پوسٹ کرنے کی تاریخ:
03 NOV 2026 1:59PM by PIB Delhi
رمیش کمار (تبدیل شدہ نام) کے لیے منشیات کی طلب کی روک تھام کے قومی ایکشن پلان ( این اے پی ڈی ڈی آر) اسکیم محض نشے کی لت سے نجات کے علاج تک رسائی کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ اس نے اسے نشے کی عادت پر قابو پانے، اپنا اعتماد بحال کرنے اور عزت و وقار کے ساتھ زندگی کو ازسرنو سنوارنے کا موقع بھی فراہم کیا ہے۔
اس کا یہ سفر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بروقت اقدام، پیشہ ورانہ بازآبادکاری، اہل خانہ کی مدد اور مسلسل نگہداشت و نگرانی کس طرح نشے کی لت میں مبتلا افراد کو اس سے نجات دلانے اور انہیں دوبارہ معاشرے کے دھارے میں شامل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تلنگانہ کے ضلع پیداپلی کے رہنے والے 40 سالہ رمیش کمار کو شراب نوشی کی لت کے باعث ذاتی، خاندانی اور پیشہ ورانہ زندگی میں سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ شراب نوشی کی ابتدا جوانی کے ابتدائی دور میں دوستوں کے دباؤ اور منفی سماجی اثرات کے تحت ہوئی، جو رفتہ رفتہ ایک لت میں تبدیل ہوگئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کے صحت، خاندانی تعلقات، رویے اور روزگار پر منفی اثرات مرتب ہونے لگے۔
اسے ذہنی و جذباتی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا، اس نے سماجی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور مالی و پیشہ ورانہ استحکام برقرار رکھنا اس کے لیے مشکل ہوگیا۔ ان تمام مشکلات کے باوجود وہ علاج کروانے اور اپنی زندگی کو ازسرنو سنوارنے کے لیے آمادہ رہا، جبکہ اس کے اہل خانہ نے صحت یابی کی جانب اس کے سفر میں مسلسل اس کا ساتھ دیا۔
اس کی زندگی میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کی وزارت کی منشیات کی طلب کی روک تھام کے قومی ایکشن پلان (این اے پی ڈی ڈی آر) اسکیم کے تحت مداخلت کی گئی۔ اس اسکیم کے تحت تلنگانہ کے ضلع پیداپلی میں پراکرتی انوائرنمنٹ سوسائٹی کے زیرِ انتظام نشے کے عادی افراد کے لیے مربوط بازآبادکاری مرکز (آئی آر سی اے) کے ذریعے اسے نشے کی لت سے نجات کے لیے جامع علاج اور بازآبادکاری کی سہولتیں فراہم کی گئیں۔
اس معاونت میں طبی نگرانی، انفرادی اور خاندانی مشاورت، اجتماعی علاج، حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی مشاورت، دوبارہ نشے کی لت میں مبتلا ہونے سے بچاؤ کی تھراپی اور باقاعدہ فالو اَپ نشستیں شامل تھیں۔
بازآبادکاری کے اس پروگرام نے اسے مشکلات سے نمٹنے کے مؤثر طریقے اپنانے، خود اعتمادی بحال کرنے اور نشے کی لت سے وابستہ جذباتی اور نفسیاتی مسائل پر قابو پانے میں مدد فراہم کی۔ اسے پیشہ ورانہ رہنمائی، طبی علاج اور سماجی طور پر دوبارہ معاشرے میں شامل ہونے کے لیے بھی تعاون فراہم کیا گیا۔ مسلسل مشاورت اور اہل خانہ کی شمولیت نے صحت یابی کے تئیں اس کے عزم کو مضبوط بنانے اور صحت مند طرزِ زندگی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس اقدام کے نتیجے میں اس کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔ رمیش نے شراب کی لت پر کامیابی کے ساتھ قابو پالیا ہے اور اب وہ شراب نوشی سے مکمل طور پر دور رہتے ہوئے باقاعدگی سے ملازمت کر رہا ہے۔
اس کے روزگار میں بھی استحکام آیا ہے اور فی الحال وہ ماہانہ تقریباً 12,000 سے 15,000 روپے کما رہا ہے۔ اس کی صحت، جذباتی کیفیت اور مالی استحکام میں بہتری نے خاندانی حالات کو بھی بہتر بنانے میں مدد دی ہے۔
****
ش ح۔ م ع۔ خ م
U.NO.7144