سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

آدتیہ-ایل 1 پر نصب وی ای ایل سی نے شمسی دھماکوں  میں غیرمتناسب  اضافے کا انکشاف کیا، جس سے خلائی موسم متاثر ہو سکتا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 03 NOV 2026 12:17PM by PIB Delhi

بھارت کی پہلی خلائی شمسی آبزرویٹری آدتیہ-ایل 1 نے سائنس دانوں کو شمسی دھماکوں یعنی کورونل ماس ایرپشن( سی ایم ای) میں اضافے کی نوعیت کا مشاہدہ کرنے اور اس کے بارے میں نئی معلومات حاصل کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔ یہ پیش رفت خلائی موسم کے مطالعے کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ خلائی موسم ہمارے مصنوعی سیارچوں اور مواصلاتی نیٹ ورکس کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

ستمبر 2023 میں روانہ کیا گیا آدتیہ-ایل 1 سیٹلائٹ اب سورج اور زمین کے درمیان واقع ایل 1 مقام پر فعال ہے اور سورج کا مسلسل مشاہدہ کر رہا ہے۔ اس میں سات پے لوڈ  نصب ہیں، جن میں ویژبل ایمیشن لائن کورونوگراف (وی ای ایل سی) پے لوڈ  بطور خاص ہے۔ یہ ایک مخصوص قسم کا کورونوگراف ہے، جسے اندرونی حصے سے آنے والی براہِ راست روشنی کو روک کر سورج کے بیرونی ماحول (کورونا) کا بیک وقت مختلف طریقوں سے مشاہدہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

آدتیہ-ایل 1 پر نصب ویژبل ایمیشن لائن کورونوگراف سے حاصل کردہ اعداد و شمار کو ناسا کے خلائی جہاز ایس ڈی او سے موصول ہونے والے تکمیلی مشاہداتی اعداد و شمار اور تھری ڈائمنشنل ماڈلنگ کے ساتھ یکجا کرکے محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے ایک خود مختار ادارے، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹرو فزکس (آئی آئی اے) کے سائنس داں شمسی دھماکوں  کی مکمل تھری ڈی  ساخت اور حرکیات کی تشکیل نو کرنے میں کامیاب ہوئے۔

ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز میں شائع ہونے والی اس تحقیق سے پہلی بار یہ بات سامنے آئی ہے کہ سی ایم ای، جیسا کہ پہلے خیال کیا جاتا تھا، سورج سے ایک سادہ اور متناسب بلبلے کی شکل میں باہر کی جانب نہیں پھیلتا، بلکہ اس کا پھیلاؤ غیر یکساں ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں اس کی شکل غیر متناسب ہو جاتی ہے۔ سی ایم ای کے پھیلاؤ میں یہ فرق زمین کی جانب سفر کے دوران اس کی رفتار کو متاثر کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں خلائی موسم میں خلل پیدا ہو سکتا ہے۔

وی ای ایل سی کورونا میں انتہائی آئنائزڈ آئرن ایٹموں کی وجہ سے 530.3 این ایم ویو لینتھ  سبز اخراج لائن میں اسپیکٹرواسکوپی کے ذریعے ابتدائی مرحلےکے سی ایم ای کا مطالعہ کرتا ہے ۔ یہ لائن اخراج گرم کرونال پلازما پر قبضہ کرتا ہے جو تقریبا 1.8 ملین کیلون کے درجہ حرارت پر ہے۔ ڈوپلر شفٹ  یا اس اخراج کی لکیر کی ویو لینتھ میں تبدیلی نظر کی لکیر کے ساتھ ساتھ اور سولر ڈسک کے قریب پلازما کی رفتار کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے ۔

اس منفرد صلاحیت کے حامل وی ای ایل سی کو آئی آئی اے نے ہاساکوٹے میں کریسٹ کیمپس کے ایم جی کے مینن لیب برائے خلائی سائنسز میں تیار کیا اور اس کی تیاری عمل میں لائی، جس میں بھارتی خلائی تحقیقی ادارے (اسرو) نے نمایاں تعاون فراہم کیا۔

آئی آئی اے میں پی ایچ ڈی کے طالب علم اور اس تحقیق کے سرکردہ مصنف سوربھ ترپاٹھی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے 5 اگست 2024 کو ہونے والے سی ایم ای کا مشاہدہ وی ای ایل سی کے ساتھ ساتھ ناسا کی سولر ڈائنامکس آبزرویٹری (ایس ڈی او) پر نصب ایٹماسفیرک امیجنگ اسمبلی (اے آئی اے) سے حاصل کردہ اعداد و شمار کی مدد سے کیا۔‘‘ یہ سی ایم ای سورج کے مغربی کنارے کے قریب واقع ایک سرگرم خطے سے خارج ہوا تھا۔ وی ای ایل سی کے اسپیکٹرواسکوپک  اعداد و شمار سے ڈوپلر کا ایک غیر معمولی مگر واضح نمونہ سامنے آیا، جس میں اخراجی روشنی میں نیلے اور سرخ رنگ کی سمت تبدیلی دیکھی گئی۔ یہ تبدیلی بالترتیب ہماری جانب اور ہم سے دور حرکت کرنے والے پلازما کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔

آئی آئی اے کے شمسیات کے ماہر اور اس تحقیق کے رابطہ کار مصنف تنمئے سمنت نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’’ہمارے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ سی ایم ای کا پھیلاؤ یکساں نہیں تھا۔ اے آئی اے کی تصاویر نے یہ دکھایا کہ سی ایم ای آسمان میں کس طرح آگے بڑھا، جبکہ وی ای ایل سی نے پھیلتے ہوئے سی ایم ای کے بلبلے کی ہماری جانب اور ہم سے دور حرکت کو ظاہر کیا۔‘‘ ان دونوں مشاہدات کو یکجا کرنے سے معلوم ہوا کہ سی ایم ای ایک سادہ گول بلبلے کی طرح نہیں پھیلا، بلکہ اس کے غیر یکساں پھیلاؤ کے باعث اس کی شکل غیر متناسب ہو گئی۔

آئی آئی اے کے جینت جوشی، جو اس تحقیق کے شریک مصنف بھی ہیں، نے کہا، ’’وی ای ایل سی کے ذریعے مشاہدہ کیے گئے اسپیکٹرل  نمونے کی غیرمعمولی نوعیت کو سمجھنے کے لیے ہم نے پھیلتے ہوئے سی ایم ای کا ایک تھری ڈی ہندسی و حرکیاتی ماڈل تیار کیا۔‘‘ اس ماڈل کے ذریعے یہ جانچ کی گئی کہ سی ایم ای کی سمت اور اطراف میں اس کا غیر یکساں پھیلاؤ کس طرح وہ اسپیکٹرل  ساخت پیدا کر سکتا ہے، جس کا مشاہدہ وی ای ایل سی نے کیا تھا۔ یکساں پھیلاؤ پر مبنی ماڈل مشاہدہ کیے گئے نمونے کی وضاحت نہیں کر سکا۔ اس کے برعکس، سی ایم ای کے مائل محور اور اطراف میں غیر متناسب پھیلاؤ پر مبنی ماڈل سے ایسا اسپیکٹرل  نمونہ اور وقت کے ساتھ اس میں ایسی تبدیلی سامنے آئی، جو وی ای ایل سی کے مشاہدات سے مطابقت رکھتی تھی۔ محققین کا ارادہ ہے کہ وہ اس تکنیک کو دیگر سی ایم ای پر بھی استعمال کریں گے، تاکہ خلا میں موجود دوربینوں سے مختلف زاویوں سے حاصل کردہ تصاویر پر مکمل انحصار کیے بغیر ان کی حرکت کی تشکیل نو کی جا سکے۔ یہ باہمی تکمیل بالخصوص کورونا کے نچلے حصے میں بہت اہم ہے، جہاں سی ایم ای تیزی سے اپنی شکل بدلتے ہیں اور صرف تصویری مشاہدے کی مدد سے نظر کی سمت میں ان کی حرکت کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔

تصویر: (بائیں) سورج کے کورونا کی مرکب تصویر، جس میں بھارت کے آدتیہ-ایل 1/وی ای ایل سی (بیرونی حصہ، سورج کے نصف قطر کے 1.05 سے 1.5 گنا فاصلے تک) اور ناسا کے ایس ڈی او/اے آئی اے (اندرونی ڈسک) سے حاصل کردہ اعداد و شمار کو یکجا کیا گیا ہے۔ (اوپر دائیں) شمسی اخراج کے دوران آدتیہ-ایل 1/وی ای ایل سی کے ذریعے ریکارڈ کیے گئے اسپیکٹرا، جن میں اخراج کی دو واضح شاخیں دکھائی گئی ہیں؛ ایک مختصر ویولینتھ  کی جانب منتقل ہوئی ہے (جو ہماری جانب حرکت کرنے والے پلازما کو ظاہر کرتی ہے) اور دوسری طویل ویب لینتھ کی جانب (جو ہم سے دور حرکت کرنے والے پلازما کی نشاندہی کرتی ہے)۔ یہ تھری ڈائمنشنل اور غیر متناسب شمسی دھماکے کی اسپیکٹرا سے متعلق  علامت ہے۔ (نیچے دائیں) ماڈل کے ذریعے تیار کردہ اسپیکٹرا، جو مشاہدہ کیے گئے نمونے کی وضاحت کرتے ہیں اور اندرونی کورونا میں سی ایم ای کے اطراف میں غیر متناسب پھیلاؤ کی تصدیق کرتے ہیں۔

جوشی نے کہا، ’’ابتدائی مرحلے میں سی ایم ای کی غیر متناسب شکل کے اس بات پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں کہ وہ شمسی ہوا کے ساتھ کس طرح کی سرگرمی کرسکتا ہے اور ہیلیواسفیئر میں سفر کے دوران اسے کس قدر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ اثرات سی ایم ای کی رفتار اور بالآخر زمین تک اس کے پہنچنے کے وقت کو متاثر کر سکتے ہیں۔‘‘

اشاعت کا لنک: https://doi.org/10.3847/2041-8213/aea295

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح –م ش-ع ن)

U. No. 7139


(ریلیز آئی ڈی: 2331967) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , Marathi , Gujarati