وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

قومی مشق’وجر-ست‘ بنگلورو میں اختتام پذیر ، پاؤں اور منہ کی بیماری کے لیے ہندوستان کی تیاری کو تقویت ملی


دو روزہ مشق 25 ریاستوں ، تین مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور اہم قومی اداروں کے 83 شرکاء کو نگرانی ، جلد پتہ لگانے اور مربوط ردعمل کو مستحکم کرنے کے لیے اکٹھا کرتی ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 06 NOV 2026 12:56PM by PIB Delhi

حکومتِ ہند کے محکمہ مویشی پروری اور ڈیری نے بنگلورو کے آئی سی اے آر – نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ویٹرنری ایپیڈیمیولوجی اینڈ ڈیزیز انفارمیٹکس(آئی سی اے آر – این آئی وی ای ڈی آئی)کے اشتراک سے 4 اور 5 نومبر 2026 کو منہ کھر کی بیماری (ایف ایم ڈی)کے سیروٹائپ ایس اے ٹی-1 سے نمٹنے کی تیاری کے موضوع پر دو روزہ قومی ٹیبل ٹاپ مشق ’وَجر-ست‘ کا انعقاد کیا۔ ’’بروقت نشاندہی، فوری تصدیق اور مشترکہ طور پر تدارک‘‘ کے موضوع کے تحت منعقدہ اس مشق کا اختتام آج اس سفارش کے ساتھ ہوا کہ سرحد پار پھیلنے والی حیوانی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر تیاری اور باہمی تال میل کے ساتھ ردعمل کے نظام کو مزید مستحکم بنایا جائے۔

ایف ایم ڈی سیروٹائپ ایس اے ٹی-1 اب تک بھارت میں رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ افریقہ سے آگے مغربی ایشیا کے بعض علاقوں تک اس بیماری کے جغرافیائی پھیلاؤ کے پیش نظرمویشیوں کی صحت، کسانوں کے روزگار اور مویشی پروری کی معیشت کے تحفظ کے لیے پیشگی تیاری کے اقدام کے طور پر اس مشق کا انعقاد کیا گیا۔

اس مشق میں25 ریاستوں، تین مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور اہم قومی اداروں کے 83 شرکاء نے حصہ لیا۔ ان میں ریاستی محکمہ جاتِ مویشی پروری، آئی سی اے آر کے ادارے، حیوانی امراض کی تشخیص سے متعلق تجربہ گاہیں، ویٹرنری جامعات، ویکسین تیار کرنے والے ادارے اور دفاعی و سرحدی حفاظتی ایجنسیاں شامل تھیں۔ بیماری کے پھیلاؤ سے متعلق فرضی منظرناموں کے ذریعے شرکاء نے بروقت نشاندہی، تجربہ گاہوں میں تصدیق، وبائیاتی تحقیقات، جانوروں کی نقل و حرکت پر کنٹرول، ہنگامی ٹیکہ کاری کی تیاری، خطرات سے متعلق معلومات کی ترسیل اور مربوط ردعمل جیسے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image001_20261106125721_27c596.jpg

اس مشق کا افتتاح 4 نومبر کو محکمہ مویشی پروری اور ڈیری کے کمشنر ڈاکٹر نوینا بی ایم نے کیا۔ انہوں نے پیشگی تیاری، بیماریوں کی بروقت نشاندہی، فوری کارروائی اور مرکزی و ریاستی ایجنسیوں کے درمیان مؤثر تال میل کی اہمیت پر زور دیا۔ آئی سی اے آر – این آئی وی ای ڈی آئی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر بلدیو آر گلاٹی نے منہ کھر کی بیماری کے سیروٹائپ ایس اے ٹی-1 کی بدلتی ہوئی وبائیاتی صورت حال اور خطرات کی بنیاد پر نگرانی، وبائیاتی معلومات اور پیشگی انتباہی نظام کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ آئی سی اے آر – نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز (آئی سی اے آر – این آئی ایف ایم ڈی) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جے کے موہاپاترا نے تجربہ گاہوں میں پیشگی تیاری، فوری تشخیص اور ویکسین کی دستیابی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ قومی سلامتی کونسل سیکریٹریٹ کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر ایم ایم رام چندر نے سرحد پار پھیلنے والی حیوانی بیماریوں کی روک تھام کے لیے مختلف ایجنسیوں کے درمیان تال میل اور سرحدوں پر چوکسی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image002_20261106125727_4eef73.jpg

5 نومبر کو اختتامی اجلاس کی صدارت محکمہ مویشی پروری اور ڈیری کے ایڈیشنل سکریٹری(صحتِ مویشی)جناب راما شنکر سنہا نے کی۔ انہوں نے قومی اور ریاستی سطح پر تیاریوں کو مزید مستحکم بنانے اور تشخیصی تجربہ گاہوں کی صلاحیت میں اضافے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس ضمن میں آئی سی اے آر – این آئی ایف ایم ڈی کی تکنیکی معاونت سے علاقائی منہ کھر بیماری کی تجربہ گاہوں اور علاقائی حیوانی امراض کی تشخیصی تجربہ گاہوں (آر ڈی ڈی ایل) کی صلاحیت بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔

اختتامی تبادلۂ خیال کے دوران شرکاء نے بروقت اطلاع دینے، تجربہ گاہوں میں فوری تصدیق، بیماریوں کی نگرانی، جانوروں کی نقل و حرکت پر قابو پانے، ویکسین کی دستیابی کے لیے پیشگی تیاری اور بین الریاستی تال میل کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس مشق سے منہ کھر کی بیماری کے سیروٹائپ ایس اے ٹی-1 سے نمٹنے کے لیے موزوں تیاری اور ردعمل کی حکمت عملی وضع کرنے میں اہم معلومات حاصل ہوئیں۔ مشق کے دوران سامنے آنے والے مشاہدات اور سفارشات سے قومی سطح پر تیاریوں اور مربوط ردعمل کے نظام کو مزید مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image003_20261106125735_efa77a.jpg

منہ کھر کی بیماری(ایف ایم ڈی) سے پاک علاقوں کی علیحدہ درجہ بندی (کمپارٹمنٹلائزیشن) کے موضوع پر 5 نومبر 2026 کو ایک الگ تکنیکی اجلاس بھی منعقد کیا گیا، جس کی مشترکہ صدارت ایڈیشنل سکریٹری (لائیو اسٹاک ہیلتھ) اور کمشنر برائے مویشی پروری نے کی۔ اس اجلاس میں ریاستوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ تبادلۂ خیال کا محور منی کی پیداوار کے مراکز اور منی کے ذخائر کو منہ کھر کی بیماری سے پاک رکھنے کے لیے علیحدہ درجہ بندی کا نظام قائم کرنا تھا۔ اس اقدام کا مقصد بیماریوں کی روک تھام کے نظام کو مستحکم بنانا، مویشیوں کے قیمتی جینیاتی وسائل کا تحفظ کرنا اور مویشیوں کی محفوظ تجارت کو آسان بنانا ہے۔

***

ش ح۔ م ح۔رض

 7328:U-No


(ریلیز آئی ڈی: 2333507) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Kannada