پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 NOV 2026 6:44PM by PIB Delhi
تیئیس سالہ نوجوان، امت (نام تبدیل کر دیا گیا ہے)، کے لیے اتر پردیش کے سلطان پور میں واقع ڈسٹرکٹ ڈی ایڈکشن سینٹر صحت یابی اور خود انحصاری کی جانب اس کے سفر میں تعاون کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوا ہے۔ اس کا یہ سفر اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ نشے کی لت سے نجات اور بحالی کی قابل رسائی خدمات افراد کو نشے پر انحصار سے چھٹکارا دلانے، ان میں خود اعتمادی بحال کرنے اور نئے عزم اور امید کے ساتھ عزت و وقار کے ساتھ معاشرے میں دوبارہ ضم ہونے میں کس قدر اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
سلطان پور ضلع کا رہنے والا امت گریجویٹ ہے، جو نشے کی لت کے باعث ذاتی، سماجی اور مالی اعتبار سے سنگین مشکلات کا سامنا کر رہا تھا۔ اس کی حالت اس کی جسمانی صحت، روزمرہ معمولات، جذباتی کیفیت اور ذاتی تعلقات پر منفی اثر ڈالنے لگی تھی۔
گریجویٹ ہونے اور جز وقتی ملازمت کرنے کے باوجود اسے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں تسلسل برقرار رکھنے میں دشواری پیش آ رہی تھی اور وہ مالی مشکلات سے بھی دو چار تھا۔ نشے کی لت کے اثرات اس کی ذاتی زندگی تک محدود نہیں رہے تھے بلکہ اس کے سبب اہل خانہ اور آس پاس کے لوگوں کے ساتھ اس کے تعلقات بھی کشیدہ ہونے لگے تھے۔
سماجی بدنامی کے احساس اور محدود تعاون نے اس کے خود اعتمادی کو مزید متاثر کیا تھا اور ایک مستحکم زندگی گزارنے کی اس کی صلاحیت کو بھی کمزور کر دیا تھا۔ وہ نشے کی لت سے چھٹکارا حاصل کرکے اپنی زندگی کا اختیار دوبارہ اپنے ہاتھ میں لینا، مالی خود مختاری حاصل کرنا اور عزت و وقار کے ساتھ اپنے تعلقات کو ازسرنو استوار کرنا چاہتا تھا۔
اس کی زندگی میں ایک اہم موڑ 30 مئی 2025 کو آیا، جب اسے وزارت سماجی انصاف و تفویض اختیارات کی بحالی خدمات کے تحت ضلع کے نشہ چھڑانے کے مرکز (ڈی ڈی اے سی)، سلطان پور کے ذریعے بازآبادکاری کی سہولت فراہم کی گئی۔
مرکز نے اسے جامع تعاون فراہم کیا، جس میں طبی علاج، بروقت ادویات، صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات، محفوظ رہائش، غذائیت سے بھرپور خوراک اور پیشہ ورانہ رہنمائی شامل تھی۔ طبی نگہداشت کے ساتھ ساتھ اسے مشاورت کے سیشن، ترغیبی سرگرمیوں، یوگا اور نگہداشت کرنے والوں اور مرکز کے عملے کے ساتھ باقاعدہ بات چیت کے ذریعے مسلسل جذباتی اور نفسیاتی تعاون بھی فراہم کیا گیا۔

منظم بازآبادکاری پروگرام نے امت کو بتدریج اپنی صحت بہتر بنانے، نظم و ضبط پیدا کرنے اور خود اعتمادی بحال کرنے میں مدد دی۔ باقاعدہ مشاورت اور مسلسل حوصلہ افزائی نے اس کی جذباتی کیفیت کو مستحکم بنانے اور سماجی رویے میں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ مرکز کے معاون اور سازگار ماحول نے اسے اہل خانہ کے ساتھ اپنے تعلقات دوبارہ استوار کرنے اور معاشرے میں ازسرنو گھلنے ملنے کی کوششوں میں بھی مدد فراہم کی۔
آج امت نے صحت یابی کی جانب نمایاں پیش رفت کی ہے اور وہ پہلے سے زیادہ صحت مند اور منظم زندگی گزار رہا ہے۔ اس نے باقاعدگی سے کام کرنا دوبارہ شروع کر دیا ہے، مالی طور پر خود کفیل ہونے کی جانب قدم بڑھایا ہے اور اپنے اہل خانہ اور معاشرے کے لوگوں کا اعتماد بھی بتدریج بحال کر رہا ہے۔ اس کی یہ پیش رفت اس بات کی عکاس ہے کہ بروقت طبی مداخلت، جامع بازآبادکاری اور مسلسل جذباتی تعاون کے ذریعے افراد کو نشے پر انحصار سے چھٹکارا دلانے اور انہیں خود مختار اور با وقار زندگی کی جانب گامزن کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
********
ش ح۔ ف ش ع
U: 7294