیے: ڈاکٹر سنیل کمار برنوال، چیف ایگزیکٹیو آفیسر، این ایچ اے

علاج کے اخراجات کی مالی اعانت سے توجہ ہٹا کر صحت کے بہتر نتائج کے حصول پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے: چیف ایگزیکٹیو آفیسر، این ایچ اے

مغربی بنگال میں آیوشمان بھارت-پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کے آغاز سے اب تک 4.2 کروڑ مستفیدین کا اندراج اور 2.2 لاکھ افراد کا علاج کیا گیا: جناب منوج کمار اگروال، چیف سکریٹری، حکومت مغربی بنگال

دو روزہ قومی جائزہ اجلاس میں مستفیدین کے دائرۂ کار کو وسعت دینے، صحت کی خدمات کی فراہمی، مالی تحفظ اور ڈیجیٹل صحت کے انضمام کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 06 NOV 2026 4:34PM by PIB Delhi

بھارت سرکار کی وزارت صحت و خاندانی بہبود کے تحت قومی صحت اتھارٹی (این ایچ اے) نے آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) کی پیش رفت کا جائزہ لینے اور آئندہ مرحلے میں ان کے نفاذ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ترجیحات اور حکمت عملیوں پر تبادلۂ خیال کی غرض سے 5 اور 6 نومبر 2026 کو کولکاتہ میں دو روزہ قومی جائزہ اجلاس منعقد کیا۔

اس اجلاس میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) کے نفاذ اور پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، نیز آنے والے برسوں میں ان اہم اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ترجیحات اور حکمت عملیوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اس اجلاس نے مرکز اور ریاستوں کو پروگراموں کی کارکردگی کا جائزہ لینے، نفاذ کے تجربات ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنے اور ان دونوں اقدامات کی رسائی، کارکردگی اور اثرات کو بہتر بنانے کے لیے ضروری اقدامات کی نشاندہی کرنے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔ اجلاس میں مستفیدین کے دائرۂ کار کو وسعت دینے، صحت کی خدمات کی فراہمی کو مضبوط بنانے، مالی تحفظ کو یقینی بنانے اور ڈیجیٹل صحت کے فروغ میں تیزی لانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس سلسلے میں عملی کارکردگی، شفافیت، جوابدہی اور صحت کے بہتر نتائج کو یقینی بنانے کے لیے ٹیکنالوجی، اعداد و شمار کے تجزیے، خودکاری اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے استفادہ کرنے پر خصوصی زور دیا گیا۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image001_20261106163543_00e0b4.jpg

 

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قومی صحت اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر سنیل کمار برنوال نے قومی آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) پلیٹ فارم کے ساتھ انضمام کے بعد مغربی بنگال میں ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مختصر مدت کے اندر چار کروڑ سے زائد آیوشمان کارڈ جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نفاذ کے اگلے مرحلے میں مستفیدین کی کوریج کے سلسلے میں حاصل کردہ کامیابیوں کو معیاری صحت خدمات تک بہتر رسائی اور مستفیدین کی صحت کے بہتر نتائج میں تبدیل کرنے پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ’’صحت کی دیکھ بھال پر خرچ ہونے والا ہر روپیہ ہمارے عوام کو بہتر علاج کی سہولت فراہم کرنے کا ذریعہ بننا چاہیے۔ ٹیکنالوجی، اعداد و شمار اور مصنوعی ذہانت نفاذ کو مضبوط بنانے، کارکردگی بہتر کرنے اور زیادہ باخبر فیصلے کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ آگے بڑھتے ہوئے، ہماری توجہ بتدریج علاج کے اخراجات کی مالی اعانت سے ہٹا کر مستفیدین کی صحت کے بہتر نتائج کے حصول پر مرکوز ہونی چاہیے۔‘‘

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image002_20261106163549_d40123.jpg

 

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے حکومت مغربی بنگال کے چیف سکریٹری جناب منوج کمار اگروال نے آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) کے تحت مالی تحفظ کے ساتھ ساتھ بنیادی صحت خدمات کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں یہ اسکیم اسپتال میں داخلے کے مرحلے پر اہل خاندانوں کو مالی تحفظ فراہم کرتی ہے، وہیں احتیاطی نگہداشت، بیماریوں کی جلد تشخیص اور اسپتالوں پر بوجھ کم کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیادی صحت خدمات کا نظام ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات کسی بھی خاندان کو غربت میں دھکیلنے کا سبب نہیں بننے چاہئیں۔ آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) ہر اہل خاندان کو صحت کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرنے کے سلسلے میں ایک انقلابی قدم ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسپتالوں پر بوجھ کم کرنے اور صحت کے بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے بنیادی صحت خدمات کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔ مغربی بنگال اس اسکیم کے مضبوط، جامع اور عوام پر مرکوز نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔‘‘

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image003_20261106163554_143a11.jpg

 

مغربی بنگال حکومت کے محکمۂ صحت و خاندانی بہبود کے پرنسپل سکریٹری جناب نارائن سوروپ نگم نے بتایا کہ مغربی بنگال آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) میں شامل ہونے والی 36ویں ریاست تھی۔ ریاست میں 16 اگست 2026 کو اس اسکیم کے آغاز کے بعد سے اب تک 4.2 کروڑ مستفیدین کا اندراج کیا جا چکا ہے اور 2.2 لاکھ افراد نے اس اسکیم کے تحت علاج کرایا ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اے بی پی ایم-جے اے وائی اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) صحت کی دیکھ بھال کے نظام میں تبدیلی کے دو تکمیلی ستون ہیں، جو مالی تحفظ اور ڈیجیٹل بااختیاری کو یکجا کرتے ہیں۔

افتتاحی اجلاس میں قومی صحت اتھارٹی کے ایڈیشنل چیف ایگزیکٹیو آفیسر جناب آشیش مادھو راؤ، آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کے جوائنٹ سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر جناب کرن گوپال واسکا، قومی صحت اتھارٹی میں آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کی جوائنٹ سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر محترمہ ورنالی ڈیکا، اور مغربی بنگال کی ریاستی صحت ایجنسی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر جناب شرد دویویدی نے بھی شرکت کی۔ ان کے علاوہ قومی صحت اتھارٹی کے سینئر افسران اور شرکت کرنے والی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نمائندے بھی اجلاس میں موجود تھے۔

غور و خوض کے دوران اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت پر خصوصی توجہ دی گئی کہ تمام اہل مستفیدین کو اے بی پی ایم-جے اے وائی کے دائرے میں لایا جائے اور انہیں اسکیم کے تحت دستیاب فوائد کے بارے میں مناسب طور پر آگاہ کیا جائے۔ جائزہ اجلاس میں اے بی ڈی ایم کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا اور صحت کی دیکھ بھال کی سہولت فراہم کرنے والے مراکز میں اس کے استعمال کو فروغ دینے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں اقدامات پر باہمی تال میل کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے، تاکہ صحت کی خدمات تک بلا رکاوٹ رسائی ممکن ہو، مستفیدین کے تجربے کو بہتر بنایا جا سکے اور صحت کی دیکھ بھال کا ایک زیادہ مربوط اور مریضوں کی ضروریات پر مرکوز نظام قائم کیا جا سکے۔

میٹنگ میں آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) کے تحت دعوؤں کی جانچ اور تصفیے کے عمل کو مستحکم بنانے اور دھوکہ دہی کی روک تھام کے طریقۂ کار پر بھی غور و خوض کیا گیا۔ قومی انسداد دھوکہ دہی یونٹ (این اے ایف یو) اور خودکار طریقے سے دعوؤں کی جانچ و منظوری کے موضوع پر ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں دعوؤں کے تصفیے میں خودکاری کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس کے تصفیے کی مدت، عملی اخراجات اور جانچ و منظوری کے معیار پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ اسکیم کے نفاذ میں شفافیت اور جواب دہی یقینی بنانے کے لیے دھوکہ دہی کے معاملات کا باقاعدگی سے جائزہ لینے، مؤثر نگرانی کے نظام وضع کرنے اور ریاستی انسداد دھوکہ دہی یونٹوں کی ادارہ جاتی صلاحیت کو مستحکم بنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

صحت کی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے میں ڈیجیٹل تبدیلی کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اجلاس میں ماڈل ڈیجیٹل ہیلتھ فیسیلٹی فریم ورک اور تریپورہ میں اس کے نفاذ کے تجربات کا جائزہ لیا گیا۔ تبادلۂ خیال میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ صحت کی سہولتوں کو کامیابی کے ساتھ ڈیجیٹل بنانے کے لیے نہ صرف ڈیجیٹل حل متعارف کرانا ضروری ہے ،بلکہ ادارہ جاتی طریقۂ کار میں مناسب تبدیلیاں، کام کے نظام کی ازسرنو تشکیل اور صحت کے عملے کی صلاحیتوں میں باقاعدگی سے اضافہ بھی ضروری ہے۔ اس طرح کے انضمام سے اے بی ڈی ایم کے تحت فعال طریقۂ کار کو مستحکم بنانے کے ساتھ ساتھ اے بی پی ایم-جے اے وائی کے مؤثر نفاذ کے لیے درست اور قابلِ اعتماد اعداد و شمار کی دستیابی بھی یقینی ہونے کی توقع ہے۔

صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو مستحکم بنانے میں مصنوعی ذہانت کا کردار بھی تبادلۂ خیال کا ایک اہم موضوع تھا۔بنگلورو میں واقع انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کے پروفیسر پھنیندر یا لاورتھی نے صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے لیے بینچ مارکنگ اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم (بی او ڈی ایچ) پیش کیا۔ یہ پلیٹ فارم ہندوستانی اعداد و شمار کے مجموعوں کو استعمال کرتے ہوئے صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے نمونوں کی جانچ اور ان کی کارکردگی کا تقابلی جائزہ لینے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ریاستوں کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ مصنوعی ذہانت پر مبنی حل اپنانے سے پہلے ان کی کارکردگی اور موزونیت کا جائزہ لینے کے لیے اس پلیٹ فارم سے استفادہ کریں اور صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت سے متعلق خریداری کے عمل میں بی او ڈی ایچ پر مبنی تقابلی جانچ کو شامل کریں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image004_20261106163600_aafcfe.jpg

میٹنگ میں نیشنل ہیلتھ کلیمز ایکسچینج (این ایچ سی ایکس) کو فعال بنانے کے عمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس سلسلے میں آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) کے تحت فعال اسپتالوں کے اطلاعاتی نظام کی اہمیت پر زور دیا گیا، تاکہ آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) کے تحت فہرست میں شامل اسپتالوں میں اس کا مؤثر انضمام ممکن ہو سکے۔ دعوؤں کی جانچ اور تصفیے کے عمل کو تیز کرنے اور اس کی درستگی و معیار کو بہتر بنانے کے لیے اسپتالوں اور ڈیجیٹل حل فراہم کرنے والوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ انضمام کو ایک اہم ضرورت قرار دیا گیا۔

اس کے علاوہ ہیلتھ اینالیٹکس اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس یونٹ (ایچ اے اے یو) نے اعداد و شمار کے معیار سے متعلق اپنے نتائج پیش کیے۔ تبادلۂ خیال میں اعداد و شمار کے تجزیے اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کے لیے ادارہ جاتی صلاحیت کو مستحکم بنانے کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا۔ ریاستوں نے دانشمندانہ منصوبہ بندی اور ضرورت کے مطابق اقدامات میں معاونت کے لیے مخصوص تجزیاتی اور مصنوعی ذہانت کی ٹیمیں قائم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

میٹنگ کے دوسرے دن صحت کی مالی اعانت کے نمونوں، صحت سے متعلق اسکیموں کے باہمی انضمام، ڈیجیٹل انضمام میں آسانی اور سائبر سکیورٹی پر توجہ مرکوز کی گئی۔ تمل ناڈو حکومت کی وزارت صحت و خاندانی بہبود کے  سکریٹری ڈاکٹر داریز احمد نے صحت بیمہ اور صحت کی ضمانت کے نمونوں پر عمل درآمد کے حوالے سے ریاست کے تجربات سے آگاہ کیا۔ تبادلۂ خیال میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ صحت کوریج کے نمونے کا انتخاب متعلقہ خطرات کی نوعیت کے مطابق ہونا چاہیے، جس کے لیے مخصوص مقاصد کے لیے مختص فنڈز اور اسپتالوں کو بروقت ادائیگی کا مؤثر نظام بھی ضروری ہے۔

صحت سے متعلق اسکیموں کے باہمی انضمام پر منعقدہ اجلاس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ ریاستیں اپنی متعلقہ صحت اسکیموں پر عمل درآمد کے لیے قومی صحت اتھارٹی (این ایچ اے) کے آئی ٹی پلیٹ فارم سے کس طرح استفادہ کر سکتی ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر پہلے سے دستیاب صحت فوائد کے پیکیج، فہرست میں شامل اسپتالوں کا نیٹ ورک اور دھوکہ دہی کی نشاندہی کے طریقۂ کار کو ریاستی صحت اسکیموں میں زیادہ یکسانیت لانے، ان پر عمل درآمد کو آسان بنانے اور نگرانی کے نظام کو مستحکم کرنے کے ممکنہ ذرائع کے طور پر زیربحث لایا گیا۔

اس موقع پرسینڈ باکس 2.0 کی بھی نمائش کی گئی، جس میں ایجنٹک اے آئی کی جدید صلاحیتیں شامل کی گئی ہیں۔ اس نمائش میں اے بی ڈی ایم کے ساتھ انضمام کے پہلے مرحلے کے تحت آبھا (اے بی ایچ اے) بنانے کا عمل حقیقی وقت میں کامیابی کے ساتھ مکمل کیا گیا۔ اس سے واضح ہوا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی معاون آلات انضمام کے لیے درکار وقت اور تکنیکی محنت کو نمایاں طور پر کم کر سکتے ہیں۔ توقع ہے کہ اس اقدام سے ٹیکنالوجی کے شراکت داروں اور اسپتالوں کے اطلاعاتی نظام فراہم کرنے والوں کو تیزی سے اس نظام سے جوڑنے میں مدد ملے گی اور دستی تکنیکی معاونت پر انحصار بھی کم ہوگا۔

قومی ڈیجیٹل صحت پلیٹ فارمز پر زیراستعمال معلومات کی حساس نوعیت کے پیش نظر سائبر سکیورٹی پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ تبادلۂ خیال میں ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا گیا، جن میں فشنگ حملے(دھوکا دہی پر مبنی سائبر حملے )، جعلی ویب پتے اور ایپلی کیشنز، صارفین کی شناخت اور رسائی سے متعلق معلومات کا افشا ہونا اور تیسرے فریق سے وابستہ کمزوریاں شامل ہیں۔ ریاستوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ سائبر سکیورٹی کے لیے مخصوص ذمہ دار افسران مقرر کریں، تصدیق اور رسائی کے ضابطوں کو مستحکم بنائیں اور ڈیجیٹل صحت کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ اور صحت سے متعلق معلومات کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے ایپلی کیشنز اور اے پی آئیز کا باقاعدگی سے حفاظتی آڈٹ کرائیں۔

میٹنگ میں قومی صحت اتھارٹی (این ایچ اے) کے ایمبیئنٹ اے آئی سے لیس وائس اسکرائب کی بھی نمائش کی گئی ۔ یہ ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو ڈاکٹر اور مریض کے درمیان ہونے والی گفتگو کو ہندوستان کی متعدد زبانوں میں منظم طبی ریکارڈ میں تبدیل کرتی ہے۔ ان ریکارڈز کو آبھا (اے بی ایچ اے)سے منسلک کرنے سے پہلے ڈاکٹروں کے ذریعے ان کا جائزہ لیا جاتا ہے اور منظوری دی جاتی ہے۔ اس نمائش سے واضح ہوا کہ یہ ٹیکنالوجی ڈاکٹروں پر دستاویزات تیار کرنے کے بوجھ کو کم کرنے، طبی طریقۂ کار کو آسان بنانے اور صحت کی سہولتوں کو ڈیجیٹل شکل دینے کے عمل کو تیز کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

قومی جائزہ اجلاس کا اختتام آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) کے اگلے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے مشترکہ لائحہ عمل کے ساتھ ہوا۔ اجلاس میں ہونے والے تبادلۂ خیال نے اس بات کی اہمیت کو پھر سے اجاگر کیا کہ دونوں اہم اقدامات کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت کو شہریوں کے لیے ٹھوس فوائد میں تبدیل کرنے کے لیے مرکز اور ریاستوں کے درمیان مسلسل تال میل، عمل درآمد کے مضبوط طریقۂ کار اور ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

تبادلۂ خیال میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اگلے مرحلے میں صرف صحت خدمات کے دائرۂ کار کو وسعت دینے اور ڈیجیٹل ذرائع کے استعمال میں اضافے پر ہی نہیں بلکہ معیاری طبی سہولتوں تک بروقت رسائی یقینی بنانے، مالی تحفظ کو مستحکم کرنے اور صحت کے نتائج کو بہتر بنانے پر بھی توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ ان مقاصد کے حصول میں قابلِ اعتماد اعداد و شمار، محفوظ اور باہم مربوط ڈیجیٹل نظام، نگرانی کے مضبوط طریقۂ کار اور جدید ٹیکنالوجیز کا ذمہ دارانہ استعمال کلیدی اہمیت کے حامل رہیں گے۔

دو روزہ اجلاس میں پروگرام کے نفاذ، عملی کارکردگی، ڈیجیٹل صحت کے بنیادی ڈھانچے اور جدید تکنیکی اقدامات کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرنے والے 15 سیشنز منعقد ہوئے۔

وزارت صحت و خاندانی بہبود نے اے بی پی ایم-جے اے وائی اور اے بی ڈی ایم کے نفاذ کو مزید مستحکم بنانے اور ملک میں قابلِ رسائی، سستی، مؤثر اور عوام پر مرکوز صحت خدمات کے نظام کے وسیع تر وژن کو آگے بڑھانے کے لیے باہمی تعاون کے ساتھ کام کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

***

ش ح ۔ ش ت ۔م الف -م ع ن۔  ن ع

U. No.7344


(ریلیز آئی ڈی: 2333679) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil