سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت اور حکومت بہار کے درمیان آبی ذخائر سے سائنسی طریقے سے گاد(کیچڑ) نکالنے اور قومی شاہراہوں کے منصوبوں میں اس کے استعمال کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط


کیچڑ نکالنے کے سائنسی طریقوں سے آبی ذخائر کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ، نکاسیٔ آب کے نظام میں بہتری اور سیلاب کے خطرات میں کمی آئے گی

‘ندی سنجیونی’ پہل کے تحت دریا کی بحالی، سیلاب کے انتظام اور زرعی تحفظ کو شاہراہوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ساتھ مربوط کیا جائے گا

قومی شاہراہوں کے جاری 16منصوبوں میں243 لاکھ مکعب میٹر کیچڑاستعمال کی جائے گی، جبکہ مستقبل کے 27 منصوبوں میں835 لاکھ مکعب میٹرکیچڑ کے استعمال کی تجویز ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 03 NOV 2026 4:13PM by PIB Delhi

آبی ذخائر کی بحالی کو بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ساتھ مربوط کرنے کی سمت ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے، سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت اور حکومت بہار نے آج بہار میں منتخب دریاؤں اور دیگر آبی ذخائر سے سائنسی طریقے سے کیچڑ(گاد) نکالنے اور اس عمل کے دوران نکالی گئی موزوں کیچڑ کو قومی شاہراہوں کی تعمیر کے منصوبوں میں استعمال کرنے کے لیے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس مفاہمت کی یادداشت پر نئی دہلی میں مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہیں جناب نتن گڈکری اور بہار کے وزیراعلیٰ جناب سمراٹ چودھری کی موجودگی میں دستخط کیے گئے۔

‘ندی سنجیونی’ کے نام سے شروع کی گئی اس پہل کا مقصد دریاؤں اور آبی ذخائر کی پانی کی گنجائش بحال کرنا، سیلاب سے نمٹنے کے انتظامات کو مضبوط بنانا، زرعی اراضی کا تحفظ کرنا اور قومی شاہراہوں کے منصوبوں کے لیے تعمیراتی مواد کا پائیدار ذریعہ فراہم کرنا ہے۔ اس پہل کے ذریعے بنیادی ڈھانچے کی توسیع میں معاونت کے ساتھ آبی وسائل کے انتظام سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی پیش کی گئی ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image001_20261103161426_13cee1.jpg

 

 اس پروگرام  سے خطاب کرتے ہوئے جناب نتن گڈکری نے کہا کہ دریاؤں میں کیچڑ جمع ہونے سے ان کی پانی بہانے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں سیلاب، زرعی اراضی کو نقصان اور املاک کا نقصان جیسے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ بہار کو بار بار سیلاب اور پانی کی قلت کے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر نیپال سے نکلنے والے دریاؤں کی وجہ سے، جو بڑی مقدار میں پانی اور کیچڑ ریاست میں لاتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سائنسی طریقے سے کیچڑ نکالنے سے پانی کے بہاؤ اور نکاسیٔ آب کے نظام میں بہتری آئے گی، آبی ذخائر بحال ہوں گے اور شاہراہوں کی تعمیر کے لیے نکالی گئی موزوں  کیچڑ دستیاب ہو سکے گی۔مرکزی وزیر نے کہا کہ اس پہل کے ذریعے ایک ایسا باہمی طور پر مفید نظام قائم ہوگا، جس میں دریاؤں کی بحالی سے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو تقویت ملے گی، جبکہ نکالی گئی کیچڑ کے استعمال سے نئی مٹی اور زرعی زمین سے حاصل ہونے والی مٹی پر انحصار کم ہوگا۔ اس سے زرخیز زرعی اراضی کا تحفظ کرنے، تعمیراتی لاگت گھٹانے اور شاہراہوں کے منصوبوں کی تکمیل میں تیزی لانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید زور دیا کہ اس پہل پر عمل درآمد بہار حکومت کے ساتھ تال میل کرتے ہوئے مناسب تکنیکی جائزوں اور حفاظتی اقدامات کے ساتھ کیا جائے گا۔ اس پہل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے جناب گڈکری نے کہا کہ اس نمونے کو اسی طرح کے مسائل کا سامنا کرنے والی دیگر ریاستوں میں بھی نافذ کیا جا سکتا ہے، جس سے پائیدار بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور آبی وسائل کے بہتر انتظام کو فروغ ملے گا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image002_20261103161433_12f662.jpg

اس موقع پر بہار کے وزیراعلیٰ جناب سمراٹ چودھری نے کہا کہ ریاست کو طویل عرصے سے بار بار آنے والے سیلاب کے خطرات کا سامنا رہا ہے، جن کے باعث کسانوں، زرعی اراضی، روزگار کے ذرائع اور بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچتا ہے۔ انہوں نے دریاؤں اور آبی ذخائر میں جمع ہونے والی گاد سے ان کی پانی بہانے کی صلاحیت پر پڑنے والے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے ان کے سائنسی انتظام کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ آبی ذخائر کی بحالی اور جمع شدہ  کیچڑ کے انتظام کے لیے ایک منظم نظام فراہم کرنے کی غرض سے بہار آبی ذرائع کی بحالی اور گاد کے انتظام سے متعلق پالیسی - 2026 وضع کی گئی ہے۔ اس پالیسی کے تحت سیلاب کے بعد زرعی اراضی پر جمع ہونے والی ریت اور  کیچڑ کو ہٹانے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے، جس سے متاثرہ کسانوں کو راحت ملے گی۔

مفاہمت کی یادداشت کا خیرمقدم کرتے ہوئے جناب چودھری نے کہا کہ اس پہل سے سیلاب کے انتظام، زرعی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی توسیع کے لیے بہار کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ آبی ذخائر کی بحالی سے ان کی پانی بہانے کی صلاحیت بہتر ہوگی، آب پاشی اور پینے کے لیے پانی کی دستیابی میں اضافہ ہوگا، زیرزمین پانی کی سطح کو دوبارہ بھرنے میں مدد ملے گی اور سیلاب سے متعلق خطرات کم کرنے میں بھی تعاون حاصل ہوگا۔ انہوں نے اس پہل پر عمل درآمد اور تجاویز پر بروقت کارروائی کو آسان بنانے کے لیے ریاستی حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image003_20261103161441_b02a44.jpg

شاہراہوں کے منصوبوں میں  کیچڑ کے استعمال کے وسیع امکانات

 ہندوستانی قومی شاہراہ اتھارٹی(این ایچ اے آئی) نے بہار میں قومی شاہراہوں کے منصوبوں میں نکالی گئی گاد کے استعمال کے وسیع امکانات کی نشاندہی کی ہے۔ اس پہل کے تحت  جاری 16منصوبوں میں243 لاکھ مکعب میٹر موزوں گاد استعمال کی جائے گی، جبکہ تکنیکی موزونیت اور ضروری منظوریوں سے مشروط 27 مستقبل کے منصوبوں میں835 لاکھ مکعب میٹر گاد کے استعمال کی تجویز ہے۔

فی الحال بہار میں این ایچ اے آئی کے 39 منصوبوں پر کام جاری ہے، جن کی مجموعی لمبائی تقریباً1,561 کلومیٹر ہے اور ان پر 58,340 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا تخمینہ ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 1,982 کلومیٹر طویل مزید11 منصوبے بھی تجویز کیے گئے ہیں، جن پر 1,85,200 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

نکالی گئی موزوں گاد کی دستیابی سے ان منصوبوں کے لیے درکار تعمیراتی مواد کی ایک بڑی ضرورت پوری ہونے، تعمیراتی لاگت کم کرنے اور شاہراہوں کے کاموں کو مقررہ وقت پر مکمل کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

حفاظتی اقدامات اور نگرانی کے ساتھ سائنسی طریقے سے عمل درآمد

اس مفاہمت کی یادداشت کے ذریعے بہار آبی ذرائع کی بحالی اور گاد کے انتظام سے متعلق پالیسی-2026 اور متعلقہ ماحولیاتی و قانونی ضوابط کے مطابق این ایچ اے آئی اور حکومت بہار کے درمیان تال میل کے ساتھ مقررہ مدت میں عمل درآمد کے لیے ایک ادارہ جاتی نظام قائم کیا گیا ہے۔

حکومت بہار کا محکمۂ تعمیراتِ سڑک (آر سی ڈی) نوڈل محکمہ کے طور پر کام کرے گا، جسے ریاستی سطح کی ایک رابطہ کمیٹی کی معاونت حاصل ہوگی۔ یہ کمیٹی تجاویز کا جائزہ لینے، منظوریوں کے حصول میں سہولت فراہم کرنے، عمل درآمد کی نگرانی کرنے اور عملی مسائل کو حل کرنے کی ذمہ داری نبھائے گی۔

منتخب آبی ذخائر سے گاد نکالنے کا کام تفصیلی تکنیکی جائزوں کے بعد سائنسی طریقوں سے انجام دیا جائے گا۔ گاد نکالنے کی اجازت صرف منظور شدہ مقامات پر اور مقررہ تکنیکی حدود کے اندر دی جائے گی، تاکہ دریائی ماحولیاتی نظام، دریا کے کناروں، پشتوں، پلوں اور دیگر تعمیرات پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔

قومی شاہراہوں کی تعمیر میں نکالی گئی گاد کے استعمال کی موزونیت کا تعین، سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت کی متعلقہ تکنیکی وضاحتوں اور انڈین روڈز کانگریس(آئی آر سی)کے متعلقہ ضابطوں کے مطابق مناسب جانچ کے ذریعے کیا جائے گا۔ شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ پیمائش، ڈجیٹل ریکارڈ کی تیاری، باقاعدہ نگرانی اور نکالی گئی، منتقل کی گئی اور استعمال کی گئی گاد کی مقدار کا وقتاً فوقتاً باہمی موازنہ کیا جائے گا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image004_20261103161450_37eb91.jpg

بہار بھر میں رابطے کے نظام کو وسعت دینا

حکومت ہند نے بہار میں قومی شاہراہوں کے بنیادی ڈھانچے کو نمایاں طور پر وسعت دی ہے۔ ریاست میں قومی شاہراہوں کا جال 2014 میں چار ہزار چھ سو پندرہ(4,615 ) کلومیٹر تھا، جو بڑھ کر اب تقریباً 6,500 کلومیٹر ہو گیا ہے۔ 2014 سے اب تک بہار کے بڑے دریاؤں پر تقریباً 29 نئے پلوں کی تعمیر کا کام بھی شروع کیا گیا ہے، تاکہ علاقائی رابطے کو مضبوط بنایا جا سکے اور لوگوں اور سامان کی آمد و رفت میں سہولت ہو۔

یہ مفاہمت کی یادداشت پائیدار وسائل کے استعمال کے ذریعے دریاؤں کی بحالی، سیلاب کے انتظام، زرعی اراضی کے تحفظ اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ نکالی گئی گاد کو تعمیر کے لیے کارآمد مواد میں تبدیل کرکے یہ پہل زرعی اراضی کے تحفظ، شاہراہوں کی تعمیر میں کارکردگی بہتر بنانے اور آبی ذخائر کی بحالی میں مدد دے گی۔

‘ندی سنجیونی’ پائیدار ترقی کے ایک ایسے نمونے کی نمائندگی کرتی ہے، جس میں دریاؤں کی بحالی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ اس طرح ایک زیادہ مستحکم، بہتر طور پر مربوط اور خوش حال بہار کی راہ ہموار ہوگی۔

اس موقع پر این ایچ اے آئی کے چیئرمین جناب سنتوش کمار یادو، ڈائریکٹر جنرل جناب سدیپ چودھری، این ایچ آئی ڈی سی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب کرشنا کمار، حکومت بہار کے سکریٹریز جناب پنکج پال اور جناب اتل کمار کے علاوہ دیگر اعلیٰ  افسران اور معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image005_20261103161457_bb7ac2.jpg

 

*****

 

ش ح-ظ الف- ت ع

UR No. 7157

 


(ریلیز آئی ڈی: 2332093) وزیٹر کاؤنٹر : 14
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी