پوسٹ کرنے کی تاریخ:
04 NOV 2026 5:28PM by PIB Delhi
وزارت اقلیتی امور نے 4 نومبر 2026 کو نئی دہلی کے ڈاکٹر امبیڈکر انٹرنیشنل سینٹر کے سمرستا ہال میں ’’سماویش سے وکاس – نفاذ کا جائزہ اور متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ تبادلۂ خیال‘‘ کا اہتمام کیا۔ اس پروگرام میں وزارتِ اقلیتی امور کے جوائنٹ سکریٹری جناب شیاما پرساد رائے اور وزارت کی ڈائریکٹر محترمہ نیہا گری کی موجودگی میں 80 سے زائد افراد نے شرکت کی۔ پروجیکٹ نافذ کرنے والی ایجنسیوں (پی آئی اے) کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ شراکت داروں نے ان مباحثوں میں حصہ لیا، جن کا مقصد پردھان منتری وراثت کا سموردھن (پی ایم وکاس) اسکیم کی پیش رفت کا جائزہ لینا، نفاذ سے متعلق چیلنجوں کو حل کرنا اور اسکیم کے تحت تربیت کے معیار، تقرریوں اور مجموعی نتائج کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کی نشاندہی کرنا تھا۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزارتِ اقلیتی امور کے جوائنٹ سکریٹری جناب شیاما پرساد رائے نے اس بات پر زور دیا کہ اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ ہنرمندی کے فروغ کے نتیجے میں مستفیدین کے لیے روزگار کے بامعنی مواقع پیدا ہوں اور ان کا مستقبل بہتر ہو۔

انہوں نے کہا، ’’اس پروگرام کا موضوع ’سماویش سے وِکاس‘ ہے اور یہ محض ایک نعرہ نہیں ہے۔ ہماری توقع ہے کہ ہر مستفید، خواہ وہ لڑکی ہو، اسکول چھوڑ چکا طالب علم ہو یا کوئی تربیت حاصل کرنے والا نوجوان، ہنرمندی کی تربیت مکمل کرنے کے بعد اپنے ہاتھ میں سرٹیفکیٹ حاصل کرے، اسے ملازمت ملے اور وہ روشن مستقبل کی جانب گامزن ہو۔ ہماری یہی منصوبہ بندی ہے۔‘‘
اس پروگرام کے دوران پی ایم وِکاس کے تحت پیتم پور آٹو کلسٹر (پی اے سی)، سینٹر آف ایکسی لینس اِن میری ٹائم اینڈ شپ بلڈنگ (سی ای ایم ایس) اور انسٹی ٹیوٹ آف انٹر پرینور شپ ڈیولپمنٹ (آئی ای ڈی) کے ساتھ مفاہمت ناموں (ایم او یو) پر دستخط بھی کیے گئے۔ ان شراکت داریوں کا مقصد مختلف شعبوں اور خطوں میں اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے لیے ہنرمندی کی ترقی اور صنعت پر مبنی تربیت تک رسائی کے مواقع کو وسعت دینا ہے۔

پی اے سی کے ساتھ شراکت داری کے تحت مدھیہ پردیش میں 2,400 امیدواروں کو ابھرتی ہوئی صنعتی ضروریات سے ہم آہنگ پیشہ ورانہ شعبوں میں ہنرمندی کی تربیت فراہم کی جائے گی، جن میں الیکٹرک وہیکل سروس ٹیکنیشن، سی این سی ملنگ پروگرامر، ویئر ہاؤس ایسوسی ایٹ اور سپلائی چین ایگزیکٹو (پائیداری) شامل ہیں۔
سی ای ایم ایس کے ساتھ مفاہمت نامے کے تحت کرناٹک، پڈوچیری، مہاراشٹر، تلنگانہ، مغربی بنگال، اڈیشہ اور گجرات میں 6,300 امیدواروں کو ہنرمندی کی تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس تربیت میں بزنس اینالسٹ، ویئر ہاؤس سپروائزر، اے آئی ٹیکنوکریٹ اور گیسٹ سروس ایگزیکٹو (فرنٹ آفس) سمیت مختلف پیشہ ورانہ شعبے شامل ہوں گے۔

آئی ای ڈی کے ساتھ شراکت داری کے تحت اتر پردیش میں 900 امیدواروں کو سولر پی وی انسٹالر (سوریہ مترا) کے پیشہ ورانہ شعبے میں ہنرمندی کی تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس پہل کا مقصد نوجوانوں کو صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ ہنر سے آراستہ کرنا اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں روزگار کے ابھرتے ہوئے مواقع کے لیے تیار کرنا ہے، جس سے ہندوستان کے بڑھتے ہوئے ماحول دوست توانائی کے نظام کے لیے ہنرمند افرادی قوت کی تیاری میں مدد ملے گی۔
پی ایم وِکاس کے تحت ایک اور پیش رفت کے طور پر، وزارتِ اقلیتی امور نے 3 نومبر 2026 کو اسکیم کے روایتی ہنر کے جزو کے تحت تربیت کے نفاذ کے لیے کشمیر کی مرکزی یونیورسٹی کے ساتھ ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے۔ اس پہل کے تحت جموں و کشمیر کے ضلع گاندربل میں 390 گھنٹے کے تربیتی پروگرام کے ذریعے 120 امیدواروں کو بید کی دستکاری کے کاریگروں کی حیثیت سے تربیت دی جائے گی۔ اس پہل کا مقصد روایتی دستکاری کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ شرکاء کو ایسے ہنر سے آراستہ کرنا ہے جو پائیدار ذریعۂ معاش کے مواقع فراہم کرنے میں معاون ثابت ہو سکیں۔

پروگرام کے دوران وزارتِ اقلیتی امور کی ڈائریکٹر محترمہ نیہا گری نے پی ایم وِکاس کی پیش رفت پر ایک پریزنٹیشن پیش کی، جس میں اسکیم کے نفاذ کی صورتِ حال، توجہ طلب اہم شعبوں اور آئندہ کے لائحۂ عمل کی ترجیحات کو اجاگر کیا گیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پروجیکٹ نافذ کرنے والی ایجنسیوں (پی آئی اے) کو روزگار کے حصول کے نتائج پر زیادہ توجہ دینی چاہیے اور آجروں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’ہم توقع کرتے ہیں کہ تمام پی آئی اے تقرریوں کے نتائج، آجروں کے ساتھ رابطے اور تصدیق شدہ تقرریوں کے اعداد و شمار کی بروقت رپورٹنگ پر کہیں زیادہ توجہ دیں گی۔‘‘

پروگرام کا ایک اہم اجلاس پروجیکٹ نافذ کرنے والی ایجنسیوں (پی آئی اے) کے لحاظ سے نفاذ کے جائزے سے متعلق تھا، جس کے دوران پی ایم وِکاس کے تحت ہونے والی پیش رفت کے ساتھ ساتھ نفاذ کرنے والی ایجنسیوں کو درپیش مسائل اور چیلنجوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس جائزے کے ذریعے نفاذ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال، توجہ طلب شعبوں کی نشاندہی اور تال میل، تربیت کی فراہمی، تقرریوں کے نتائج اور نگرانی کے نظام کو مستحکم بنانے کے لیے عملی اقدامات پر غور کرنے کا موقع فراہم ہوا۔ ان مباحثوں میں جواب دہی کو بہتر بنانے اور اس بات کو یقینی بنانے پر بھی توجہ دی گئی کہ تربیتی پروگراموں کے نتیجے میں مستفیدین کو روزگار کے بامعنی مواقع حاصل ہوں۔
پروگرام میں کوالٹی کونسل آف انڈیا (کیو سی آئی) اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ بنگلورو (آئی آئی ایم بنگلورو) کے ذریعے آزادانہ نگرانی کے ذریعہ معیار کی یقین دہانی کو مستحکم بنانے سے متعلق مباحثے بھی شامل تھے۔ ایک-اسٹیپ فاؤنڈیشن کی جانب سے پیش کردہ ٹیکنالوجی پر مبنی حل، جن میں تقرریوں کے نتائج بہتر بنانے کے لیے بلیو ڈاٹ اور امیدواروں سے رائے حاصل کرنے کے لیے وائس اے آئی شامل ہیں، پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ان مباحثوں میں ہنرمندی کے فروغ کی ترقی کے نظام میں ہنر مندی کے فروغ کے قومی کارپوریشن (این ایس ڈی سی) کے کردار کا بھی احاطہ کیا گیا، جس میں صنعت کے ساتھ روابط اور روزگار کے مواقع کو مستحکم بنانے پر زور دیا گیا۔
اِتیہاس– انڈین ٹریڈیشنز اینڈ ہیریٹیج سوسائٹی کی جانب سے ’’ورثے اور سیاحت کے شعبوں میں نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافہ‘‘ کے موضوع پر پیش کی گئی پریزنٹیشن میں ورثے اور سیاحت کے شعبوں میں نوجوانوں کے ہنر کو فروغ دینے کے مواقع اجاگر کیے گئے۔ اس پیش کش میں ہنرمندی کی ترقی کو ہندوستان کے ثقافتی ورثے سے جوڑنے اور سیاحت سے متعلق سرگرمیوں کے ذریعے ذریعۂ معاش کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
پروگرام کا اختتام وزارت کے افسران، متعلقہ فریقوں اور پی آئی اے کے نمائندوں کے درمیان ایک باہمی تبادلۂ خیال کے ساتھ ہوا، جس میں فیلڈ سطح کے تجربات کا اشتراک کرنے، نفاذ سے متعلق امور اور چیلنجوں پر تبادلۂ خیال کرنے اور پی ایم وِکاس کے نفاذ اور اس کی افادیت کو مستحکم بنانے کے لیے تجاویز پیش کرنے کا موقع ملا۔
وزارت اقلیتی امور پی ایم وکاس کے ذریعے اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے لیے معیاری ہنرمندی کی ترقی تک رسائی بہتر بنانے، صنعت کے ساتھ روابط کو مستحکم کرنے اور معاش کےپائیدار مواقع پیدا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
********
(ش ح ۔م ش ۔ص ج )
U. No.7231