سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

رکاوٹوں کے پار ٹیرا ہرٹز لہروں کو گزرنے کے قابل بنانے والی اورمستقبل کے 6جی نیٹ ورکس کی راہ ہموارکرنے والی  نئی سلیکان چِپ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 04 NOV 2026 5:22PM by PIB Delhi

سلیکان کی ایک نئی چِپ، جو ٹیرا ہرٹز لہروں کو ایک خاص طور پر تیار کردہ رکاوٹ سے معمولی نقصان کے ساتھ گزرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے اور اس دوران 100 گیگا بِٹس فی سیکنڈ (جی بی پی ایس) کی رفتار سے ڈیٹا منتقل کرتی ہے، مستقبل کی 6جی مواصلاتی ٹیکنالوجیز کے لیے مختصر حجم کے ٹیرا ہرٹز سرکٹس کی تیاری کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

توقع ہے کہ مستقبل کے چھٹی نسل (6جی) کے وائرلیس نیٹ ورکس میں ٹیرا ہرٹز فریکوینسی کا استعمال کیا جائے گا۔ یہ فریکوینسی  مائیکرو ویوز اور انفراریڈ روشنی کے درمیان واقع ہوتی ہے اور وسیع بینڈ وِڈتھ فراہم کرتی ہے۔ تاہم، ان لہروں کو مختصر حجم کے سرکٹس میں رہنمائی فراہم کرنا ایک مشکل کام ہے، کیونکہ ویو گائیڈ میں موڑ، جوڑ اور اچانک ساختی تبدیلیاں سگنل کے کچھ حصے کو منتشر یا منعکس کر سکتی ہیں، جس سے سفر کے دوران اس کی قوت کم ہو جاتی ہے۔

سلیکان کی ایک باریک تہہ میں سہ رخی سوراخوں کو ایک خاص ترتیب سے بنا کر محققین ایسا فوٹونک کرسٹل تیار کر سکتے ہیں جو ٹیرا ہرٹز لہروں کو دو خطوں کے درمیان سرحد کے ساتھ آگے بڑھنے کی رہنمائی کرتا ہے۔ ایسے سرحدی راستے مخصوص اقسام کے سگنل کے الٹے انعکاس کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں، تاہم ایک عملی سرکٹ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ جان بوجھ کر پیدا کی گئی رکاوٹوں اور ساخت میں تبدیلیوں کو برداشت کر سکے۔

محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے ایک خودمختار ادارے جواہر لعل نہرو سینٹر فار ایڈوانسڈ سائنٹیفک ریسرچ (جے این سی اے ایس آر) کے محققین نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ٹاپولوجیکل فوٹونکس کا طریقہ اختیار کیا اور ایک خاص طور پر تیار کردہ رکاوٹ کے پار 100 گیگا بِٹس فی سیکنڈ (جی بی پی ایس) تک کی رفتار سے ڈیٹا کی ترسیل کا مظاہرہ کیا۔ ایک رکاوٹ شامل کرنے سے صرف تقریباً 1 سے 2 فیصد سگنل کا نقصان ہوا، جب کہ یکے بعد دیگرے دو رکاوٹیں شامل کرنے سے یہ نقصان تقریباً 2 سے 3 فیصد رہا۔ اس کے برعکس، روایتی غیر ٹاپولوجیکل ویو گائیڈ میں اسی نوعیت کی رکاوٹ سے سگنل کی ترسیل نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے۔

تحقیقی ٹیم نے سلیکان پر مبنی ایک فوٹونک کرسٹل تیار کیا، جس کی ساخت گرافین کی شہد کے چھتے جیسی جالی سے مشابہت رکھتی ہے۔ اس کے بعد ویو گائیڈ کے ایک مختصر حصے میں سہ رخی سوراخوں کے حجم میں تبدیلی کرکے ایک رکاوٹ پیدا کی گئی۔

جب تک رکاوٹ کی شدت کرسٹل کی ایک مخصوص ارتباطی قوت سے کم رہی، ڈیٹا کی ترسیل کی شرح تقریباً اسی سطح پر برقرار رہی جو رکاوٹ کے بغیر حاصل ہوتی ہے۔ چونکہ رکاوٹ کی نوعیت سوراخوں کی ساخت اور ان کے حجم سے متعین ہوتی ہے، اس لیے یہ اصول ایسے آلات کی عملی تیاری کے لیے ایک مفید رہنما اصول فراہم کرتا ہے۔

محققین نے اس تصور کو ہائی ریزسٹیوٹی سلیکان پر تیار کردہ تین آلات میں آزمایا۔ یہ ایسا مادہ ہے جو سیمی کنڈکٹر کی تیاری کے مروجہ طریقوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ ان میں ایک آلہ ایسا تھا جس میں دو رکاوٹیں یکے بعد دیگرے موجود تھیں، دوسرا اومیگا کی شکل کا راستہ تھا جس میں چار تیز موڑ اور درمیان میں ایک رکاوٹ شامل تھی، جب کہ تیسرا پاور اسپلٹر تھا، جس کی دو شاخوں میں سے ایک میں رکاوٹ موجود تھی۔

310 سے 360 گیگا ہرٹز کے درمیان کی گئی پیمائشوں کے نتائج کمپیوٹر پر کیے گئے تخمینوں سے کافی حد تک مطابقت رکھتے تھے۔ پاور اسپلٹر میں دونوں آؤٹ پٹ سگنل تقریباً یکساں تھے، جس سے ظاہر ہوا کہ رکاوٹ کا سگنل کی ترسیل پر بہت معمولی اثر پڑا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image001_20261104172402_cd4512.jpg

شکل 1۔ سلیکان ویلی فوٹونک کرسٹل چِپ میں فوٹونک کلائن ٹنلنگ کی فنکارانہ عکاسی۔ تیز رفتار ڈیٹا لے جانے والا ٹیرا ہرٹز سگنل، تیار کردہ رکاوٹ (نیلے رنگ میں) سے گزرنے کے دوران کسی نمایاں نقصان کے بغیر آگے بڑھتا ہے، جس سے 6جی مواصلاتی نظام کے لیے 100 گیگا بِٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے ڈیٹا کی ترسیل ممکن ہوتی ہے۔

 

تیز رفتار ڈیٹا کی ترسیل کے تجربات میں دوہری رکاوٹ والے آلے اور اومیگا کی شکل کے آلے نے بالترتیب 48 اور 60 گیگا بِٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے ڈیٹا منتقل کیا۔ سگنل کی وسعت اور مرحلے میں معلومات کو رمز بند کرنے والی کیو اے ایم-32 ماڈیولیشن کے ذریعے طاقت تقسیم کرنے والے آلے نے 100 گیگا بِٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے ڈیٹا کی ترسیل ممکن بنائی۔ اس رفتار سے پانچ گیگا بائٹ کی اعلیٰ معیار کی فلم اصولی طور پر نصف سیکنڈ سے بھی کم وقت میں منتقل کی جا سکتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image002_20261104172408_8825d9.jpg

شکل 2۔ جے این سی اے ایس آر کی میٹا آپٹکس لیبارٹری (میٹولیب) میں تحقیقی ٹیم، تیار کردہ سلیکان چِپ کے ساتھ، جسے فوٹونک کلائن ٹنلنگ کا مظاہرہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

 

اس تحقیق کی قیادت جے این سی اے ایس آر کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ابھیشیک کمار نے کی، جہاں وہ میٹا آپٹکس لیبارٹری (میٹولیب) کے سربراہ بھی ہیں۔ جے این سی اے ایس آر کی ثمینہ ملا اور سنگرام کمار سادھو اس تحقیق کے مشترکہ طور پر پہلے مصنفین ہیں۔ اس تحقیق میں جے این سی اے ایس آر کے آصف اقبال ایم اور این ایس ودھیادھی راجا؛ آئی آئی ایس ای آر کولکاتا کے سدھارتھ لال؛ آئی آئی ٹی بمبئی کے انشومن کمار؛ انسٹی ٹیوٹ آف مائیکرو الیکٹرانکس، اے اسٹار، سنگاپور کے ژونگ ہوا گو اور پرکاش پٹاچا؛ نیز یونیورسٹی آف لِل اور سی این آر ایس، فرانس کے پاسکل شفٹگِزر اور گیوم ڈوکورنو نے بھی تعاون کیا۔

ڈاکٹر ابھیشیک کمار نے کہا،‘‘یہ دکھانا کہ ٹیرا ہرٹز لہریں محض سوراخوں کی ساخت میں تبدیلی کے ذریعے تیار کردہ رکاوٹ کو عبور کر سکتی ہیں اور اس دوران 100 گیگا بِٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے ڈیٹا بھی منتقل کر سکتی ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ اثر ٹیرا ہرٹز چِپس کے لیے ایک مفید ڈیزائن اصول بن سکتا ہے۔’’

اس تحقیق کے نتائج محققین کو ایسے ٹیرا ہرٹز سرکٹس تیار کرنے میں مدد دے سکتے ہیں جو ایک ہی چِپ پر کم سے کم نقصان کے ساتھ سگنلز کو مطلوبہ راستوں پر بھیجنے اور تقسیم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ تحقیقی ٹیم کا اگلا منصوبہ ان رکاوٹوں کو برقی، حرارتی یا میکانکی طریقوں سے قابو میں لانا ہے، جس سے کسی آلے کے لیے ضرورت کے مطابق سگنلز کو ایک راستے سے دوسرے راستے پر منتقل کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔ یہ تحقیق ایڈوانسڈ میٹیریلز نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

اشاعت کا لنک: ڈی او آئی https://doi.org/10.1002/adma.75322

*****

ش ح۔ک ح۔ اش ق

U. No- 7230


(ریلیز آئی ڈی: 2332694) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil