پوسٹ کرنے کی تاریخ:
03 NOV 2026 5:37PM by PIB Delhi
نیتی آیوگ نے 3 نومبر 2026 کو نئی دلی کے کے جی مارگ پر واقع سول سروسز آفیسرز انسٹی ٹیوٹ (سی ایس او آئی) میں ’’انڈیا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسکور بورڈ‘‘ جاری کیا۔ اس اسکور بورڈ کی رونمائی نیتی آیوگ کے نائب چیئرمین جناب اشوک کمار لہڑی نے کی۔ نیتی آیوگ کی ایک اہم پہل کے طور پر تیار کیا گیا یہ اسکور بورڈ باہمی رابطے پر مبنی ایک ایسا پلیٹ فارم ہے، جو ہندوستان کی ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں سائنس و ٹیکنالوجی کے منظرنامے کی ایک مربوط تصویر پیش کرتا ہے۔ اسے شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور ریاستوں و مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے درمیان تقابلی جائزے کو سہل بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ نیتی آیوگ کے سینئر مشیر پروفیسر وویک کمار سنگھ نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور اس اقدام کے پس منظر اور مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اسکور بورڈ محض نتائج کی تعداد تک محدود رہنے کے بجائے ان کے معیار، اثرات اور باہمی تعاون کا بھی جائزہ لینے کے لیے تیار کیا گیا ہے، تاکہ ریاستیں اپنی مہارت کے شعبوں اور ترجیحی اقدامات کے لیے مخصوص شعبوں کی نشاندہی کرسکیں۔
محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی کے سکریٹری پروفیسر امیش وی واگھمرے نے کہا کہ یہ اسکور بورڈ سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلق قومی شواہد میں ریاستی سطح کی ایک اہم تصویر کا اضافہ کرتا ہے۔ انہوں نے ہندوستان میں تحقیقی بنیاد کو وسعت دینے میں ریاستی سائنس و ٹیکنالوجی کونسلوں اور ریاستی یونیورسٹیوں کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔ ارضیاتی سائنسز کی وزارت کے سکریٹری ڈاکٹر ٹی سری نواس کمار نے اس بات پر زور دیا کہ ارضیاتی سائنسز کا ہر ریاست سے گہرا تعلق ہے اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں مقامی صلاحیت ریاستوں کے لیے پیش گوئیوں، پیشگی انتباہات اور سمندری شعبے میں دستیاب مواقع سے مؤثر طور پر استفادہ کرنے کے لیے ضروری ہے۔
نیتی آیوگ کے رکن (سائنس و ٹیکنالوجی) پروفیسر ابھے کرندی کر نے اس بات پر زور دیا کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں مستحکم پالیسی سازی کی بنیاد قابلِ اعتماد اور قابلِ موازنہ شواہد پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک تحقیق اور اختراع سے متعلق اعداد و شمار مختلف ذرائع میں بکھرے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے ریاستوں کے لیے اپنی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینا مشکل رہا ہے۔ یہ اسکور بورڈ اس کمی کو دور کرتے ہوئے تحقیقی و اختراعی نظام، تحقیقی اشاعتوں اور پیٹنٹ سے متعلق اعداد و شمار کو ایک ہی باہمی رابطے پر مبنی مکالماتی ڈیش بورڈ پر یکجا کرتا ہے۔ اس میں کئی برسوں کے رجحانات بھی شامل ہیں، جس سے ریاستیں وقت کے ساتھ اپنی پیش رفت کا جائزہ لے سکتی ہیں۔
نیتی آیوگ کے نائب چیئرمین جناب اشوک کمار لہڑی نے اس بات پر زور دیا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہندوستان کی مزید ترقی کے لیے ریاستوں کو زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے باہمی تعاون اور مسابقتی وفاقیت کے اصول کی روشنی میں کہا کہ یہ اسکور بورڈ ریاستوں کو اپنی مضبوطیوں اور خامیوں کی نشاندہی کرنے، ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں بہتر پروگرام اور پالیسیاں وضع کرنے میں مدد دے گا۔ انہوں نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں پر زور دیا کہ وہ اس پلیٹ فارم سے بھرپور استفادہ کریں۔
یہ اسکور بورڈ سائنس و ٹیکنالوجی کے نظام سے متعلق اعداد و شمار کو یکجا کرتا ہے، جن میں اعلیٰ تعلیمی ادارے، تحقیق و ترقی کے ادارے، جدید ترین ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے نئے کاروباری ادارے اور اختراعی مراکز شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے کی تحقیقی اشاعتوں اور پیٹنٹ جیسے نتائج سے متعلق اعداد و شمار بھی شامل کیے گئے ہیں۔ یہ اسکور بورڈ نتائج کی محض تعداد سے آگے بڑھ کر تحقیق کے معیار، اثرات، باہمی تعاون اور ترجیحی تحقیقی شعبوں میں آزادانہ رسائی سے متعلق اشاریے بھی پیش کرتا ہے۔ اس میں تین شعبوں، یعنی تعلیمی اداروں، سرکاری تحقیقی و ترقیاتی تجربہ گاہوں اور صنعت سے متعلق معلومات شامل ہیں۔ یہ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کا پہلو بہ پہلو تقابلی جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ریاستی پالیسیوں اور بہترین طور طریقوں سمیت ہر ریاست کی تفصیلی معلومات بھی فراہم کرتا ہے۔
اجرا ءکے بعد اسکور بورڈ کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کرانے کے لیے ایک تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا اور اس کے طریقۂ کار اور اعداد و شمار کے ذرائع پر ایک تکنیکی اجلاس منعقد گیا گیا۔ ریاستی حکومتوں اور تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے پلیٹ فارم کی مزید ترقی کے لیے اپنی آراء اور تجاویز پیش کیں۔ ریاستوں کے نمائندوں نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم ان کی منصوبہ بندی میں معاون ثابت ہوگا اور ریاستی سطح پر سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں ادارہ جاتی صلاحیت اور ہنرمند افرادی قوت کی تیاری میں مدد دے گا۔ اس اجلاس میں ہونے والے تبادلۂ خیال سے اس بات کی توثیق ہوئی کہ ریاستی سطح پر سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلق قابلِ اعتماد اور قابلِ موازنہ شواہد کا مستحکم نظام، ریاستوں کے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں کو مضبوط بنانے اور وکست بھارت 2047 کے وژن کی جانب ملک کے سفر کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
انڈیا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسکور کارڈ یہاں ملاحظہ کریں: www.sts.niti.gov.in
****
ش ح۔ م ع۔ خ م
U.NO.7165