سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

اہم سپر الائے کی مشیننگ کو بہتر بنانے والی جدید حفاظتی کوٹنگز ایرو اسپیس، توانائی اور پیٹروکیمیکل کے شعبوں کیلئےمددگار ثابت ہو سکتی ہیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 04 NOV 2026 5:21PM by PIB Delhi

سائنس دانوں کی جانب سے تیار کی گئی ایک جدید ’سرفیس انجینئرنگ‘ تکنیک، سپر الائے کی مشیننگ میں استعمال ہونے والے کٹنگ ٹولز کی پائیداری کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتی ہے۔

اس سے ایرو اسپیس، توانائی اور پیٹروکیمیکل کے شعبوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، جہاں انتہائی سخت حالات میں کام کرنے والے پرزوں کی تیاری کے لیے نکل پر مبنی سپر الائے ناگزیر ہوتے ہیں۔

ہوائی جہازوں کے انجن، بجلی گھروں اور پیٹروکیمیکل نظاموں میں استعمال ہونے والے سپر الائے کی مشیننگ کرنا مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ایک بڑا چیلنج ہے۔انکونیل 718(آئی این 718)، آئی این 625، آئی این 617 جیسے نکل پر مبنی سپر الائے غیر معمولی مضبوطی اور سختی کے حامل ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں کاٹنا یا مطلوبہ شکل دینا مشکل ہوتا ہے۔

تیزی سے ورک ہارڈننگ، کم حرارتی ترسیل اور کٹنگ ٹولز کے ساتھ ہونے والے شدید کیمیائی ردِعمل کے باعث یہ ٹولز جلد گھس جاتے ہیں، جس سے پیداواری صلاحیت کم ہو جاتی ہے اور مینوفیکچرنگ کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔

حیدرآباد میں واقع انٹرنیشنل ایڈوانسڈ ریسرچ سینٹر فار پاؤڈر میٹالرجی اینڈ نیو میٹیریلز (اےآرسی آئی) کے سائنس دانوں نے، جو محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کا ایک خودمختار تحقیق و ترقی کا مرکز ہے، عام طور پر استعمال ہونے والے ٹنگسٹن کاربائیڈ کٹنگ ٹولز پر دو نینو کمپوزٹ حفاظتی کوٹنگز تیار کی ہیں اور ان کا جائزہ لیا ہے۔ یہ کوٹنگز ٹائٹینیم ایلومینیم سلیکون نائٹرائڈ اور کرومیم ایلومینیم سلیکون نائٹرائڈ ہیں۔

یہ کوٹنگز ادارے میں ہی کیتھوڈک آرک فزیکل ویپر ڈیپوزیشن تکنیک کے ذریعے لگائی گئیں، جس سےآئی این 718، آئی این 625 اورآئی این 617 کی ملنگ کے لئے استعمال ہونے والے ٹولز کی کارکردگی کا جائزہ لینے میں مدد ملی۔ اس تحقیق میں ٹولز کی عمر اور کوٹنگ کی کارکردگی کو متعین کرنے والے عوامل کا بھی مطالعہ کیا گیا۔

تحقیق سے ایک اہم بات سامنے آئی کہ کوئی ایک کوٹنگ ایسی نہیں ہے جو تمام سپر الائے کے لیے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے۔ کسی حفاظتی کوٹنگ کی افادیت کا انحصار بڑی حد تک اس مواد کی کیمیائی ساخت پر ہوتا ہے جس کی مشیننگ کی جا رہی ہو، اور اس بات پر بھی کہ وہ مواد کوٹنگ کے ساتھ کس طرح کا ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔

آئی این718 کے معاملے میں بغیر کوٹنگ والے ٹول کے مقابلے میں ٹی آئی اے ایل ایس آئی این کوٹنگ والے ٹول کی کارکردگی میں تقریباً 80 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ آئی این 625 کے لیے یہ اضافہ تقریباً 60 فیصد رہا۔

دوسری جانب، آئی این 617 کے لئے سی آر اے آئی ایس آئی این کوٹنگ کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہوئی، جس سے ٹول کی عمر میں 200 فیصد سے بھی زیادہ اضافہ ہوا۔

ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممکن ہے ایک کوٹنگ آئی این718 اور آئی این 625 کے لیے زیادہ موزوں ہو، جبکہ دوسری کوٹنگ آئی این 617 کے لیے کہیں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے۔

یہ نتائج مشیننگ کیے جانے والے مخصوص سپر الائے کے مطابق درست حفاظتی کوٹنگ کے انتخاب کے لیے ایک سائنسی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image001_20261104172225_ed1573.png 

جدید نینو کمپوزٹ کوٹنگز ٹنگسٹن کاربائیڈ کٹنگ ٹولز کی کارکردگی میں نمایاں بہتری لاتی ہیں۔ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ سب سے موزوں کوٹنگ کا انتخاب اس بات پر منحصر ہے کہ کس مخصوص نکل پر مبنی سپر الائے کی مشیننگ کی جا رہی ہے۔

محققین نے یہ بھی جانچ کی کہ کٹنگ ٹولز کس طرح خراب ہوتے ہیں۔ نقصان کی ایک بڑی وجہ ٹول کی سطح پر ورک پیس کے مواد کا بار بار چپکنا تھا۔ مشیننگ کے دوران سپر الائے کی ایک تہہ کٹنگ ایج پر چپک سکتی ہے اور جب یہ بعد میں الگ ہوتی ہے تو اپنے ساتھ ٹول کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو بھی کھینچ لیتی ہے، جس سے آہستہ آہستہ ٹول ٹوٹنے (چِپنگ) لگتا ہے۔ کوٹنگز نے اس نقصان کے عمل کو مؤخر کیا اور ٹول کی عمر بڑھائی۔ چِپنگ اور مسلسل گھساؤ ٹول کے خراب ہونے کے اہم طریقے پائے گئے، جبکہ رگڑ ، چپکاؤ اور گھس کر مواد کا نکلنا بھی اس گھساؤ کے عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image002_20261104172232_940c8e.png

 

کٹنگ ٹول کے کنارے کی اسکیننگ الیکٹران مائیکرواسکوپ کی تصویر، جس میں ورک پیس کے مواد کا چپکنا، گھساؤ، چِپنگ اور اطراف میں دراڑیں دکھائی گئی ہیں۔ یہ وہ اہم وجوہات ہیں جن کے باعث نکل پر مبنی سپر الائے کی مشیننگ کے دوران ٹول خراب ہو جاتا ہے

محققین نے مشیننگ کے دوران بننے والے دھات کے ٹکڑوں (چِپس)کا بھی جائزہ لیا۔ ان چِپس میں مخصوص ’شیئر بینڈز‘ اور آری کے دانتوں جیسے نمونے دکھائی دیے، جو کٹنگ کے دوران پیدا ہونے والی انتہائی تھرمو مکینیکل صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ چِپس کے مختلف حصوں میں تقسیم ہونے کے عمل کا تعلق ٹول کی کارکردگی سے تھا، جس سے ان جدید مرکبات (الائے) کے پیچیدہ مشیننگ رویّے کو سمجھنے میں مزید مدد ملی۔

زیادہ دیر تک چلنے والے کٹنگ ٹولز مشینوں کے بند رہنے کے دورانیے کو کم کر سکتے ہیں، پیداواری صلاحیت بڑھا سکتے ہیں اور زیادہ قیمت والے انجینئرنگ پرزوں کی مشیننگ کی لاگت میں کمی لا سکتے ہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ تحقیق حفاظتی کوٹنگز کے لیے سائنسی بنیادوں پر مبنی اور مخصوص استعمال کے نقطۂ نظر کی نشاندہی کرتی ہے۔ ہر جگہ استعمال ہونے والی ایک ہی ’بہتر‘ کوٹنگ تلاش کرنے کے بجائے، مینوفیکچررز اس مخصوص الائے کی ساخت اور خصوصیات کی بنیاد پر کوٹنگ کا انتخاب یا ڈیزائن کر سکتے ہیں، جس کی مشیننگ کی جانی ہو۔ اس سے جدید مواد سے تیار کردہ پرزوں کی تیاری کو زیادہ مؤثر، قابلِ اعتماد اور کم خرچ بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اےآرسی آئی کے ’سینٹر فار انجینئرڈ کوٹنگز‘ میں کی گئی اس تحقیق کو ’میٹیریلز ٹوڈے کمیونیکیشنز‘جریدے میں شائع کیا گیا ہے۔

یہ مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ صنعت میں استعمال ہونے والے انتہائی سخت مواد کی مشیننگ کو بہتر بنانے کا بنیادی طریقہ صرف ایک اچھی کوٹنگ تیار کرنا نہیں، بلکہ درست مواد کے لیے درست کوٹنگ کا انتخاب کرنا ہے۔

اشاعت کا لنک:

https://doi.org/10.1016/j.mtcomm.2024.109101

***

ش ح۔ ک   ا۔ ن  ع

U.NO.7232


(ریلیز آئی ڈی: 2332728) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil